محترمہ مریم نواز نے پولیس کی وردی میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی لیکن ایک مسئلہ محترمہ مریم نواز کے گوش گزار کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پولیس انسپکٹر کا رینک پورے پنجاب سمیت ڈیرہ غازیخان رینج میں بد حالی کا شکار نظر آتا ہے۔ جب سنیارٹی کو بائی پاس کرکے کسی نا اہل اور جونیئر کو کسی سینیئر پر بطور آفیسر مسلط کردیا جائے تو ایک تو میرٹ کا قتل ہوتا ہے،دوسرا ناانصافی جنم لیتی ہے جو اکثر اوقات جونیئر کے ہاتھوں کسی سینیئر کی عزت نفس مجروح کرنے کا باعث بنتی ہے اور جب ایک طویل عرصہ 15 سے 20 سال بعد سب انسپکٹر سے انسپکٹر رینک پر ترقی کی منازل طے کرتا تو آفیسرمذکورہ خوش ہونے کی بجائے شرمندہ اور مایوسی کا شکار ہوتا ہے اور اکثر ایسا بھی ہوا کہ جب کسی سینئر کی جونیئر کے ہاتھوں عزت نفس مجروح ہوئی تو وہ انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور ہوگیا اور اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا جونیئر کے ہاتھوں کسی سینیئر کی عزت نفس جب مجروح ہوتی ہے تو عدم برداشت کا جنم ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اک طویل عرصہ سے پنجاب بھر میں پولیس انسپکٹر ز کی عزت نفس داؤ پر لگی ہوئی ہے اور انسپکٹر رینک پولیس میں نان کمیشنڈ سینئر ترین رینک ہے بدقسمتی سے کئی حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اس رینک کی بے توقیری ایک روایت بن چکی ہے اور محکمہ پولیس کے اندر سیسینئرز کی تذلیل کا تسلسل جاری ہے چاہئے تو یہ تھا کہ ایک طویل اور جانگسل جدوجہد کے بعد پولیس اسٹیشنز میں کم از کم انسپکٹر کے عہدہ کا ایس ایچ او تعینات کیا جاتا مگر سینئر ہونے کے باوجود انسپکٹرز کو تھانوں کی تعیناتی سے مکمل طور پر سائیڈ لائن کر دیاگیا اور فیلڈ پوسٹنگ کی بجائے تھانوں میں بطور ایس ایچ او مسلط کئے جانے والے سب انسپکٹرز کے ہاتھ میں ان کی عزت نفس دے دی گئی،ماضی میں ترقی کے دورانئے کی طوالت کو اور انسپکٹرز کی قلت کے باعث جب سب انسپکٹرز کے ہاتھوں میں کسی پولیس اسٹیشن پر ایس ایچ او اختیار دیا جاتا رہا اسے ایک جواز کے طور پر مانا جاسکتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ عصر حاضر میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کی طرف ترقی میں عجلت کی بنا پر انسپکٹرز کی کمی کا جواز دم توڑ چکا ہے مگر اس کے باوجود انسپکٹرز سینئر ہونے کے باوجود جو نیئرز سے کم تر تصور کئے جارہے ہیں،سروس اور جرائم کی تحقیقات کے میدان میں ایک تجربہ گاہ سے گزرنے کے بعد جب ایک پولیس اہلکار انسپکٹر کے عہدہ تک پہنچتا ہے تو اس میں عمر رواں کا ایک قیمتی عرصہ حیات شامل ہوتا ہے،اس کے باوجود کسی انسپکٹر کو اس کا کریڈٹ نہ ملنا ایسے ہی ہے جیسے کسی شدید بھوک کے مراحل سے گزرنے والے کے سامنے روٹی رکھ کر اُٹھا لی جائے،ہمارے ہاتھ ایک ایسے سسٹم کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں جس میں پولیس کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ سفارش ایس ایچ او کی تعیناتی کیلئے ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے،کیا یہ سوال جواب نہیں مانگتا کہ ایسے سسٹم میں کیا کوئی سینئر پولیس سٹیشن میں بطور ایس ایچ او تعینات ہونے کیلئے اہل نہیں؟
