نوجوانوں کی مایوسی سے ڈرو! 237

نوجوانوں کی مایوسی سے ڈرو!

آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین 3ارب ڈالرز کی فراہمی کا معاہدہ ہو گیا ہے ۔ یہ اسٹاف لیول کی بجائے اسٹینڈ بائی معاہدہ ہے ۔ اس معاہدے کو پاکستان کے عوام کیلئےبڑی خوش خبری قرار دیا جا رہا ہے ۔ کیا یہ خوشخبری لوگوں کیلئے خوشی کا باعث ہو گی یا مایوسی کا سبب؟

اب تک کی رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کیلئے پاکستان کو نہ صرف مختلف اشیاء کی قیمتیں بڑھانا ہوں گی بلکہ ریونیو بڑھانےکیلئے سخت اقدامات بھی کرنا ہوں گے ۔ خاص طور پر بجلی اور گیس کے ٹیرف بڑھائے جا سکتے ہیں ۔ معاہدے پر عمل درآمد کیلئے پاکستان کو درآمدات پر پابندی بھی ختم کرنا ہو گی ۔ اس کے علاوہ دیگر اقدامات بھی کرنا ہوں گے ، جن سے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ تو ٹالا جا سکتا ہے کیونکہ ان 3 ارب ڈالرز سے بیرونی ادائیگیوں کا دبائو کم ہو سکتا ہے لیکن عوام پر خرچ کرنے کیلئے پھر بھی کوئی مالیاتی گنجائش نہیں نکل رہی ۔ عوام ٹیکسوں اور ٹیرف میں اضافے اور مہنگائی کے مزید بوجھ تلے دب سکتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے میں تاخیر کی اور یہ کوشش کی کہ یہ معاہدہ نہ ہو سکے ۔ اب پی ڈی ایم کی حکومت نےجون 2023ء میں یہ معاہدہ کر لیا ہے لیکن نتیجہ تو وہی ہے ۔ روپے کی قدر بہت حد تک گر گئی ہے ۔ مہنگائی اور شرح سود میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کیلئےسعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ ساتھ کئی عالمی مالیاتی اداروں سے مزید قرضے حاصل کر لئے گئے ہیں ۔ معیشت کے بحران کو نہیں روکا جا سکا ہے۔ اس سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس معاہدے سے حالات بہتر ہونے کی لوگوں کی امید کو بحال نہیں کیا جا سکتا ، جو انہوں نے چند سال پہلے تک لگا رکھی تھی ۔

میں عید سے دو روز پہلے لندن سے واپس آیا ، جہاں میں نے دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزارا ۔ میں نے دیکھا کہ جو پاکستانی وہاں آباد ہیں ، وہ یا تو پاکستان میں رہ جانے والے دیگر رشتہ داروں اور عزیزوں کو لندن بلانے کی غیر معمولی کوششیں کر رہے ہیں یا ان پر رشتہ داروں اور عزیزوں کی طرف سے ایسا کرنے کیلئےبہت دبائو ہے ۔ ہر محفل میں یورپی ممالک اور امریکا میں امیگریشن کے طریقوں اور راستوں پر بات ہو رہی ہوتی تھی ۔ میں نے پاکستان کی نوجوان نسل کو پاکستان سے جس قدر مایوس اور مغربی ممالک میں جانے کی خواہش دیکھی ، اس سےپہلے کبھی میرے مشاہدے میں نہیں آئی ۔ نوجوان پاکستان کی آبادی کا 68 فیصد ہیں اور وہ پاکستان سے مایوس ہیں ۔ وہ ہر حال میں پاکستان چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں ۔ انہیں پاکستان میں اپنے لئے بہتر مواقع اور بہتر مستقبل نظر نہیں آتا ۔ وہ بیرون ملک جانے کا ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں ۔ میں لندن میں ایسے لوگوں سے ملا ، جو قانونی طریقے سے وہاں پہنچے اور ایسے لوگوں سے بھی ملا ، جو غیر قانونی طریقے سے اپنی جانوں پر کھیل کر انگلینڈ میں داخل ہوئے ۔

ایک زمانہ ایسا تھا ، جب پاکستان کے دولت مند لوگ لندن میں اپنے گھر خریدیا تعمیر کر لیتے تھے تاکہ ان کے بچے وہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں اور وہ وہاں آکر چھٹیاں گزار سکیں ۔ ان دولت مند لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرکے واپس چلے جاتے تھے اور پاکستان میں اپنے کاروبار سنبھالتے تھے ۔ اب ایسا نہیں ہے ۔ اب تو زیادہ تر بزنس مین اپنا کاروبار پاکستان سے سمیٹ رہے ہیں اور اپنا سرمایہ باہر منتقل کر رہے ہیں۔ لندن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے حامل نوجوانوں سے بھی ملاقات ہوئی ، جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کے امکانات کم ہیں ۔ میں نے پہلی دفعہ محسوس کیا کہ کس قدر تیزی کے ساتھ پاکستان سے برین ڈرین ہو رہا ہے ۔ میں ان لوگوں سے بھی ملا ، جو پاکستان کی سرکاری نوکریاں چھوڑ کر وہاں منتقل ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے سیاسی ، معاشی اور سماجی حالات سے اس قدر مایوسی ، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔

یونان کشتی حادثے کی خبر میں نے لندن میں سنی ، جس میں 300سے زائد پاکستانی نوجوان موت کے منہ میں چلے گئے ۔ اس حادثے کے بعد لندن میں کچھ باخبر لوگوں نے بتایا کہ یہ تو بڑا حادثہ ہے ، جو بین الاقوامی میڈیا میں آ گیا ۔ روزانہ چھوٹے چھوٹے حادثات ہوتے رہتے ہیں ، جن میں غیر قانونی تارکین وطن ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ انہیں جنگلوں ، پہاڑوں اور سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ غیر قانونی تارکین وطن کے قافلوں میں سے جو زندہ بچ کر آتے ہیں ، وہ ان چھوٹے چھوٹے حادثوں کا ذکر بھی نہیں کرتے ، جو روزانہ ہو رہے ہوتے ہیں ۔ پاکستان کے حالات سے مایوس نوجوان بہتر زندگی کیلئے اپنی زندگیوں کی بھی پروا نہیں کرتے ۔ غیر قانونی طریقے سے اور جان پر کھیل کر پاکستان چھوڑنے والے زیادہ تر غریب نوجوان ہوتے ہیں مگر دولت مند گھرانوں کے بچوں کا بھی یہی رحجان ہے ۔ وہ بھی کسی طرح پاکستان سے نکلنا چاہتے ہیں ۔ صرف نوجوان ہی نہیں ، ہر عمر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ باہر جانے کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ ان میں پروفیسرز ، ڈاکٹرز ، انجینئرز ، کمپیوٹرسائنسز اور آئی ٹی کے ماہرین اور ہر شعبے کے ایکسپرٹ شامل ہیں ۔

کوئی بھی اس صورت حال کا ادراک کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ پاکستان میں لاقانونیت ، بدامنی ، آئین و قانون کی بجائے طاقت کی حکمرانی ، عدم تحفظ ، تیزی سے بڑھتی ہوئی غربت ، بے روزگاری اور بھوک والا ملک بن گیا ہے ۔ امیر اور غریب دونوں اس ملک کو چھوڑنا چاہتے ہیں بشرطیکہ انہیں موقع میسر آجائے ۔ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ معاہدہ حکمرانوں کو تھوڑے عرصے کیلئے اس تنائو سے نکال دے گا کہ بیرونی ادائیگیوں کا دبائو کسی حد تک کم ہو گیا ہے ۔ اس سے پاکستان کی معیشت کو بحران سے نکالنے یا عوام کو ریلیف دینے کی کوئی مالی گنجائش پیدا نہیں ہوتی ۔ عوام پر بوجھ مزید بڑھے گا ۔ قرضے کے بوجھ تلے دبی پاکستانی معیشت کو سدھارنے کی کوئی بھی کوشش کارگر نہ ہو گی ، چاہے حکومت کسی کی بھی ہو ۔ ہر پانچ سال بعد انتخابات کرانے کا کوئی فائدہ بھی نہیں کیونکہ جو بھی حکومت میں آئے گا ، وہ عالمی مالیاتی اداروں اور ان کے کارندہ حقیقی حکمرانوں کی ڈکٹیشن لے گا ۔ اس صورت حال سے نکلنے کیلئے انقلابی معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے اور یہ تبھی ممکن ہے، جب تمام سیاسی قوتیں میثاق معیشت پر اتفاق کرلیں ۔ نوجوانوں کی مایوسی کوئی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے کیونکہ سارے نوجوان تو امریکا یا یورپ نہیں جا سکتے اور جو چلے گئے ہیں ان سے برین ڈرین ہوا ہے ، جو معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے ۔ نوجوانوں کی مایوسی سے ڈرنا چاہئے۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم