سراغِ زندگی 5

 سراغِ زندگی

ہر انسان سکون کا متلاشی ہے، انسان سکون اکثر وہاں تلاش کرتا ہے جہاں وہ موجود ہی نہیں ہوتا۔ کوئی دولت میں سکون ڈھونڈتا ہے، کوئی شہرت میں، کوئی دوسروں سے آگے نکلنے میں، اور کوئی ہر اختلاف میں اپنی برتری ثابت کرنے میں۔ وقت آہستہ آہستہ یہ راز کھولتا ہے کہ سکون باہر کی دنیا میں نہیں، انسان کے اپنے باطن میں پوشیدہ ہے۔ جب دل انا، حسد، انتقام اور بے مقصد مقابلے سے آزاد ہو جائے تو زندگی بوجھ نہیں رہتی، نعمت محسوس ہونے لگتی ہے۔ بقول (علامہ محمد اقبال)
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن۔
زندگی میں ایک ایسا مرحلہ بھی آتا ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل جنگ دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے نفس، اپنی خواہشات اور اپنی انا سے ہے۔ جب تک انسان دوسروں سے متاثر ہونے، ان سے آگے نکلنے، انہیں شکست دینے یا ان کی خامیاں تلاش کرنے میں مصروف رہتا ہے، تب تک وہ اپنے اندر کے سکون سے محروم رہتا ہے۔ جس دن وہ اپنی توجہ دوسروں سے ہٹا کر اپنے باطن کی اصلاح کی طرف موڑ دیتا ہے، اسی دن اس کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہو جاتا ہے۔
ہماری معاشرتی زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی خوشی کا معیار دوسروں سے وابستہ کر لیا ہے۔ کسی کے پاس ہم سے زیادہ دولت، شہرت، اختیار یا کامیابی ہو تو بے چینی جنم لیتی ہے، اور ہم کسی سے آگے نکل جائیں تو ایک وقتی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ دونوں کیفیتیں عارضی ہیں۔ حقیقی خوشی نہ کسی کو ہرانے میں ہے اور نہ کسی سے بہتر ثابت ہونے میں، بلکہ اپنے آپ کو پہلے سے بہتر بنانے میں ہے۔
انسان کی شخصیت میں سب سے بڑی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب وہ دوسروں کی غلطیوں کا حساب رکھنے کے بجائے اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کمزوری نہیں بلکہ شعور، اخلاقی جرات اور پختگی کی علامت ہے۔ جو شخص اپنی غلطی مان لیتا ہے، وہ اپنی اصلاح کے دروازے بھی کھول دیتا ہے، جبکہ اپنی ہر بات کو درست ثابت کرنے کی ضد انسان کو حقیقت سے دور لے جاتی ہے۔
اسی طرح معاف کرنا بھی ایک عظیم انسانی وصف ہے۔ معافی کا مطلب ظلم کو درست قرار دینا نہیں بلکہ اپنے دل کو نفرت، کینہ اور انتقام کے بوجھ سے آزاد کرنا ہے۔ انتقام کی آگ سب سے پہلے اسی دل کو جلاتی ہے جس میں وہ بھڑکتی ہے۔ اس کے برعکس، معاف کرنے والا شخص اندرونی سکون، ذہنی آسودگی اور روحانی اطمینان حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تقریباً تمام بڑی اخلاقی اور روحانی تعلیمات معافی، درگزر اور برداشت پر زور دیتی ہیں۔
ہم اکثر دوسروں کو ان کی غلطیوں کا احساس دلانے، انہیں شرمندہ کرنے یا ہر قیمت پر اپنی بات منوانے کو اپنا فرض سمجھ لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ کسی کو زبردستی اپنی غلطی تسلیم کروانا ہماری ذمہ داری نہیں۔ نصیحت ضرور کی جا سکتی ہے، کسی کی اصلاح کا اختیارہمارے ہاتھ میں نہیں۔ جب یہ حقیقت سمجھ میں آ جاتی ہے تو انسان دوسروں کے رویوں سے کم اور اپنی ذمہ داریوں سے زیادہ وابستہ ہو جاتا ہے۔
اسی شعور کے ساتھ دوسروں میں خامیاں تلاش کرنے کی عادت بھی ختم ہونے لگتی ہے۔ انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ ہر شخص اپنی زندگی کے حالات، آزمائشوں اور کمزوریوں کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔ ایسے میں دوسروں پر تنقید کے بجائے ان کے لیے خیرخواہی اور دعا کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی رویہ معاشرے میں برداشت، احترام اور محبت کو فروغ دیتا ہے۔
سخت لہجوں، تلخ رویوں اور ناانصافیوں کا سامنا ہر انسان کو کسی نہ کسی مرحلے پر کرنا پڑتا ہے، پرہر ردعمل ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی، درگزر اور مثبت سوچ سب سے موثر جواب ثابت ہوتے ہیں۔ جب دل میں کسی کے خلاف کینہ باقی نہ رہے اور انتقام کی خواہش ختم ہو جائے تو انسان خود کو غیر معمولی حد تک ہلکا محسوس کرتا ہے۔ جسم، ذہن، دل اور روح پر سے ایک ایسا بوجھ اتر جاتا ہے جس کا احساس پہلے شاید کبھی نہیں ہوتا۔
آج کے دور میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور اضطراب کی ایک بڑی وجہ مسلسل موازنہ، مقابلہ اور دوسروں سے غیر ضروری توقعات ہیں۔ ہم اپنی توجہ اپنی ذات، اپنے کردار، اپنی ذمہ داریوں اور اپنے رب کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے پر مرکوز کر دیں تو زندگی کہیں زیادہ آسان، متوازن اور بامقصد ہو سکتی ہے۔ انسان دوسروں کی زندگی پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی زندگی کی تعمیر میں مصروف ہو جائے تو اس کے اندر شکرگزاری، قناعت اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
آخرکار زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ انسان اپنے حصے کی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھائے، اپنی اصلاح کرتا رہے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے، دل کو نفرت اور حسد سے پاک رکھے اور ہر حال میں اپنے رب کا شکر گزار بننے کی کوشش کرے۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو انسان کو اندر سے مضبوط، کردار میں بلند اور زندگی میں حقیقی معنوں میں خوشحال بناتا ہے۔جب انسان اپنی انا، انتقام، حسد اور بے مقصد مقابلے سے آزاد ہو جاتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اصل کامیابی دوسروں کو ہرانے میں نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے، اپنے دل کو پاک رکھنے اور سکون کے ساتھ زندگی گزارنے میں ہے۔
  لوگوں سے متاثرہوناچھوڑدیں۔
سب سے جیتنے کی خواہش رد کردیں۔
زیادتی کرنے والوں کو خودہی معاف کردیں۔
اپنی غلطیاں تسلیم کرنا شروع کردیں۔
آپ بہت خوشی محسوس کریں گے۔ جسم و روح۔ دل و دماغ بہت ہلکا۔بہتر اور آسانی محسوس کریں گے۔ دوسروں میں خامیاں تلاش کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
یہیں سے اپنی تلاش کاسفرشروع ہوگا جواصل سراغِ زندگی ہے
 

بشکریہ اردو کالمز