مرشداتی پارٹی کا ’’موت کارڈ‘‘ 174

مرشداتی پارٹی کا ’’موت کارڈ‘‘

باسی خبر STALE NEWS کی اصطلاح ان دنوں متروک ہے، زیادہ تر لوگ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے لیکن ماضی میں یہ اصطلاح جرنلزم (صحافت) کے نصاب میں شامل تھی۔ مراد اس سے یہ تھی کہ ایسی پرانی خبر ، ایک یا دو دن پہلے کی، نیوز کے عملے کی غلطی سے اخبار میں چھپ جائے۔ ایسا بہت کم اور کبھی کبھار ہوتا تھا اور اس پر ادارے کی طرف سے متعلقہ ذمہ دار کی باز پرس کی جاتی تھی۔ اب ڈیجیٹل دور ہے، پرانی خبر چھپنے کے امکانات نہیں رہے۔ ویسے بھی جرنلزم (صحافت) کی تو کب کی موت ہو گئی، پہلے اس کی جگہ ماس کمیونی کیشن کی اصطلاح نے لی، پھر میڈیا کا نام دیا گیا، اب اس کے بھی تین حصے ہو گئے۔ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا۔
میڈیا پرانی خبر نہیں چلاتا، ہاں کسی پرانے واقعے کی کوئی ایسی تفصیل سامنے آ جائے جو پہلے نہ چھپی ہو تو اسے بریکنگ نیوز کے طور پر بھی چلایا جا سکتا ہے۔ مثلاً کسی خفیہ فائل سے پتہ چلے کہ 1958 ء کے مارشل لاء کے نفاذ کے وقت سکندر مرزا اور ایوب خاں میں تلخ کلامی ہوئی تھی اور ایوب خاں نے مشتعل ہو کر سکندر مرزا کو دولتی رسید کر دی تھی تو یہ دولتی بریکنگ نیوز کہلائے گی۔ بہرحال جو بات پہلے چھپ چکی ہو یا نشر ہو چکی ہو، اسے دوبارہ چھاپنے کا ان دنوں کوئی تصور ہے نہ امکان۔ لیکن اس میں بھی ’’استثنیٰ‘‘ ہے، کئی خبریں بہت پرانی ہونے کے باوجود بریکنگ نیوز بن کر چل رہی ہیں۔ 
اور ایک خبر تو ان میں ایسی ہے کہ 76 سال سے ہر روز بلاناغہ نئی خبر کے روپ میں سامنے آ رہی ہے اور کوئی ادارہ ماتحت عملے سے باز پرس بھی نہیں کرتا کہ اتنی پرانی، اتنی باسی خبر کیونکر چل گئی۔ اس خبر کی سرخی بھی وہی جمائی جاتی ہے جو 76 سال پہلے لگائی گئی تھی۔ خبر اور سرخی کا متن ایک ہی ہے اور کچھ یوں ہے کہ ’’ملکی حالات خراب ہو رہے ہیں۔ 
گزشتہ ہفتے یہ خبر ایک اعلیٰ سطح کی بریفنگ کے ضمن میں سامنے آئی۔ بتایا گیا کہ اعلیٰ سطح والوں کو تھوڑی کم اعلیٰ سطح والوں سے شکایت ہے کہ ان کی کارکردگی صفر ہے جس کی وجہ سے معاشی حالات ابتر اور امن و امان کے حالات بدتر ہو گئے ہیں۔ خبروں کے مطابق تھوڑی کم اعلیٰ سطح والوں نے زیادہ اعلیٰ سطح والوں کو بتایا کہ یہ دونوں شعبے ہمارے اختیار سے باہر ہیں، دونوں کے وزیر آپ ہی کے لگائے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ کا ان سے دور دور تک کچھ لینا ہے نہ دینا۔ 
اب ایک اطلاع ہے کہ ان دونوں میں سے ایک وزیر کی رخصتی کا سوچا جا رہا ہے۔ 
ایسا ہو جائے تو کیا باسی خبر کی شکل تبدیل ہو سکتی ہے؟ جملہ تعلق داروں کا اتفاق رائے سے جواب ہے کہ نہیں، نئی بریکنگ نیوز کی سرخی اور متن وہی کا وہی رہے گا یعنی کہ: 
حالات خراب ہو رہے ہیں…یہ سدابہار باسی خبر سدا بہار ہی رہے گی۔ 
_____
مرشداتی پارٹی ہر ہفتے ایک نیا ٹرمپ کارڈ کھیلتی ہے اور ہر بار سمجھتی ہے کہ اب تو بازی پلٹ جائے گی لیکن ہر بار کارڈ ’’فیل‘‘ ہو جاتا ہے۔ 
