یوم استحصال(کشمیر),بکھرتا ہوا بھارت  471

یوم استحصال(کشمیر),بکھرتا ہوا بھارت 

5اگست 2019 ء کو بھارتی جنتا پارٹی کی مودی حکومت نے جہاں اقوام متحدہ اور اپنے آئین کے ساتھ غداری کی وہاں دنیا میں دہشت گردی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ریاست منی پور سے ریاست ہریانہ تک   ہر طرف بربریت ہی بربریت ہے انٹرنیشل میڈیا اور بھارتی میڈیا حقائق چھپا رہا ہے ورنہ ریاست منی میں کئ مہینوں سے جنگی صورت حال ہے اسی طرح ہریانہ کے بھی حالات دگرگوں ہیں  جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی بھارت نے جس طرح انسانی حقوق پامال کررہا ہے اور انسانوں کے ساتھ اس کا وحشیانہ رویہ رہا ہے ہمیشہ یہ خود بھارت کے اپنے منہ پر طمانچہ ہے وہ دنیا بھر میں جمہوریت اور سکیولرازم کے گیت گاتا رہتا ہے اور یہاں خود انسانوں کے ساتھ جانوروں والا سلوک کر رہا ہے انسانیت کی تمام حدیں پار کردیں ہیں پوری وادی کشمیر میں دفعہ 144 لگا کر انسانی بنیادی سہولیات کی نفی کی گئ اشیاء خورد نوش سے لے کر وادی کشمیرہکا دنیا بھر سے رابطہ ختم کر دیا گیا انٹر نیٹ کی سہولیات سے پوری وادی کو محروم  کر دیا گیا, ذرائع ابلاغ پر پابندی لگا دی گئ کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیااگر ہم ماضی سیاسی حکومتوں کا جائزہ لیں تو 2014ء میں محبوبہ مفتی کی جماعت کے ساتھ بھارتی جنتا پارٹی نے الائنس بنایا تھا  کچھ عرصہ تک وہاں نام نہاد حکومت قائم رہی پھر وہاں پر  حکومت کو ختم کر کے گورنر راج لگا دیا گیا بھارٹی جنتا پارٹی کی حکومت مسلسل ڈھونک رچارہی ہے اگرچہ حالات مکمل طور پر صاف نظر آرہے تھے جب امریکہ کے سابقہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے  ثالثی کی پیش کش کی تھی کہ اگر دونوں فریق چائیں تو امریکہ ثالثی کا کردار ادا کر سکتا تھا مودی حکومت خاموش ہوگئ بھارتی میڈیا نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا مگر  اس وقت مودی حکومت کا رویہ بتا رہا تھا کہ اس حکومت کے کشمیر کے حوالے سے ارادے اچھے نہیں ہیں مودی کی پہلے الیکشن کی  مہم بھی مسلمانوں کے خلاف تھی وہ ہندو طبقے کو بار بار مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے مودی نے مذہبی کارڈ کیھلا آخر مذہبی کارڈ کیھلنے میں کامیاب ہوگئے ا گر بھارت میں 2019ء کے انتخابات کے حوالے سے بات کی جائے تو مودی حکومت نے پلواما کا ڈرامہ رچایا اور پھر ساری الیکشن مہم میں آرٹیکل 370 کا حوالہ دیتے رہے کہ اس کو ختم کروں گا اور 35اے کے حوالے سے بھی بات کرتے رہے کہ اس کو بھی تبدیل کیا جائے گا آرٹیکل 370جو اکتوبر 1947ء کو نافذ کیا گیا تھا صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اور کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئ اور 1954ء میں 35اے کے ذریعے مزید کشمیریوں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کی گئ کہ کشمیر میں کشمیریوں کے علاوہ کوئی زمین نہیں خرید سکے گا لیکن کشمیر کے اندر آزادی کی جد و جہد جاری رہی روز بروز یہ تحریک زور پکڑتی گئ وہاں کے نام نہاد سیاسی رہنماؤں کو بھارتی حکومتیں نوازتی رہیں کہ کسی طرح تحریک آزادی کو دبایا جائے مگر ناکام رہیں بھارت مسلسل اپنی  بربریت میں اضافہ کرتا گیا پائلٹ گن کا استعمال کیا گیا کئ ہزار لوگ بینائی سے محروم ہوئے ایک عالمی رپورٹ کے مطابق 1989ء سے لے کر دسمبر 2019ء تک 96ہزار کے قریب کشمیری شہید ہوئے ہزاروں کی تعداد میں حراست میں لے کے شہید کیے گئے 22ہزار کے قریب عورتیں بیوہ ہوئیں بہنوں کے سامنے بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا مگر تحریک آزادی کشمیر دب نہ سکی کشمیریوں کی تیسری نسل تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ ہے برہان وانی کی شہادت کے بعد اس تحریک کو نیا جوش و جذبہ ملا ہے اب یہ تحریک منزل کے قریب پہنچ چکی ہے 5اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات نے تمام کشمیری رہنماؤں کو یکجا کر دیا ہے آزادی پسند کشمیری رہنماؤں کے مؤقف کی جیت ہوئی ہے اب چار سال ہوگئے ہیں تمام تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں پوری وادی میں چار سال سے کر فیو لگا ہوا ہے پوری وادی کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے 5اگست کے بعد کوئی دن ایسا نہیں آیا جس دن کسی کشمیری کو شہید نہ کیا گیا ہولاکھوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں  سری نگر,بارا مولا,شوپیاں میں مسلسل آپریشن جاری ہے  بھارتی فوجی تمام حدیں پار کرچکی ہے- کشمیریوں کا مؤقف تبدہل  نہیں کر سکی پاکستان  دنیا بھر میں کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر دستک دی ہے اور مسلسل آواز آٹھا رہا ہے بہت سارے عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے سابقہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے نومبر2019ء میں پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر میں انسانی صورت حال بہتر بنانے پر زور دیا جائے کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اسی طرح ترک صدر رجب طیب اردگان عالمی فورم پر کئ بار کشمیریوں کی آواز بن چکے ہیں اسی طرح سابقہ ملائشین صدر مہاتیر محمد بھی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کے حامی ہیں چین اقوام متحدہ میں مسلسل کشمیر کے ایشو کو اٹھاتا ہے چین اور پاکستان ایک جان کی ماند ہیں-

بشکریہ اردو کالمز