صدر مملکت عارف علوی نے چند روز قبل جنوبی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے نائیک فضل جانان اور خیبر میں شہید نائیک نذیراللہ محسود، نائب صوبیدار حضرت گل کے لواحقین اور شہید سپاہی حامد رسول کے بھائی سے بھی فون پر بات کی۔اس موقع پر صدر عارف علوی نے شہداء کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے مکمل خاتمیکے لیے متحد ہے۔
صدر مملکت نے یہ تو کہہ دیا کہ دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قوم کو صرف دہشت گردی کے خلاف ہی متحد ہونا ہے اور کیا قوم کے پاس یہ سوچنے کے لیے وقت ہے کہ اسے دہشتگردی ختم کرنے کے لیے متحد ہونا ہے۔ دہشتگردوں کا قلع قمع تو قانون نافذ کرنے والے ادارے بالخصوص افواج پاکستان کے جوان کر رہے ہیں۔ یہ تو خالصتا فوج کی کارروائیوں سے ہو رہا ہے۔ ایک عرصے سے فوجی جوان ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ یہ تو افواج پاکستان کا فیصلہ ہے کہ ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنا ہے اور اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دفاعی ادارے دن رات کام کر رہے ہیں۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے وہ قیمتی جانوں کی قربانی بھی دے رہے ہیں۔ اس معاملے میں قوم کے متحد ہونے سے زیادہ کسی اور کا متحد ہونا زیادہ ضروری ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ صدر پاکستان نے یہ تو کہہ دیا کہ قوم متحد ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی اپنی سیاسی جماعت یعنی پاکستان تحریک انصاف متحد ہے یا نہیں کیونکہ ان کی جماعت کو تو افواج پاکستان سے بہت شکایات ہیں۔ ان کی جماعت کی اعلی قیادت تو افواج پاکستان کو بہت سخت الفاظ میں مخاطب کرتی ہے۔ ماضی قریب میں شہدا کے خاندانوں کی طرف سے اس حوالے سے بہت شدید ردعمل بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ اس لیے صدر مملکت کو قوم کے متحد ہونے کے پیغام میں بوقت ضرورت تبدیلی ضرور کرنی چاہیے کیونکہ قوم کو اس سے بھی زیادہ اخلاقی اور سماجی طور پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت قوم پر رحم کریں اور اس مسئلے پر سب سے پہلے اپنی جماعت کی اعلی قیادت کو متحد کریں۔ قوم کا دہشت گردوں کے خلاف متحد ہونا اہم ہے تو اسی جذبے کے ساتھ قوم کا سیاسی اور اخلاقی طور پر بھی متحد ہونا بہت اہم ہے۔ کیا صدر پاکستان قوم کو سیاسی طور پر متحد کرنے میاں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تو افواج پاکستان کے جذبے، لگن اور قربانیوں کی وجہ سے قوم متحد ہے کیونکہ قوم جانتی ہے کہ فوج کے افسران اور جوان دفاع وطن کے لیے اپنی قیمتی جانوں کو قربان کر رہے ہیں اس لیے قوم کو یقین ہے کہ اس حوالے سے بہترین کام ہو رہا ہے۔ جہاں تک تعلق سیاسی انتشار اور تقسیم کا ہے صدر مملکت کو اس سلسلے میں اپنا کردار نبھانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں تقسیم اس حد تک شدت اختیار کر چکی ہے کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنان ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ برداشت کرنا، بات کرنا تو بہت دور کی بات ہے انہوں نے تو اس حد تک خود کو ایک دوسرے سے الگ سمجھنا شروع کر دیا ہے کہ جیسے پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ ن والوں کو ملک میں رہنے کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح ان جماعتوں کی قیادت اور کارکنان پاکستان تحریک انصاف کے بارے یہی رائے رکھتے ہیں۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اعلی قیادت معاملات کو قابو میں لانے کے بجائے جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے۔صدر مملکت اگر واقعی ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو سیاسی اتحاد کے لیے کام کریں۔ نفرتیں ختم کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ بات چیت کے دروازے کھولیں اپنے سیاسی دوستوں کو تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرنے کے لیے قائل کریں۔ گفتگو کے دروازے کھولیں۔ دہشتگردی کی مذمت کریں اور اپنے لوگوں کی تربیت پر توجہ دیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ ملک میں اتحاد کی کمی ہے، تقسیم بہت واضح اور شدید ہے ان حالات میں وقت گذارنے کے لیے صرف باتوں کی روش ترک کرنا ہو گی۔ ہمیں اپنے بہتر مستقبل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر ظفر اللہ نے وزیراعظم میاں شہباز شریف کو تجویز دی ہے کہ وہ اگلے جمعہ عمران خان کو افطار پر بلوا لیں۔ چونکہ دونوں بڑی جماعتوں کے رہنما ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں ان حالات میں یہ بہت اچھی تجویز ہے۔ اسی طرح چیئرپرسن ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان حنا جیلانی کے مطابق اگر عمران خان واقعی ڈائیلاگ چاہتے ہیں تو انہیں وزیراعظم شہباز شریف کے پاس جانا چاہیے۔ کیا صدر مملکت کو اس حوالے سے کام نہیں کرنا چاہیے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں اتحاد کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے خود کو پاکستان تحریک انصاف کے نمائندے کے بجائے غیر جانبدار ثابت کرنا ہو گا۔ جب تک ان کی غیر جانبداری پر یقین نہیں ہوتا اس وقت تک کوئی ان کی بات نہیں سنے گا۔ عوامی سطح پر تقسیم تو خطرناک ہے اس سے بھی زیادہ پریشان کن اداروں میں بڑھتی ہوئی تقسیم ہے۔ اگر ادارے ہی متنازع ہو جائیں تو ریاست کے معاملات کیسے آگے بڑھیں گے۔ بالخصوص انصاف فراہم کرنے والے ادارے کے حوالے سے پائی جانے والی تقسیم بہت خطرناک ہے۔ سو اب بات بگڑ چکی ہے پہلے تو دو کونسلر آمنے سامنے ہوتے تھے تو محلہ داروں کی پریشانی ختم نہیں ہوتی تھی اب ناصرف ملک کے نمایاں سیاستدان آمنے سامنے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں میں بھی تقسیم عوامی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ صدر مملکت سمیت تمام اہم شخصیات کو ملک و قوم کے بہتر مستقبل کی خاطر آگے بڑھنا ہو گا۔
کیا قوم متحد ہے؟؟؟؟