پچھلے ہفتے بھارتی میڈیا پر مرشد کے قتل کی خبر بریک ہوئی، وہاں سے افغان میڈیا نے لی اور پھر مرشداتی سوشل میڈیا نے اسے وائرل کیا اور کہرام سا مچ گیا۔ حکومت نے خبر کی تردید نہیں کی اور یوں آٹھ دس گھنٹے یہ ’’مصدقہ‘‘ خبر ،کے طور پر گشت کرتی رہی اور گھر گھر پہنچ گئی۔ 
اگلے ہی روز پتہ چل گیا کہ بھارتی میڈیا نے یہ بے پرکی کہاں سے لی۔ پتہ چلا کہ یہ خبر خود مرشداتی پارٹی نے بھارتی میڈیا کو فیڈ کی تھی اور اس مقصد کیلئے امریکہ میں سرگرم مرشداتی رابطہ کار استعمال ہوئے تھے اور دراصل یہ خبر ایک اور ’’ٹرمپ کارڈ‘‘ کے طور پر چلائی گئی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ جو عوام متحرک نہیں ہو رہے، اس خبر پر مشتعل ہو کر سڑکوں پر آ جائیں گے اور حقیقی آزادی والا انقلاب آ جائے گا۔ 
لیکن صد حیف، اس ٹرمپ کارڈ کا انجام تو اور بھی حسرت ناک نکلا، یہ غنچی تو بن کھلے ہی مرجھا گئی۔ آٹھ دس گھنٹے تک یہ خبر تصدیق شدہ اور سچی خبر سمجھی جاتی رہی اور جملہ سوگواروں نے گھر پر ہی سوگ منانا پسند کیا، سڑکوں پر ایک بھی نہ آیا۔ شام کو خبر کی تردید خود مرشداتی حلقوں نے کر دی اور یوں یہ گھریلو سوگ گھروں ہی میں اختتام پذیر ہوا۔ اس ٹرمپ کارڈ کی دمچی باقی رہ گئی تھی۔ مرشد کی دو خواہران بزرگ نے اگلے سے اگلے دن سات آٹھ بھارتی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دے کر وہ بھی نکال دی۔ خیال تھا کہ یہ انٹرویوز دھماکہ خیز ہوں گے لیکن یہاں بھی بات آئی گئی ہو گئی۔ 
جب ’’خبر‘‘ پھیلی، وہی کہ حکومت نے مرشد کی ھتیا کر دی ہے تو خیال تھا کہ 25 کروڑ آبادی میں سے ساٹھ ستر کروڑ لوگ تو ضرور ہی سینہ کوٹتے بال نوچتے سڑکوں پر نکل آئیں گے لیکن کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ آپ پوچھیں گے کہ 25 کروڑ میں سے ساٹھ ستر کروڑ کیسے نکل سکتے تھے تو عرض ہے کہ مرشداتی جماعت کے ہاں اعداد و شمار کی ترتیب اسی حساب سے ہوتی ہے۔ بہرحال ’’موت کارڈ‘‘ کا یہ انجام مرشداتی جماعت کے مستقبل کے حوالے سے اچھا شگون نہیں ہے۔ برے شگون کی وضاحت میں جانا ٹھیک نہیں کہ معاملہ ’’گرافک‘‘ ہو جائے گا۔ 
_____
کے پی اسمبلی نے ہزارہ کو صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ ہزارہ صوبہ اگر بنا تو آبادی کے حساب سے سب سے چھوٹا صوبہ ہونے کا اعزاز بلوچستان کے پاس نہیں رہے گا۔ بلوچستان کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے اور ہزارہ کی 60 لاکھ۔ 
نئے صوبوں کی تحریک چلانے کی بدستور کوشش کی جا رہی ہے، دلیل یہ ہے کہ موجودہ صوبے بہت بڑے ہیں، ان کی گورننس ممکن نہیں۔ سوال ہے، بھارت میں تو ان سے بھی بڑے صوبے ہیں، وہ کیسے چل رہے ہیں اور ہم سے کہیں بہتر چل رہے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔ سب سے بڑے صوبے یوپی کی آبادی 25 کروڑ ہے یعنی سارے پاکستان سے زیادہ۔ دوسرا بڑا صوبہ بہا ر ہے جس کی آبادی 13 کروڑ ہے۔ تیسرا بڑا صوبہ مہاراشٹر ہے، اس کی آبادی 13 کروڑ سے تھوڑی ہی کم ہے۔
اس کے بعد مدھیہ پردیش، آندھرا، راجستھان، گجرات وغیرہ ہیں اور سب کی آبادی 8 سے دس کروڑ ہے۔ بھارت میں تو کسی نے نہیں کہا کہ اتنے بڑے صوبے ہیں ، نئے صوبے بنا کر انہیں چھوٹا کیا جائے۔

بشکریہ نواےَ وقت