پاکستان،حکمران اور عوام 173

پاکستان،حکمران اور عوام

ایک وقت تھا کہ پاکستان کی عوام امیر سمجھے جاتے تھے۔پاکستان خود تو امیر نہیں ہے لیکن اس کے عوام امیر ہوا کرتے تھے۔اور اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ پاکستانی زیادہ تر باہر ملکوں میں محنت مزدوری کرتے تھے اور خاصے اچھے پیسے کماتے تھے۔لیکن اب وہ وقت بھی چلا گیا ہے۔وہ سب عوام پاکستان میں رہ رہے ہیں۔باہر ملکوں میں پہلے کوئی ہے نہیں اور اگر ہے تو بس اس سے صرف اس کے گھر کا گذارا ہوتا ہےیعنی وہ پیسے اب نہیں ہے جس سے پاکستان کے عوام بڑے بڑے گھر بناتے تھے،بڑی بڑی گاڑیاں خریدتے تھے۔بڑے بڑے کاروبار کیا کرتے تھے۔پاکستان کی عوام کی بے حسی آج اس حد تک اچکی ہے کہ وہ اب اپنے لئے ایک وقت کی روٹی پیدا نہیں کرسکتے۔سیاستدان نے عوام سے ان کے دو وقت کا نوالہ بھی چھین لیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس میں سارا قصور ہم عوام کا ہے۔سیاستدان اگر اگے بڑھ رہا ہے تو میرے وجہ سے،سیاستدان اگر بنگلے میں رہتا ہے تو میرے وجہ سے سیاست دان اگر بڑے بڑے گاڑیوں میں گھومتا پھرتا ہے تو میرے وجہ سے۔اب سوچنا یہ ہے کہ اخر کار سیاستدان اگے کیوں ہے اور ہم عوام پیچھے کیوں ہے۔لیکن اس پر کوئی بھی راضی نہیں ہے۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اس کامیاب سیاست دان کو اور مضبوط اور مستحکم بنا رہے ہیں جو کہ پہلے سے ہی طاقتور ہے۔پاکستان کی عوام اگر آج غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں تو اس کی وجہ ہی یہی ہے کہ پاکستان کے عوام سیاست دان کیلئے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ہر ایک سیاستدان برائے نام ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتےہیں۔تاکہ عوام کو بے وقوف بنایا جاسکے۔میں سمجھتا ہوں اگر اس ملک کے رسی کسی کے پاس ہے تو وہ ہے ہم عوام۔کراچی سے خیبر تک اس سیاستدان کے خلاف نکلنا چاہیئے۔پھر آپ دیکھے گے کہ یہ ملک کیسے ایک اچھا اور مستحکم ملک بنتا ہے۔خرابی ہم عوام میں ہے کمی ہم عوام میں ہے۔اخر کیوں ہم ایک ایسے شخص کو مزید تقویت دے جو کہ پہلے سے امیر ہوں،پہلے سے چور ہوں،پہلے سے ڈاکوں ہوں،پہلے سے کرپٹ ہوں۔مجھے آپ بتائے پاکستان کا وہ سیاست دان جس پر کرپشن کے الزامات نہ ہوں۔اور الزامات بھی چھوڑے آپ خود اندازہ لگائے کیا پاکستان کے سیاستدانوں میں آپ کے نظر میں ایسا کوئی ہوگا جو کہ چور نہ ہوگا۔کبھی نہیں۔کراچی سے خیبر تک عوام انقلاب نہیں آئے گا تو ہم عوام ایسے ہی زلیل ہوتے رہے گے۔مجھے سرکار کی نوکری کی ضرورت نہیں ہے مجھے روٹی کی ضرورت ہے مجھے سستے چیزوں کی ضرورت ہے۔مجھے کاروبار کی ضرورت ہے۔مجھے ایک سیاستدان نے سرکاری نوکری پر لگایا تو میں کامیاب ہوگیا کبھی نہیں۔یہ سوچ بلکل غلط ہے۔مجھے سرکاری نوکری دلادی تو میں ساری عمر ان کیلئے زندہ آباد مردہ باد کے نعرے لگاوں گا۔اور میری تنخواہ میں میرا گزارا بھی نہیں ہوگا۔لیکن میں مجبوری کی خاطر ان کیلئے نعرے لگاؤ گا۔اگر نعرے نہیں لگاؤں گا تو وہ مجھے نوکری سے برخاست کریں گے۔کیوں ہم اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں۔اخر ہم سوچتے کیوں نہیں؟اخر کار اس ملک کے عوام کا بنے گا کیا؟ کیا ہم عوام ایسے ہی زلیل و خوار ہوتے رہے گے۔

بشکریہ اردو کالمز