لیہ کےعوامی حلقوں میں لیہ پولیس کے رویہ اور محکمانہ طرزِ عمل سے شکایات عام ہیں،جس کی بڑی وجہ تھانوں میں عام آدمی کی ہتک، تضحیک آمیز رویہ سائلین سے روا رکھنا دھتکار انصاف ،دادر رسی کیلئے روپے پیسے حصول اب رواج بن چکا ہے تھانیدار و تفتیشی آفیسران کو جہاں سے نذرانہ تفتیش مل جاتا ہے وہی ملزم ہو یا سائل درست اور قابلِ داد رسی ہو جاتا ہے ضلع لیہ میں تو چھوٹی ذھنیت کے حامل اور صیح غلط کی تمیز سے عاری سب انسپکٹرز کو چن چن کر تھانہ جات میں ایس ایچ او ز تعینات کرنے کی ایک نئی رسم چل نکلی ہے۔ تجربہ کار اور سینئر اہلکار انسپکٹرز کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے داد رسی کیلئے آنے والے سائلین کے ساتھ ساتھ اب تو ضلعی پولیس میں جونیئر تھانیداروں کے ہاتھوں سینئر پولیس آفیسران تذلیل بھی آئے روز کا معمول بن چکی ہے ڈی پی اوز کی طرف سے لیہ سمیت دیگر اضلاع میں بھی انسپکٹرز کے عہدوں باعث ذلت بنا کے رکھ دیا گیا ہے تھانہ جات میں سب انسپکٹرز ایس ایچ او تعینات کر کے انسپکٹرز کو ان کے ماتحت تفتیشی آفیسران تعینات کر کے صبح ،شام کی جواب طلبی اور روز کی جونیئرز کے ہاتھوں ہتک آمیز رویہ سہنے کا پابند بنا دیا گیا ہے اور انسپکٹرز کی طرف سے بھی تذلیل آمیز رویہ کیخلاف یا اس محکمانہ نا انصافی پر نا ہی کبھی آواز بلند کی اور نہ ہی کبھی کوئی اعتراض کیا گیا اور چپ چاپ ہنسی خوشی ناروا سلوک سہے جانے کا سلسلہ جاری ہے جیسے کسی بھی ضلع میں ایس ایچ او کے عہدے کو اہمیت حاصل ہے ویسے کسی بھی ضلع میں ڈی پی او کا عہدہ بھی پر کشش اور طاقتور بنا دیا گیا ہے ڈی اوز جہاں انسپکٹرز کو کھڈے لائن لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے وہاں ایس پی انوسٹی گیشن جیسے عہدے کو بھی نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پولیس آرڈر 2002 میں کسی بھی ضلع میں مقدمات کی تفتیش کی مکمل نگرانی و جانچ پڑتال ضمنی کی تمام تر ذمہ داری ایس پی انوسٹی گیشن کے سپرد ہے ۔ ڈی پی او آفس میں ایس پی انوسٹی گیشن کو جو دفتر کیلئے کمرہ دیا گیا ہے اس کا نہ ہی کوئی برآمدہ ہے اور نہ ہی سائلین کے بیٹھنے انتظار کرنے کی کوئی جگہ فراہم کی گئی ہے ایس پی انوسٹی گیشن کے عہدے کی بے توقیری کا اندازہ ریڈر کے کمرے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں ٹوٹی پھوٹی کرسیاں اور خستہ حالت میزیں ایس پی کے عہدہ کا مذاق اڑا رہی ہیں ۔ سٹیشنری کی یہ حالت ہے کہ کاغذ کے ایک طرف طلبی سائلین و ملزمان کی طلبی کا نوٹس ہوتا ہے تو کاغذ کی دوسری طرف محکمانہ آمور کی تحریریں ہوتی ہیں ۔ ایس پی انوسٹی گیشن کے اردلی کو فراہم کی گئی وردی چیخ چیخ کر بتا رہی ہوتی ہے کہ وہ اردلی سائز کی وردی نہیں بلکہ مانگے تانگے کی ہے اور اردلی کی وردی پر آویزاں کی گئی لال پٹی بھی استعمال شدہ کپڑے کی بنا کر ایس پی انوسٹی گیشن کے عہدے کو ڈی پی او کے عہدے سے کم تر ظاہر کرنے کے اقدامات ہیں۔ پہلی بار پنجاب کےکسی ضلع میں دیکھا ہے کہ ڈی ایس پی کے فرائض ایک ایس آئی کو سونپ دیئے گئے ہیں ستم ظریفی تو دیکھیئے کہ اس کےسامنے اس کے سینئرز سب انسپکٹرز اور انسپکٹرز فائلیں لیکر کھڑے ہوتے ہیں بلکہ اس کو دیئے گئے اختیارات پر اسے سیلوٹ بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں،یہی نہیں ضلع بھر کے تھانوں میں مسلم لیگ ن کے ٹاؤٹوں کی آشیر باد پرجونیئرز اور من پسند پولیس اہلکاروں کی تعیناتیاں کرنے کی باتیں بھی زباں زدِ عام ہیں۔تھانوں میں بیٹھے یہ جونیئرز اہلکار نہ صرف تفتیش اور تحقیق کے تجربہ سے محروم ہیں بلکہ رشوت ستانی،عام سائل کے ساتھ نا زیبا سلوک عام بات بن چکی ہے،اور تو اور یہ عام سائل کو مطمئن کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے،تھانوں میں بھی ان سے سینئرز اور تجربہ کار پولیس اہلکار وں کی عزت نفس مجروح کی جارہی ہے،جب تھانے میں بیٹھا ایک ایس ایچ او ایک عام سائل کو ڈیل اور مطمئن نہیں کر پاتا تو اس کا اس نشست پر بیٹھنے کا کیا حق ہے؟جس شخص کے خلاف شکایت یا درخواست ہوتی ہے تو اسے سنگین نوعیت کے مقدمہ کی دھمکی دیکر بلیک میل کیا جاتا ہے ۔ منشیات فروشی کے الزامات میں ملوث افراد کو 9سی لگانے کی دھمکی دیکر لاکھوں روپے بٹورنے کا رواج بھی ایس ایچ اوز کی جانب سے عام ہو چکا ہے۔بعض اوقات پیسوں کی وصولی کے باوجود نائن سی کی ایف آئی آر بھی کٹ جاتی ہے۔ضلع لیہ کے ایک اے ایس آئی نے نام نہاد منشیات کی کاروائیوں اور 9سی لگانے میں بڑا نام کمایا ہے اسی شہرت کی وجہ سے اسے ہر تھانے کا ایس ایچ او تعیناتی کیلئے مانگتا ہے حال میں وہ تھانہ صدر تعینات ہے مصنوعی منشیات کی کاروائیوں میں نام کمانے والا مذکورہ تھانیدار اپنے کسی ایک مقدمہ کی برآمدگی پوری نہیں دکھا سکتا کیونکہ اکثر برامدگی فرضی ہوتی ہے یا خود منشیات فروشوں سے خرید کر ڈالی جاتی ہے جس سے منشیات فروشوں کی اصلاح کی بجائے بگاڑ زیادہ پیدا ہو رہا ہےجہاں تک ہماری پولیس کی کرپشن کا تعلق ہے تو ہمارے پولیس افسران اور اُن کے ماتحت اس پر مکمل ایمان لا چکے کہ یہ رشوت رشوت نہیں ہمارا حق ہے مدعیوں سے کم رشوت لی جائے جبکہ ملزمان سے کوئی رعایت نہ برتی جائے، پولیس افسران جب یہ کہتے ہیں ”ملزمان سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی تو وہ اصل میں رشوت میں رعایت نہ برتنے کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ پولیس اہلکار یہ سمجھتے ہیں کہ پولیس اگر ملزمان اور مدعی دونوں سے پیسے نہ پکڑے تو آگے چل کر کوئی اور پکڑ لے گا، لاکھوں روپے خرچ کر کے چودہ سال بعد ایک اماں جی کو انصاف ملا، اُس نے جج سے کہا ”پُتر اللہ تمہیں تھانیدار بنائے“، جج صاحب اُس کی بات سُن کر بڑے حیران ہوئے، اُس سے کہنے لگے ”اماں جی تھانیدار تو جج سے بہت چھوٹا ہوتا ہے“ اماں جی بولی”نئیں پُتر تھانیدار بڑا ہوتا ہے، میرا جو مسئلہ عدالت میں لاکھوں روپے خرچ کر کے چودہ برسوں بعد حل ہواہے، چودہ برس پہلے تھانیدار نے مجھ سے کہا تھا ”اماں دو ہزار دے تیرا مسئلہ ایتھے ای مُکا دینے آں“ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ پولیس کے اسی جانبدارانہ رویہ اور طرزِ عمل نے پولیس کے نظام کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے، اسی کو تھانہ کلچر کہا جاتا ہے، اس کلچر میں سرکاری نظام کے ساتھ ساتھ ایک متوازی غیر سرکاری نظام بھی چلتا ہے جو اصل میں پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے، سیاست دانوں سے لے کر بیوروکریسی تک اور اعلیٰ پولیس افسران سے لے کر عام سپاہی تک سب اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔ چند ماہ پہلے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان کا نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے (The National Corruption Perception Survey) جاری کیا تھا جس میں پولیس کو ملک کا کرپٹ ترین ادارہ قرار دیا گیااس سےاندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جومحکمہ کرپشن میں پہلے نمبر پر ہو اس کی کارکردگی اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے‘ جو ہم سب کو نظر آتی ہے۔ پولیس میں آج بھی عوام کی خدمت کے بجائے اپنا آپ سنوارو کلچر چل رہا ہے،پاکستان کا تقریباً ہر ادارہ ہر شعبہ ہی کرپٹ تو ضرور ہے، پر زیادہ بدنام محکمہ پولیس کا شاید اس لئے ہے عوام کا سب سے زیادہ واسطہ اسی سے پڑتا ہے، ضلع لیہ میں تھانہ کلچر میں تبدیلی صرف دعوؤں کی حد تک محدود ہےدوسری طرف پولیس کے خلاف شکایات کے انبار لگے ہیں پر کوئی ازالہ نہیں ایک ریاست میں پولیس کا کردار تو ایسا ہونا چاہیئے کہ اس کی بنا پر عوام کے ذہنوں میں اپنے لیے تحفّظ اور امن کے جذبات پیدا ہونے چاہئیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے پولیس پر نظر پڑتے ہی عوام کے ذہنوں میں خوف اور ناپسندیدگی کے احساسات ہی جنم لیتے ہیں۔ تفتیش کے نام پر اذیت ناک جسمانی تشدّد، تھانے کے اندراورتھانے سے باہر عقوبت خانے، ماورائے عدالت قتل، رشوت ستانی، عوام کے لیے ہمدردی کے جذبات سے عاری برتاؤ، مظلوموں کی دادرسی کی بجائے ظالموں اور سیاسی اثر ور سوخ رکھنے والے نام نہاد شرفاکے ہاتھوں کٹھ پتلی بننا جیسے رویّے پولیس کے ادارے سے منسوب ہیں۔
303