مارکیٹ کنٹینٹ اور ریاست 216

مارکیٹ کنٹینٹ اور ریاست

ماحول ایسا ہے کہ لکھنے کے لئے توازن کا موقع دیکھنا پڑتا ہے۔ٹوٹ پھوٹ اتنی ہے کہ ملبے اور سامان تعمیر میں فرق ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ابھی دو دن پہلے سرمد خان نے لندن میں ایک میڈیا سیمینار میں شرکت کی تو اس کا حال مجھے بھی سنا دیا،تصاویر بھی بھیجیں جن میں سٹیج کے پیچھے جو بیک ڈراپ لگایا گیا اس پر پاکستان کے کم از کم آٹھ میڈیا ہاوسز کے لوگو تھے۔کچھ بھارتی و دیگر اداروں کے شناختی نشان بھی تھے۔سیمینار کا موضوع فیک نیوز تھا۔مقررین اس بات کی شکایت کر رہے تھے کہ میڈیا میں فیک نیوز کا رواج غالب ہو رہا ہے،یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو سماجی بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔میں نے تین سال پہلے فیک نیوز پر ساہیوال میں صحافیوں کی ٹریننگ ورکشاپ کے دوران اس کی سنگینی اور انسداد کے طریقوں پر بات کی تھی۔گزشتہ برس انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس کی دو آن لائن میڈیا ٹریننگ ورکشاپوں سے ان ٹولز کو سیکھنے میں مدد ملی جو فیک نیوز کا انسداد کر سکتے ہیں۔ملک میں جس تیزی کے ساتھ فیک نیوز کلچر فروغ پا رہا ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ اس کے انسداد کے قانونی و تیکنیکی طریقوں کو اس طرح اپنایا نہیں جا رہا۔پاکستان میں چونکہ سیاسی کشیدگی حد سے بڑھ چکی ہے اس لئے اب بہت آسان ہو گیا ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کی تصاویر ، ویڈیو یا آڈیو میں تحریف کر کے اسے رسوا عام کر دیا جائے۔بد قسمتی سے ریاست پاکستان اب نشانے پر ہے۔ تحریک انصاف کو پر امن احتجاج کا حق حاصل ہے۔یہ بھی درست ہے کہ وہ کسی وجہ سے ہئیت حاکمہ کے خلاف بیانیہ بنانے میں مسلسل کامیاب رہی ہے،عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ،ان پر مقدمات ،قید اور ان کی پارٹی میں انجنیئرنگ کے متعلق لوگ ہئیت حاکمہ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ یا ہئیت حاکمہ کا اپنا کوئی چہرہ نہیں ہوتا،جو برسر اقتدار ہوتا ہے وہ اس کا چہرہ بن جاتا ہے۔پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، ق لیگ،مولانا فضل الرحمان اور خود پی ٹی آئی ہئیت حاکمہ کا چہرہ رہی ہیں،کچھ اب بھی ہیں۔اس چہرے پر مہربان اور نامہربان ،دونوں رنگ آتے رہتے ہیں۔سیاست دان ان کو دیکھتے ہیں، دانشمندی سے برے حالات کا مقابلہ کرتے ہیں،مکالمہ سے بازی پلٹتے ہیں اور ایک بار پھر اقتدار میں آکر عوام کی نمائندگی کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔مارنے مرنے کا کام صرف سرحدوں پر ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان کیا ۔یہاں ابہام یہ رہا کہ کارکن دھرنے کے مقام کے متعلق یقین سے کچھ نہیں جانتے تھے۔پارٹی لیڈر شپ کی جانب سے کئی طرح کے اعلانات ہوتے رہے۔اس سے معلوم ہوا کہ لیڈر شپ بحران موجود تھا۔اس کی وجہ حکومتی سختی ہو یا پارٹی کے اپنے مسائل ، لیکن یہ مسئلہ تھا۔ایک مسئلہ یہ تھا کہ عمران خان کی جانب سے سنگجانی اور ان کی اہلیہ کی طرف سے ڈی چوک جانے کی بات سننے کو ملی۔سب سے زیادہ افسوس ناک معاملہ سیاسی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ہلاکتیں ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جو ہئیت حاکمہ کے خلاف استعمال ہوا۔اس میں کیا شک ہے کہ کسی ایک کارکن کی موت بھی کم سنگین معاملہ نہیں لیکن اگر اس واقعہ میں بارہ سیاسی کارکن مارے گئے ہیں تو اس کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔دوسری جانب تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں میں بتاتے رہے۔