متحدہ پاکستان پنجاب کے گائوں رام دیوالی کے مسلم نوجوان کو کالج میں داخلہ ملا تو اِس وقت قراد داد پاکستان منظور ہوچکی تھی، طلباء دو گروہوں میں منقسم تھے،مسلمان اس کی حمایت جبکہ ہندو طلباء مخالفت کر رہے تھے،ولی داد نے کالج میں مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کی بنیاد رکھنا چاہی تو پرنسپل نے سرزنش کی ، وہ ان کے دفتر سے نکلا تو اسے محسوس ہوا کہ ہندو لڑکوں کے عزائم خطرناک ہیں قریب تھا کہ جھگڑا ہوتا،ولی دادکے دوست دلیپ سنگھ نے دھمکی لگائی اس سے بد تمیزی کی تومجھ سے برا نہ ہوگا،ان دنوں تحریک پاکستان عروج پر تھی، بانی پاکستان انڈیا کے مختلف علاقوںکے دورہ پرتھے، ولی داد بھی متحرک تھا۔
ایف ،ایس سی کے نتیجہ کے بعد اسے لاہور جبکہ اس کے دوست دلیپ سنگھ کو امرتسر میڈیکل کالج میں داخلہ ملا،دلیپ کا والد بڑا زمیندار،اس کی حویلی میںلنگر چلتا ، ہر مذہب کے لوگ کھانا کھاتے ،ولی داد معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ایم بی بی ایس کی تعلیم کو خیر آباد کہہ کر ایک نیم سرکاری محکمہ میں ملازم بھرتی ہو گیا،اسکی پہلی پوسٹنگ فتح گڑھ ہوئی، وہاں پہلے سے دو مسلمان ملازم ایک اکرم سرگودھا دوسرا تفضل حسین بنگال سے تھا،پاکستان کے بارے میں بڑا پرجوش تھا،والدین نے ولی داد کی شادی کردی وہ فتح گڑھ جاتے ہوئے امرتسر میں دلیپ سنگھ کے ہاں ٹھرا، دلیپ نے میاں بیوی کو شہر کی سیر اُس گاڑی میں کرائی جو اس کے والد نے ڈاکٹر بننے پر دی تھی، دونوں کھانے پر ہندوہستان کے حالات پر محو گفتگو رہے،رخصت کرتے ہوئے دلیپ نے کہا کہ شائد یہ ملاقات آخری ہو کیونکہ بٹوارہ کی صورت میں مسلمانوں کے خلاف جو خوف ناک پلان بن رہا ہے تم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
دونوں ملازم اکرم اور ولی داد اپنی فیملی کے ساتھ فتح گڑھ موجود تھے، ریڈ کلف کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے،دونوں نے فیصلہ کیا کہ فوج کی نگرانی میں ٹرکوں کا بڑا قافلہ جو لاہور جارہا ہے اس پر روانہ ہوا جائے،وہ ٹرک جس پر اکرم اسکی بیوی ،بیٹا سوار تھا وہ خراب کیا ہوا بلوائیوں نے حملہ کر دیا،اکرم مارا گیا بیوی نے بچے کے ساتھ چھپ کر جان بچائی،ولی دا د نے انھیںاپنے گائوں میں پناہ دی۔
اسکی ڈیوٹی والٹن مہاجر کیمپ شعبہ آبادی کاری میں لگا دی ایک روز وہ اپنی جیپ میں جارہا تھا ، ایک شخص کو حسرت و یاس کی تصویر بنے دیکھا یہ اس کے دوست کا والد دل جیت سنگھ تھا، ولی داد کو کہا تمھاری چاچی مکئی میں چھپی ہے، دونوں کو سوار کرنے کے بعد دل نے کہا ان سے اکرم کا بدلہ لو ،پھر سوچا بے بس سے انتقام کیسا،50 مربع، حویلی کا مالک زیورات ہی لے جا سکا،،انھیں امرتسر پہنچایا، شہر ننگی جارحیت کی علمی تصویر تھا ہر طرف بے گوروکفن مسلمانوں کی لاشیں تھیں۔
عرصہ بعد دوست ڈاکٹردلیپ نے خط کے ذریعہ ولی داد کو اطلاع دی ,4جون1 میں984ہندوستان کی15ہزار فوج نے آپریشن بلیو سٹارکی آڑ میں گولڈن ٹیمپل پر حملہ کردیا،ہماری حویلی زد میں آ گئی ، والدین نے بچنے کے لئے مکئی کی فصل میں پناہ لیکن ہندوبلوائیوں نے ان پرتیل چھڑک کر آگ لگا دی،میرے والد دل جیت سنگھ کہتے اگر سکھ سیاستدان قائد اعظم کی بات مان لیتے تو پنجاب کا
بٹوارہ نہ ہوتا،گانگریس کے ساتھ مل کر اس کی تقسیم کو قبول کیا جب نہرو سرکار نے خالصتان کی تحریک دبانے کی کوشش کی تو ماسٹر تارا سنگھ کے
ہوش ٹھکانے آگئے۔فرق اتنا تھا کہ1947 میں امرتسر میں مسلمانوں کی اب سکھوں کی لاشیں بے گوروکفن گلیوں میں تھیں۔
و تفضل حسین جب بھی مشرقی پاکستان سے آتا خیر کی خبر کم ہی لاتا،دعویٰ کرتا کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے علیحدگی کی تحریک عروج پر ہے مگر میڈیا نہیں بتا رہا،فاطمہ جناح کی شکست،65 کی جنگ نے عوام کو بہت مایوس کیا،70کے سیلاب کے بعد