پولیس تھانہ کا ایس ایچ او فیلڈ کا ایک اہم ترین عہدہ ہے اور انسپکٹرز کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باوجود سب انسپکٹر کو پولیس رولز کے برعکس کیوں تعینات کیا جا رہا ہے؟
ڈیرہ غازیخان رینج میں ضلع ڈیرہ غازیخان کے 19،ضلع مظفر گڑھ کے 19 تھانوں میں سے ہر ضلع میں صرف دو سے تین تھانوں میں ہی انسپکٹرز ایس ایچ او تعینات ہیں اور سب سے بد تر حالت ضلع ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کی ہے جہاں صرف 2 تھانوں میں ہی انسپکٹر،ایس ایچ او تعینات ہیں جبکہ ڈیرہ رینج میں 150 سے بھی کہیں زیادہ انسپکٹرز بڑی تعداد میں موجود ہیں۔حال ہی میں پرموٹ ہونے والے جونیئر ترین سب انسپکٹرز اور ٹی ایس آئی آفیسر ان کو سفارشی بنیادوں پر ضلع ڈیرہ غازیخان اور راجن پور میں ایس ایچ او تعینات کیا گیا ہے جو کہ میرٹ اور سنیارٹی کی بنیاد پر تو تفتیشی آفیسر تعیناتی کے بھی قابل نہ بنتے ہیں۔خانہ پری اور وقت گزاری کے لئے انسپکٹرز صاحبان کو تھانوں کے ماتحت جو نیئر ز ترین سب انسپکٹرز ایس ایچ او کی نگرانی میں پولیس چوکیوں اور تھانوں میں ہومی سائیڈ اور اے ٹی اے نامی رنگ بنا کر ذلیل و خوار کر کے انسپکٹر کے رینک کو کیوں بے توقیر کیا جارہا ہے اور سینئر پوسٹوں کے لئے تعیناتی نہ ہونے پر انسپکٹر ز کا قصور کیا ہے؟۔سینئر ترین آفیسر ہونے کے باجود انسپکٹروں کو کھپانے کے لئے ڈی آئی بی دفتروں، کھڈے لائن برانچوں،کورٹ گارڈ، پولیس لائن میں تعینات کر کے فیلڈ سے باہر کر کے جونیئر ز سب انسپکٹروں کو ایس ایچ او کیوں تعینات کیا جا رہا ہے؟
ڈیرہ غازیخان رینج سمیت پورے پنجاب میں انسپکٹرز رینک کو بے توقیرکرنے اور تعیناتی و تقرر کے معاملے میں جونیئر آفیسر ان کو برتری دینے کے خلاف قانون اور خلاف میرٹ رسم کو خاموش محکمانہ حمایت کیوں حاصل ہے؟
محکمہ پولیس ایک ڈسپلند فورس ہونے کے ناطے محکمہ پولیس آفیسران کس سے شکایت کریں؟میرٹ اور سنیارٹی کی اس خلاف ورزی پر کس سے احتجاج کریں اور کس سے انصاف طلب کریں؟ اور کس سے اپنی حالت زار بیان کریں؟کون لاوارث انسپکٹروں کی فریاد سنے گا اور کون پوری زندگی محکمہ کی خدمت کرنے کے بعد ان کو صلہ دے گا اور کب میرٹ اور سنیارٹی کی بنیاد پر اپنا جائز مقام و مرتبہ حاصل کر سکیں گے اور اپنے جونیئر ز رینک آفیسروں کے ماتحت تعینات ہونے سے بچ کر خود سینئر ز اور جائز عہدوں پر بغیر سفارش کے تعینات ہو سکیں گے۔! مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں میرٹ اور سنیارٹی کا یہ تقاضا ہے کہ انسپکٹرز صاحبان کی بڑی تعداد میں موجود گی کے پیش نظر پورے پنجاب سمیت ڈیرہ غازیخان رینج میں سب انسپکٹرز ایس ایچ اوز کو فوری طور پر کلوز کیا جائے اور سب انسپکٹر آفیسر ز کو ایس ایچ او لگانے پر پابندی عائد کر کے صرف سینئر رینک آفیسر انسپکٹرز کو ہی آئندہ ایس ایچ او تعینات کیا جائے اور سنیارٹی کو ترجیح دی جائے۔
استدعا ہے کہ انسپکٹر رینک کو بے توقیری سے بچایا جائے اور پنجاب پولیس کے قابل فخر ترین رینک انسپکٹرز کا مقام و مرتبہ بحال کیا جائے اورسب انسپکٹرز صاحبان اور جونیئر ز آفیسران کو کلوز کر کے ان کی جگہ پر سفارش کی بجائے میرٹ اور سنیارٹی کی بنیاد پر انسپکٹرز ایس ایچ او ہی تمام تھانوں میں تعینات کئے جائیں تاکہ میرٹ کا بول بالا ہو اور انسپکٹر رینک کی عزت بھی بحال ہو
323