وطن عزیز میں چونکہ ہر چیز چھپانے کا رواج ہے اس لئے کسی قابل بھروسہ طریقے سے فوری طور پر اس دعوے کا جواب آنا چاہئے تھا۔حکومت کی اس سستی کو میڈیا مارکیٹ نے خوب استعمال کیا۔آسان حل تھا کہ اسلام آباد کے ہسپتال زخمی و ہلاک شدگان کے نام و کیفیات ایک پریس کانفرنس میں بتا دیتے ۔چند دن پہلے سنگین نتائج کا اعلان کرنے والی پولیس اس معاملے میں اگر وضاحت کر رہی تھی تو اسے کس نے تسلیم کرنا تھا؟ یوں مس ہینڈلنگ سے ان عناصر کو موقع ملا جو فیک نیوز کے ذریعے اپنی مقبولیت برقرار رکھتے ہیں اور اس سے کماتے ہیں۔ان کے لئے پاکستان میں سیاسی بحران ایک مارکیٹ کنٹینٹ بن چکا ہے۔مارکیٹ میں جس کنٹینٹ کی مانگ ہوتی ہے وہ کہاں سے آ رہا ہے ، اسے کیسے لانچ کیا جا رہا ہے،اس سے ملک کا کیا نقصان ہو رہا ہے،شائد اب اس کے بارے میں کوئی سوچنا نہیں چاہتا۔ عمران خان ایک مقبول لیڈر ہیں،وہ اگر مکالمے کی جانب نہیں آتے تواسلام آباد کے واقعات سے زیادہ سنگین صورتحال کسی وقت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کچھ دوسرے علاقے سیاسی انتہاپسندی کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ پاکستان جس بحرانی کیفیت کا شکار ہے اس کی بین الاقوامی وجوہات بھی ہیں۔امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں خود کو مختلف شکلوں میں ڈھال رہی ہیں،پاکستان کی کشیدہ سیاست ان کی نرسری کو پروان چڑھانے کے لئے بہت موزوں ماحول فراہم کرتی ہے۔ان گروپوں نے امریکہ کے فوجی صنعتی کمپلیکس کے لیے اقتصادی فوائد حاصل کیے ہیں۔ افسوس کے ساتھ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں بعض ایشیائی ممالک میں آمرانہ حکومتوں کا عروج دیکھا گیا، جس سے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا۔ پاکستانی عوام اور فیصلہ سازوں کے لیے یہ تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ لوگ بہتر متبادل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور ایک نظریاتی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اور نظریاتی قوت کے ظہور کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کسی غیر قانونی قوت کی پشت پناہی کی جائے تو اس سے بڑی غیر قانونی قوت ابھرنے لگتی ہے،کسی غیر جمہوری سوچ کی پرورش کی جائے تو اس کے مقابل بھی غیر جمہوری سوچ توانا ہونے لگتی ہے۔ اس تناظر میں، زبردستی اور دھمکیاں افراد کو متبادل نظریاتی حل کی طرف دھکیلنے کا خطرہ بن سکتی ہیں۔ یہ حکومتوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ لوگوں میں اشتعال پیدا نہ ہونے دیں۔اگر سماج کو برہم کرنے کا کوئی رواج یا کنٹینٹ ابھر رہا ہے تو اس بابت آگاہی دے کر اسے غیر موثر کریں۔ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں ناکہ پولیس کو اس کام پر لگا دیا جائے ۔اسی طرح انٹرنیٹ کی بندش ایسے ہی ہے جیسے آپ نے کسی کے پیٹ پر لات ماردی ہو ۔پی ٹی آئی کارکن ہزاروں یا لاکھوں میں ہو سکتے ہیں لیکن انسدادی اقدامات کا بلا تفریق نفاذ کروڑوں لوگوں کو حکومت مخالف بنا رہا ہے۔ تحریک انصاف خود کو مظلوم بنا کر ہمدردی سمیٹ رہی ہے تو کیا ضروری ہے کہ اس کے مقابل حکومت خود کو ظالم بنائے؟ایک ذمہ داری توازن کے ساتھ ہمیں خود بھی نبھانی ہے کہ ہمیں ہر فیک نیوز، ریاست مخالف پروپیگنڈہ اور قومی یکجہتی کے منافی کنٹینٹ کو مسترد کرنا ہے۔آپکا دل چاہے تو اس تحریر میں سے ملبہ اٹھا لیں ، دل کرے تو تعمیر کا سامان لے کر نئے امکانات کھڑے کر لیں۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم