حضرت غالب نے کہا تھا’’حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں ....مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں‘‘۔ قربان جائیے، شیر شاہ سوری ثانی کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے، جن کا فرمان ہے کہ پاکستان مخالف بیرونی قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان سری لنکا بن جائے‘ ہم آئی ایم ایف کی ہر بات نہیں مان سکتے‘ یوں تو یہ بیان پڑھ کر سواد آ گیا لیکن کیا وزیر خزانہ واقعی سنجیدہ ہیں؟ یعنی کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت اقبال نے حضرت خوشحال خان خٹک سے متعلق کہا تھا، حرف حق با شوخی رندانہ گفت، گویا جو بات دل میں آئے سود وزیاں سے بے نیاز وہ و ہی کرجاتے ہیں جو حق سچ ہو۔ جناب یہ یاد رکھیں ہم بھارت تو کیا اقتصادی طور پر بنگلہ دیش بھی نہیں کہ کسی کو آنکھ بھر کر بقول فراز دیکھ سکیں۔ آپ کی جماعت تو کیا پاکستان کی اقتدار پرست جماعتوں پر آج بھی جاگیر داروں، وڈیروں کا قبضہ ہے، جبکہ بھارت نے آزادی کے پہلے ہی روز تین سو ریاستوں کے نوابوں کو چلتا کیا، جبکہ ہم اس دوران ہر ہفتے نئے حکمران کو چلتا کرنے کا شوق پورا کرتے رہے۔ بھارت میں آج تک ایک دن کیلئے بھی مارشل لا نہیں لگ سکا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں استحکام ہی جب آج تک نہیں آیاتو ہم کیوں کر مرحوم سلطان راہی کی طرح للکارے مار کر داد پا سکتے ہیں۔ ہم روز اول سے امریکہ کی گود میں جا بیٹھے، امریکہ یاترا کے بعد ایوب خان لیفٹیننٹ کرنل سے یکایک کمانڈر انچیف بن گئے، پھر نوکر شاہی نے جو کچھ کیا وہ کوئی سربستہ راز نہیں،آزادی کے بعد ان لوگوں کے ہاتھ اقتدار آیا جو کاسہ لیس تھے چنانچہ انہوں نے امریکہ کیلئے سب کچھ کیا، جبکہ بھارت غیر جانبدار رہا اور جہاں سے بھی ملا، اپنا مفاد حاصل کیا۔ اس نے اشتراکی بلاک کی خاطر وہ رسک نہیں لئے جو ہم نے امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے بچائو کیلئے لئے۔ مدعا یہ ہےکہ ہم نے امریکہ کی خاطر اپنی خود مختاری کو دائو پر لگایا جب روس کے 17ٹکڑے ہوئے تو ہم نے بڑے فخر سے اس کا کریڈٹ لیا، لیکن اس سوویت یونین کے ٹوٹنے سے ہمارے ہاتھ کیا آیا بلکہ امریکہ واحد سپر پاور بن گیا اور ہم بھیگی بلی کی طرح اس کی ہر شر ط مانتے رہے یہاں تک کہ نائن الیون کے وقت ہم سے دوٹوک کہا گیا ’’یا تو ہمارے ساتھ ہو یا نہیں۔‘‘ہم جب کالج گئے تو طلبہ سیاست اپنے جوبن پر تھی۔ ضیاالحق کا مارشل لابھی اگرچہ پوری قوت سے وطنِ عزیز کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا اور طلبہ یونین پر پابندی کے ساتھ سیاسی جماعتیں بھی کالعدم قرار دیدی گئی تھیں، لیکن طلبہ، مزدور، کسان، وکلا اور عوام مارشل لا کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دلوں میں نظام کی تبدیلی کے آدرشوں کیلئے پوری طرح متحرک تھے۔ یہ دہائی سردجنگ کے زمانے کی فیصلہ کن دہائی ثابت ہوئی۔ خطے میں بالخصوص سرد جنگ کا آغاز دوسری جنگ عظیم کے بعد ہو چکا تھا، دنیا دو بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی ایک کی قیادت برطانیہ کی جگہ لینے والا عالمی سامراج امریکہ کر رہا تھا اور دوسرے کی قیادت سوویت یونین کے ہاتھوں میں تھی۔ دونوں طاقتیں براہ راست ایک دوسرے کے سامنے آنے کی بجائے خطے کے ممالک کے ذریعے اپنے مفادات کی جنگ میں مصروف تھیں۔ پاکستان اپنے قیام کے فوری بعد امریکی بلاک میں چلا گیا تھا۔ سرد جنگ کے اس زمانے میں ہی یہاں دو مکاتب فکر نمایاں ہوگئے تھے، ایک ترقی پسند کہلائے تو دوسرے کو رجعت پسند یا بنیاد پرست کہا گیا۔ ترقی پسند جبر، جہالت، بھوک اور بیماری کے نمائندہ نظام کوبدلنے اور ملک میں امن، آزادی، عدل، مساوات اور خوش حالی پر مبنی بااصول نظام قائم کرنے کی اُمنگ رکھتے تھے، یہ وہ دور تھا جب ہر شے خالص ملتی تھی اس طرح سیاسی جماعتیں وطلبہ تنظیمیں بھی سچے جذبے کے ساتھ ذہنی اُفق پر کشادہ نظریاتی خدوخال رکھتی تھیں۔ دوسری طرف مذہبی یا خود کو اسلامی کہنے والی جماعتیں بھی رائج نظام کی تبدیلی اور ملک میں خلافت یا اسلامی نظام نافذ کرنے کی باتیں کرتی تھیں۔اپنے اپنے نظریاتی مقاصد کیلئے دونوں کے سامنے انقلاب کا تصور تھایہ سلسلہ 80کی دہائی تک جاری رہا، قیام پاکستان سےضیاالحق کی آمد تک تمام حکمران وہ کچھ ہی کرتے رہے جو خطے میں امریکی پالیسی ہوتی،اب اس کے ساتھ ساتھ کچھ برادر ممالک بھی ہاتھ بٹاتے ہیں ۔اس دوران اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو ایک سوشلسٹ انقلابی کے طور پر اقتدار میں آئے لیکن اُن کے دورمیں کئے گئے اقدامات بھی امریکی مفادات کی تقویت کا باعث بنے۔ اس روداد کا مقصدیہ ہے کہ نہ جانے آج پاکستان میں وہ کونسا جوہر نازل ہو گیا ہے کہ جاگیرداروں و سرمایہ داروں کےناز پرور وزیر خزانہ بین الااقوامی اداروں کے مقابلے کیلئے سینہ تان کر مثل جبل کھڑاہونے کا فراڈی پلائو پکارہے ہیں۔
183