مہمان کالم - لداخ سے اردو ادب تک: عبدالغنی شیخ کو نایاب خراج، نگینہ انٹرنیشنل کا تاریخی شمارہ لداخ سے اردو ادب تک: عبدالغنی شیخ کو نایاب خراج، نگینہ انٹرنیشنل کا تاریخی شمارہ

جموں و کشمیر میں اردو زبان و ادب کو معیار بخشنے اور اس کے فروغ دینے میں جن ادبی رسالوں نے کلیدی اور مخلصانہ رول نبھایا ہے ان میں نگینہ انٹرنیشنل  کا نام سرفہرست ہے اور سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ کئی دہائیوں سے مسلسل چھپنے والا یہ رسالہ نہ صرف تجربہ کار ادباء کو ہی بلکہ نوآموز قلمکاروں کی نگارشات کو جگہ فراہم کرکے یہ عندیہ دیتا ہے کہ نگینہ انٹرنیشنل ادبی خدمات انجام دینے میں کسی قسم کا امتیاز نہیں برتتا ہے۔ سالنامہ جولائی تا دسمبر 2024، نگینہ انٹرنیشنل نے خصوصی شمارے کے تحت شائع کیا ہے۔ اس میں مرحوم عبدالغنی شیخ لداخی کی حیات اور ادبی زندگی و کارناموں پر مختلف ادباء کے کالم، تبصرے اور مضامین شامل خدمت کرکے خط لداخ کی اس طاقتور اور معیاری افسانوی آواز کو اچھے الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرنے کی بہترین کوشش کی گئی ہے۔ شمارے کا اداریہ 'بات سے بات' جناب وحشی سعید صاحب نے لکھا ہے جو اس رسالہ کے مدیر بھی ہیں۔ اداریے میں کتابوں کی اہمیت، موجودہ دور میں کتب بینی کی صورتحال اور حال ہی میں سرینگر میں منعقد ہونے والے چنار کتابی میلہ کے حوالے سے بھی بات ہوئی ہے۔ اشرف عادل اور عالم بنارسی کے حمدیہ اور نعتیہ کلام کے بعد عشاق کشتواڑی نے مرحوم عبدالغنی شیخ کو ایک نظم کی صورت میں اپنا خراج پیش کیا ہے۔ گفتگو بند نہ ہو، سلیم سالک کا شیخ عبدالغنی لداخی سے لیا گیا انٹرویو بھی اس خاص شمارے میں شامل کیا گیا ہے۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوتا ہے کہ شیخ عبدالغنی لداخی نے ساتویں جماعت سے ہی لکھنا شروع کیا ہے جب ان کا ایک لطیفہ "پیام تعلیم" مکتبہ جامعہ دہلی کے رسالے میں شائع ہوا تھا۔ بعدازاں ان کی نگارشات "شمع" اور "بانو" میں بھی شائع ہوئیں۔ ان کی متعدد کہانیوں کو دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا ہے جو ملکی اور عالمی سطح پر کافی پزیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ شیخ عبدالغنی لداخی نام ہی کافی ہے، خصوصی شمارے میں شائع ہوا یہ مفصل و مدلل مضمون انجینئر شفیع احمد نے قلمبند کیا ہے۔ موصوف نے شیخ صاحب کے ساتھ لداخ میں ہوئی پہلی ملاقات کو بھی مضمون کا حصہ بنایا ہے اور کہتے ہیں کہ شیخ صاحب ایک قدآور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ فہم و فراست کے بھی مالک تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ شیخ صاحب ایک متحرک ادیب تھے اور وہ مختلف ممالک میں گھوم کر کئی سفرنامے بھی لکھ چکے ہیں۔ مرحوم شیخ عبدالغنی لداخی نے نامور ادیب اور قلمکار نور شاہ صاحب کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں درخواست کیا گیا تھا کہ ان کے چار افسانچے نگینہ انٹرنیشنل کے اگلے شمارے میں شامل کئے جائیں۔ مرحوم کی فرمائش کو عملی جامہ پہناکر نگینہ انٹرنیشنل کے اس خصوصی شمارے میں بالآخر جگہ دی ہی گئی۔ یہ افسانچے نالائق، میں نہ مانوں، عقل مند کو اشارہ کافی ہے اور انہیں ولی کہوں یا درویش، قابل ذکر ہیں۔ عبدالغنی شیخ لداخی کی کہانیوں میں لداخ، عبدالرشید راہگیر لداخی کا یہ طویل اور جاندار و شاندار مضمون عبدالغنی شیخ کی زندگی اور کارناموں کا اچھی طرح احاطہ کرتا ہے۔ موصوف کے مطابق اکبر لداخی کے بعد شیخ عبدالغنی ہی لداخ کے دوسرے بڑے افسانہ نگار ہونے کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ لداخ کا پہلا ناول نگار ہونے کا سہرا شیخ صاحب کے سر ہی جاتا ہے۔ عبدالرشید راہگیر نے شیخ عبدالغنی لداخی کے تمام افسانوی مجموعوں جیسے "زوجیلا کے آرپار، دوراہا، the parsaking paradise، دو ملک ایک کہانی پر اور "وہ زمانہ" اور "دل ہی تو ہے" ناولوں پر مختصر مگر جامع کلمات تحریر کرکے ان کے ادبی قد کا احاطہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ بقول رشید راہگیر عبدالغنی شیخ کی اکثر کہانیوں میں لداخ کی تاریخ، رہن سہن، کلچر اور لداخ کا پس منظر کہیں نہ کہیں نظر آ ہی جاتا ہے۔ شیخ عبدالغنی کے ایک افسانے ہوا کا تجزیاتی مطالعہ بھی قارئین اس شمارے میں ملاحظہ کرسکتے ہیں جو مشہور شاعر و افسانہ نگار پرویز مانوس نے لکھا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں کہ ہوا کو علامت کے طور پر استعمال کرکے مصنف نے فنکارانہ انداز میں دکھا دیا ہے کہ کس طرح ایک پرسکون گاؤں میں مزہبی اور سیاسی اختلافات کے باعث نفرت اور ظلم کے طوفان بدامنی کا باعث بنتے ہیں اور انسانیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ رنگ لالہ زار کے، افسانوی دنیا کے شہنشاہ نور شاہ صاحب نے اس تحریر میں نہ صرف شیخ عبدالغنی لداخی کا تعارف پیش کیا ہے بلکہ ان پر انہیں اس لئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ لداخ جیسے برفیلے اور دوردراز علاقے کی بکھری ہوئی زندگی کو اپنے منفرد انداز میں کہانیوں میں سمیٹ لیتے ہیں۔ نور شاہ کا مزید کہنا ہے کہ شیخ عبدالغنی ایک خاموش سمندر تھے اس سمندر کو قلم کی قوت سے کاغذ پر بکھیرنا انہیں خوب آتا تھا۔ وحشی سعید ادب، محبت اور سفر ایک جائزہ، روزنامہ تعمیل ارشاد کے مدیر جناب ناظم نزیر صاحب کا یہ طویل، پرمغز اور شاندار مضمون وحشی سعید صاحب کی زندگی، ان کی ادبی خدمات اور ان کی شخصیت کے مختلف گوشوں پر تفصیلی روشنی ڈالتا ہے۔ بقول ناظم نزیر وحشی سعید صاحب کے ادبی ذوق، فراخدلی اور ادب نوازی کا ہر شخص معترف ہے۔ نوجوان انشائیہ نگار ایس معشوق کا انشائیہ جب ہم مبتلا ہوئے بھی اس شمارے کے مشمولات میں شامل ہے۔ ڈاکٹر احسان عالم کے دو بلکہ سراج زیبائی، ڈاکٹر پریمی رومانی،ڈاکٹر رؤف خیبر اور ڈاکٹر علی عباس کے ایک ایک مضمون کو بھی اس خاص شمارے میں جگہ ملی ہے جن سے قارئین حضرات بخوبی استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ منظومات کی بات کریں تو متعدد کہنہ مشق شعراء کرام کے ساتھ ساتھ نوآموز شعراء کی تخلیقات بھی جگہ پانے میں کامیاب ہوئیں ہیں۔ رفیق راز، رخسانہ جبین، ڈاکٹر راشد، نزیر فتح پوری، استوتی اگروال، ظفر اقبال، محمد نعیم خان، مبارک لون وغیرہ وغیرہ کی تخلیقات اس میں شامل ہیں۔ آنندی اور اندر کی بات، تنویر اختر رومانی کے دو افسانچے سماج میں جنم لینے والے ناسور کی نشاندہی کرتے ہیں اور ہماری گھریلو زندگی کس طرح متاثر ہوتی ہے مختصر کہانی کے زریعے دکھایا گیا ہے۔ ارم رحمان کا افسانہ روشنی، ایک علامتی افسانہ ہے جو روشنی کو بطور علامت استعمال کرکے انسانی سماج کو ایک گہرا اور نصیحت آموز سبق دینا چاہتا ہے۔ بدخاہ کشمیری کہانی، انجینئر شفیع احمد کی یہ کہانی ماں باپ کا اپنے اولادوں کے تعین ہمدردی اور درد اور اولادوں کی بے حسی اور غیر زمہ دارانہ طرز عمل کو اجاگر کرتا ہے۔ سچے پیار کی ادھوری کہانی، ڈاکٹر رونق جمال کا یہ رومانوی افسانہ قاری کو اول تا آخر کشش کرتا ہوا نظر آتا ہے اور یہ کہانی بین مزاہب دلوں کی داستان سناتا ہے جو عمر کے آخری ایام تک ایک دوسرے کے سچے خیرخواہ اور وفادار نکلتے ہیں۔ ایکس وای، ڈاکٹر نزیر مشتاق اس افسانہ کے زریعے عورتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ناکردہ گناہوں کی سزا کا اصل قصور وار مرد کو اس لیے ٹھہراتا ہے کہ اسی کے خلیہ میں ایکس اور وای کروموسوم ہوتے ہیں۔ دل ناتواں، فرخندہ ضمیر احمد کا یہ افسانہ سماج میں پھیل رہی بے حیائی اور بے پردگی کے نتائج کو ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح عریانی اور نیم برہنی کپڑوں میں ملبوس عورتوں کو ہوس پرست لوگ اندھیرے اور موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنا شکار بناتے ہیں۔ مٹی کی خوشبو، برصغیر کے ممتاز افسانہ نگار جناب نور شاہ صاحب کا افسانہ ان لوگوں کی داستان سنا رہا ہے جو کسی کام کے سلسلے میں وادی گلپوش سے باہر اپنے شب و روز گزارتے گزارتے اپنے آبائی وطن کو تقریباً بھول ہی جاتے ہیں نتیجتاً وہ اپنی مٹی کی خوشبو سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حیدر کا اکلوتا بیٹا معصوم حادثے کا شکار ہو کر اس کی خواہش تو پوری ہوتی ہے مگر حیدر کو عمر بھر بیٹے کا غم ستاتا رہے گا کیونکہ بقول اس کے، اس قدر جلدی بھی کیا تھی۔ مشتاق مہدی کا ڈرامہ انسان، بھی رسالہ کے مشمولات میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ نگینہ انٹرنیشنل، سلوٹیں، ٹوٹتی جڑتی زندگی اور مظفر حنفی حیات و جہات جیسی تصنیفات پر تحریر کردہ تبصرات قارئین کے نظروں سے گزرتے ہیں۔ ادبی جھلکیاں، نور شاہ صاحب نے سال 2024 میں نگینہ انانٹرنیشنل، فکشن رائٹرز گلڈ اور دیگر ادبی تنظیموں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ادبی تقریبات کا تفصیلی خلاصہ اور جائزہ پیش کرتے ہوئے ان تقریبات میں مختلف کتابوں کی رسم رونمائی انجام دینے اور ادباء کو اعزازات نوازنے کی خبروں سے قارئین کو محظوظ کیا ہے۔ پروفیسر مخمور حسین بدخشی اور صابردت کی حیات اور ادبی خدمات پر نور شاہ صاحب کے دو مضامین بھی اس رسالہ میں شامل ہیں جو ان کے کارناموں اور گہری ادبی دلچسپی کا خوبصورت احاطہ کرتے ہیں۔ آخر پر قند مکرر کے تحت پروفیسر حامدی کشمیری کا مضمون تخلیقی زبان کے مسائل، عام فہم اور تخلیقی زبان میں واضح فرق کرتا ہوا نظر آتا ہے، اسی سلسلے کے تحت دوسرا مضمون، مادری زبان اور خیال کا عمل، گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ ادیب اور کہنہ مشق شاعر پروفیسر رحمان راہی کا ہے جو انہوں نے1976 میں تحریر کیا ہے۔ رسالہ کے آخری صفحہ پر بشیر نواز اور حکیم منظور کی دو غزلیں بھی قاری کے نظروں سے گزرتی ہیں۔ 

بشکریہ روزنامہ آج