مرکزی، صوبائی حکومت مشرقی عوام کے زخموں پر مرہم رکھتی تو قربتیں بڑھ جاتیں مگر یہ موقع ضائع کر دیا ۔
ولی داد مختلف مقامات پر تعینات رہا،اس دوران اسکی زوجہ کینسر جیسے موذی مرض سے مقابلہ کرتے زندگی کی بازی ہار گئی،وہ اور بچے تنہا رہ گئے، صبح دفتر گیا تو اس کے آفیسر نے تحکمانہ انداز میں مشرقی پاکستان جانے کا کہا،ولی داد نے اپنی مجبوری ظاہر کی،آفیسر نے کہا تم حالات کی وجہ سے جانا نہیں چاہتے،یہ بات سن کر ولی دادآگ بگولہ ہوا، سر! میں نے مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن سے پاکستان کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا، زخمی ہوا، میرا خون بہا،جلسوں کی قیادت کی،اپنی زندگی دائو پر لگائی،آپ مجھ سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں، شیخ مجیب، ذوالفقار بھٹو، یحیی ٰ خاں جنہوں نے سنگین ترین حالات پیدا کئے ان سے کسی نے حب الوطنی کا سوال کیا ہے؟
جس روز سقوط ڈھاکہ ہو تفضل حسین جی بھر کر رویا،ولی داد کو چشمہ کے مقام پر بنگلہ مہاجرین کے کیمپ میں تعینات کر دیا،ایک لاکھ سے زائد بنگالی مقیم تھے،1947 کے مہاجرین اور1971کے مہاجرین میں بہت فرق تھا،اول الذکر سب کچھ لٹا کر پاکستان آئے تھے،بعد الذکر ملک ٹوٹنے پر اپنی ہی سرزمین پر اجنبی ہوگئے تھے،آخری قافلہ میں اس کا دوست تفضل حسین نم آنکھوں کے ساتھ بنگلہ دیش چلا گیا۔
والٹن کیمپ میں مہاجروں کی خبر گیری کے دوران اس کے کانوں میں ایک بچی کی آواز پڑی کہ میں نے آم کھانا ہے،صبح کیمپ جاتے ہوئے ولی داد نے بچی کے لئے آم لئے وہ بہت خوش ہوئی، ملاقات پر سربراہ نے بتایا کہ اس کادہلی میں کپڑا کا کاروبار تھا،ہنددوں نے پوری مارکیٹ اور گھروں کو آگ لگادی،ہم جان بچا کر نکلے مگر میرا چھ ماہ بیٹا جھلس کر مر گیا،ولی داد کی پوسٹنگ جب لاہور ہوئی تو وہی بچی ہمسایگی میں کپتان کی بیوی تھی، بطور نرس 65کی جنگ میںزخمی افسروں کی مرہم پٹی کرتی، سلوک سے متاثر ہو کر کپتان سے شادی کی، کپتان 71 کی جنگ میں مشرقی پاکستان یہ بیچاری بیوہ ہوگئی۔
ولی داد نے محدود آمدنی میںایمانداری کے ساتھ ملازمت کی،اللہ تعالی نے اس کا صلہ بچوں کی اعلی تعلیم اور ملازمت کی صورت میں دیا، اس کے کولیگ اکرم کی بیوی اور بیٹے کو اس نے بلوائیوں سے بچایا تھا، اس بیٹے کو فوج میں کمیشن مل گیا وہ ولی داد کا داماد بنا، ریٹائرڈمنٹ کے بعد انسانی خدمت کے لئے ایک ٹرسٹ بنا یا، رجسٹریشن کے لئے بہبود آبادی محکمہ کے آفیسر کے پاس گیا آفیسر نے کہا دوست کے والدین کو جب امرتسر چھوڑکر جیپ پر وآپس جارہے تھے تو جس لڑکے پر سکھ کرپان سے حملہ آور ہوئے، چیخ و پکار سن کر آپ نے حملہ آور پر فائر کیا اور جیپ میں سوار کرکے اِس کی جان بچائی تھی،وہ لڑ میں ہی تھا۔
اسے دل کا دورہ پڑا تو جس ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا، وہ معترف تھا اگر آپ کا ٹرسٹ میری مالی امداد نہ کرتا تو میں آج اس قابل نہ
ہوتا،میں نے مالی امداد کے لئے میڈیکل کالج کے پرنسپل کو درخواست دی اُس وقت آپ تشریف فرماتھے ، یہ خدمت انجام دینے کا وعدہ وفا آپ نے کیا ۔
رام دیوالی کا بوڑھا اپنے عمل سے واقعی'' ولی ''تھا، اسکا دل جذبہ حب الوطنی او ر خدمت انسانی سے لبریز رہا،ناول '' رام دیوالی کا ولی'' کے مصنف پروفیسر محمد امتیاز رسول سرجن ڈاکٹر ہیں، مگر اِنکی یہ تصنیف ادب کا اعلیٰ شاہکا اورمشرقی اقدار کاامین ہے۔
یہ ناول ایسا آئینہ ہے جس میںزندگی کے سارے روپ دیکھے جاسکتے ہیں، قلم فاونڈیشن لاہور نے شائع کیا ہے نسل نو اس کا مطالعہ لازمی کرے۔
385