قرآن مجید میں دو انبیاء علیہ السلام کا اپنی قوم کو بدعا کا ذکر ہے۔۔
ترجمہ : بنی اسرائیل میں سے جو کافر ہوئے ان پر داؤد اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کی زبان سے لعنت کی گئی، یہ اس لیے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گزر گئے تھے۔ ( المائدہ 78)
اہل تفسیر کے نزدیک جس قوم کو حضرت داود علیہ السلام نے بدعا دی وہ اصحاب سبت یعنی ہفتے کے دن کی نافرمانی کرنے والے تھے اس کا ذکر تو قرآن میں موجود ہے جیسا کہ
ترجمہ: اور آپ ان لوگوں سے اس بستی والوں کا جو کہ دریائے ( شور ) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے! جب کہ وہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ انکے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ظاہر ہو ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں ، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے ۔ (الاعراف 163)
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اُس بستی میں رہنے والے بنی اسرائیل کواللہ تعالیٰ نے ہفتے کا دن عبادت کے لیے خاص کرنے اور اس دن تمام دنیاوی مشاغل ترک کرنے کا حکم دیا نیز ان پر ہفتے کے دن شکار حرام فرما دیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش کا ارادہ فرمایا تو ہوا یوں کہ ہفتے کے دن دریا میں خوب مچھلیا ں آتیں اوریہ لوگ پانی کی سطح پر انہیں دیکھتے تھے، جب اتوار کا دن آتا تو مچھلیا ں نہ آتیں۔ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ تمہیں مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا گیا ہے لہٰذا تم ایسا کرو کہ دریا کے کنارے بڑے بڑے حوض بنالو اور ہفتے کے دن دریا سے ان حوضوں کی طرف نالیاں نکال لو، یوں ہفتے کو مچھلیاں حوض میں آ جائیں گی اور تم اتوار کے دن انہیں پکڑ لینا، چنانچہ ان کے ایک گروہ نے یہ کیا کہ جمعہ کو دریا کے کنارے کنارے بہت سے گڑھے کھودے اور ہفتے کی صبح کو دریا سے ان گڑھوں تک نالیاں بنائیں جن کے ذریعے پانی کے ساتھ آکر مچھلیاں گڑھوں میں قید ہو گئیں اور اتوار کے دن انہیں نکال لیا اور یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے دی کہ ہم نے ہفتے کے دن تو مچھلی پانی سے نہیں نکالی ۔ ایک عرصے تک یہ لوگ اس فعل میں مبتلا رہے ۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے اس بستی میں بسنے والے افراد تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔
(1)…ان میں ایک تہائی ایسے لوگ تھے جوہفتے کے دن مچھلی کا شکار کرنے سے باز رہے اور شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے۔
(2)… ایک تہائی ایسے افراد تھے جو خودخاموش رہتے اوردوسروں کو منع نہ کرتے تھے جبکہ منع کرنے والوں سے کہتے تھے کہ ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ ہلاک کرنے والا یاانہیں سخت عذاب دینے والا ہے ۔
(3)… اورایک گروہ وہ خطاکار لوگ تھے جنہوں نے حکمِ الٰہی کی مخالفت کی اور ہفتے کے دن شکار کیا، اسے کھایا اور بیچا۔
جب مچھلی کا شکار کرنے والے لوگ اس معصیت سے باز نہ آئے تو منع کرنے والے گروہ نے ان سے کہا کہ’’ ہم تمہارے ساتھ میل برتاؤ نہ رکھیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے گاؤں کو تقسیم کرکے درمیان میں ایک دیوار کھینچ دی۔ منع کرنے والوں کا ایک دروازہ الگ تھا جس سے آتے جاتے تھے اور خطا کاروں کا دروازہ جدا تھا۔ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان خطا کاروں پر لعنت کی تو ایک روز منع کرنے والوں نے دیکھا کہ خطاکاروں میں سے کوئی باہر نہیں نکلا، تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید آج شراب کے نشہ میں مدہوش ہوگئے ہوں گے، چنانچہ اُنہیں دیکھنے کے لئے دیوار پر چڑھے تو دیکھا کہ وہ بندروں کی صورتوں میں مسخ ہوگئے تھے۔۔
اس پر قرآن نے یوں تبصرہ فرمایا ہے کی
ترجمہ:
"اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہو جو تم میں سے ہفتے کے دن(مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل و خوار بندر ہو جاؤ ( البقرہ)
اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم نے جب رب تعالی سے ایمان لانے کی شرط پر کھانا مانگا تو پہلے تو حضرت عیسی علیہ السلام نے انہیں تنبیہ کی مگر وہ ضد پر اڑے رہے
ترجمہ: وہ وقت یاد فرمائیں جب کہ حواریوں نے عرض کیا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل فرما دے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو ۔( المائدہ)
اور جب قوم نے اس خواہش کا مقصد اپنے ایمان کو مضبوط کرنا بتایا اور اس دسترخوان کے نزول سے خوب پیٹ بھر کر نعمتیں کھانا بتایا اور اسے خوشی اور عید کا موجب قرار دیا ، تو حضرت عیسی علیہ السلام نے دعا فرمائی جس کے جواب میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا کہ
ترجمہ : حق تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ میں وہ کھانا تم لوگوں پر نازل کرنے والا ہوں ، پھر جو شخص تم میں سے اس کے بعد ناحق شناسی کرے گا تو میں اس کو ایسی سزا دوں گا کہ وہ سزا دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دونگا ( المائدہ)
اب اس واقعہ کی اصل احادیث میں ڈھونڈنا کچھ مشکل کام ہے البتہ روایات اور اسرائیلیات میں کچھ یوں ہے ( جس کی کوئی سند مجھے نہیں ملی)
کہ یہ دسترخوان جب عیسی علیہ السلام کی قوم پر نازل۔ہوا تو 40 دن سب ہی اس سےکھاتے رہے پھر حکم ہوا کہ صرف غریب کھائیں گے ۔۔ اور دسترخوان سے کچھ اٹھا کر نہیں لے کر جائیں گے ۔۔ جو کچھ بھی دسترخوان پر ہے وہ یہیں کھانا ہو گا۔۔ جس پر امراء نے بد عہدی شروع کی۔۔ اور ایک گروہ نے کھانا چرانا اور نافرمانیاں شروع کر دیں ۔۔جو کچھ غریب کے لئے اللہ نے رکھا تھا اسے زبردستی حاصل کرنا شروع کر دیا۔۔ جس کے نتیجے میں وہ گروہ خنزیر ( سور) بن گیا ۔ اور حضرت عیسی علیہ السلام جس شخص کو آواز دیتے وہ بھاگا بھاگا آتا مگر بول نہ سکتا۔۔ اور یہ تین دن زندہ رہے۔۔
لیکن اس واقعہ کی تائید حضرت عائشہ سلام اللہ علیہا کی ایک حدیث پاک سے ہوتی ہے۔
ایک دفعہ مدینہ کے یہودیوں نے ''السام علیکم'' کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی تو صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جواب دیا۔بایں الفاظ کتب حدیث میں محفوظ ہے۔
''بندروں اور خنذیر وں سے تعلق والو! تم پر ہلاکت ہو 'اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہو۔''(مسند امام احمد 2/241)
اس حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جنھیں بندر اور خنذیر بنایا گیا تھا وہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تھے۔
اسی طرف شاید قرآن کا اشارہ ہے کہ
ترجمہ: فرما دیجئے: کیا میں تمہیں اس شخص سے آگاہ کروں جو سزا کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک اس سے (بھی) برا ہے (جسے تم برا سمجھتے ہو، اور یہ وہ شخص ہی) جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور اس پر غضب ناک ہوا ہے اور اس نے ان (برے لوگوں) میں سے (بعض کو) بندر اور (بعض کو) سؤر بنا دیا ہے، اور (یہ ایسا شخص ہے) جس نے شیطان کی (اطاعت و) پرستش کی ہے، یہی لوگ ٹھکانے کے اعتبار سے بدترین اور سیدھی راہ سے بہت ہی بھٹکے ہوئے ہیں ( المائدہ)
امام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے اپنی صحیح میں عبداللہ بن مسعود رضي اللہ تعالی عنہما سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ بندر اور خنزیر وہی انہیں میں سے ہیں جنہیں مسخ کیا گيا تھا ؟
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( بلاشبہ اللہ عزوجل مسخ کیۓ گۓ کی نسل نہیں بناتا اور نہ ہی اس کی کوئ اولاد ہوتی ہے ، اوربلاشبہ بندراور خنزیرتو پہلے ہی موجود تھے ) (صحیح مسلم )
انہوں نے اللہ تعالی کےحرام کردہ کاموں کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالی نے اس کی سزامیں انہیں مسخ کردیا ، اورپھریہ سزا صرف بنی اسرائیل کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
عبداللہ بن مسعود رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( قیامت سے قبل مسخ اورزمین میں دھنسنا پتھروں کی بارش ہوگی ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 4059 ) اور صحیح ابن ماجہ ( 3280 ) ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامات قیامت بیان فرمائی ہیں وہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں ایک یہ ہے:
''مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میری امت کے کچھ لوگ اکل وشرب 'لھو ولعب اور فخر وغرور میں شب باشی کریں گے۔اللہ تعالیٰ انہیں بندر اور خنذیر بنادیں گے۔ان کا جرم یہ ہوگا:
(1) اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء بالخصوص شراب کو اپنے لئے حلال سمجھیں گے۔
(2)بازاری عورتوں اور رقاصاؤں سے تعلق رکھیں گے۔
(3) سود خوری اور ریشم پوشی کو وطیرہ زندگی بنائیں گے۔
(4) آلات موسیقی کوبکثرت استعمال کریں گے۔
(مسند امام احمد :5/329)
یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ اس امت میں بھی کچھ معصیت اورگناہوں کی سزا مسخ یعنی شکلوں کا بگاڑ ہوگا۔۔
اکثریتی مفسرین چہرے مسخ ہونا اصل صورت کے بگڑنے کو لیتے ہیں، لیکن بعض مفسرین کی رائے ہے کہ احکام الٰہی کی نافرمانی کرنے والوں کے جسم مسخ نہیں ہوئے تھے، بلکہ صرف اخلاق وکردار اور عادات واطوار بگڑ گئے تھے۔ سرسید احمد خان لکھتے ہیں:
"(کُونُواْ قِرَدَۃً) ہوجاؤ بندر اس کی تفسیر میں بھی ہمارے علمائے مفسرین نے عجیب و غریب باتیں بیان کی ہیں اور لکھا کہ وہ لوگ سچ مچ صورت و شکل میں خاصیت میں بھی بندر ہوگئے تھے۔ مگر یہ تمام باتیں لغو و خرافات ہیں۔ خدائے پاک کے کلام پاک کا یہ مطلب نہیں ہے۔ "
بعض مفسرین نے بھی ان کے سچ مچ کے بندر ہوجانے سے انکار کیا ہے، جس کو ہم بطور تائید اپنے کلام کے اس مقام پر نقل کرتے ہیں، بیضاوی میں لکھا ہے:
مجاہد کا قول ہے کہ ان کی صورتیں بندر کی سی نہیں ہوگئی تھیں بلکہ ان کے دل بندروں سے ہوگئے تھے، اور اس لیے بندروں کے ساتھ ان کو تشبیہ دی ہے، جیسے کہ خدا نے سورہ جمعہ میں گدھے کے ساتھ اپنے اس قول میں کہ ان کی مثال گدھے کی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں، تشبیہ دی ہے‘‘۔
(تفسیر القرآن وھو الھدی والفرقان،)
اسی طرح مولانا وحید الدین خان نے بھی الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اس بات کو اپنے مخصوص انداز میں اس طرح تحریر کیا ہے:
’’قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیا گیا ، اللہ نے ان کو بندر بنادیا، کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اخلاق بندروں جیسا ہوگیا۔ ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہوگئے
الغرض انسان خدا کی ایک ایسی مخلوق ہے جسے اس دنیا میں بااختیار و باشعور مخلوق بنا کر بھیجا گیا ہے اور اسے فقط احکام الٰہی کا پابند بنادیا گیا ہے۔لیکن جس انسان نے احکام الٰہی کی پابندی سے خود کو آزاد کیا اور اپنے خدا سے کئے ہوئے عہد وپیمان کو توڑ دیااور حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنانے کی سعی میں لگ گیاتو پھر اللہ تعالیٰ اس طرح کے انسانوں کو ان کی نافرمانی کی نوعیت کے مطابق الگ الگ طریقوں سے الگ الگ قسم کا عذاب دیتا ہے۔۔
آج اگر ہم اپنے گریبان اور اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ جنسی اعمال ہوں یا معاملات ان تمام میں حد درجہ جانوروں کے مشابہ اعمال کو ترجیح دے رہا ہے۔۔ جو اس بات کی تائید کرتا ہے کہ نبی کریمﷺکے آمد کے بعد اللہ کریم نے ان کی امت کا پردہ رکھا ہے کہ ان کے چہرے مسخ نہیں کئے۔۔ تاکہ دیگر اقوام کے آگے امت محمدیہ رسوا نہ ہو مگر اعمال و افعال میں ہم میں مختلف جانور بسے ہوئے ہیں۔۔ کہیں ہم بھیڑیوں جیسے حق کھاتے ہیں۔ کہیں ہم جانوروں کی طرح اپنی جنسی خواہشات پوری کرنے کے لئے اپنے پرائے محرم ،بچے اور مردہ عورت کی بھی پرواہ نہیں کرتے ،کہیں ہم لومڑی کی طرح صرف اپنے نفس کی خواہش پوری کرنے میں کسی کا شدید بڑا نقصان کرا دیتے ہیں۔۔ کہیں ہم برسوں کا ساتھ چھوٹے سے نفع کی خاطر ڈس کر آستین کا سانپ ثابت ہوتے ہین۔ کہیں ہم اپنے مفادات کی خاطر کتے کی طرح تلوے چاٹتے ہیں اور مفادات کے حصول تک کتے کی طرح زبان نکالے دم ھلاتے چاپلوسی کرتے ہیں۔۔ کہنے ہم اپنے پرائے کی تمیز کئے بغیر بچھو کی طرح سب کو ڈنگ مارتے ہیں ۔۔
آج کل نوجوان بچوں میں بانجھ پن اور اولاد نہ ہونے سے میں اکثر خوف زدہ ہو جاتا ہوں ۔۔کیونکہ مغضوب قوموں کو جب جانور بنا دیا جاتا ہے پھر ان کی نسل آگے نہیں چلنے دی جاتی۔۔ پتہ نہیں ہماری اولاد ہمارے کون سے اعمال کی سزا بھگت رہے ہوں ۔۔۔
ماتھے پر محراب ، الحاج ہونے سے اپنے کاروبار کانام مکہ مدینہ رکھ لینے سے ، رشوت، چوری اور حقوق پر ڈاکہ ڈال کر عمرہ و حج کرنے سے مسلمان نہیں ہوا جاتا۔۔ اندر کا جانور مارنا دراصل ایمان ہے۔ ورنہ جب زمین پر کعبہ کا طواف کرنے والے انسان نہیں تھے تو اللہ کی مخلوقات اور جانور بھی اپنی تمام جبلت اور وحشی پن کے باجود طواف کیا کرتے تھے۔۔
اللہ کریم نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا تھا مگر ہم نے پست سے پست ہونے کو ترجیح دی ۔
ترجمہ: بے شک ہم نے انسان کو بڑے عمدہ انداز میں پیدا کیا ہے۔پھر ہم نے اسے سب سے نیچے پھینک دیا ہے۔( التین)
اللہ کریم نے اپنے نبی کریمﷺ کو بھیجا ہی اس لئے کہ انسانوں کے اندر کا جانور مار کر انہیں انسانیت کے درجے پر فائز کر دیں۔۔ لہذا ثابت ہوا کہ جب جب نبی کریمﷺ کی اطاعت سے روگردانی ہوتی جائے گی۔۔ کسی نہ کسی جانور کی خو و خصلت ہمارا مقدر بنتی جائے گی۔۔
نورِ الٰہ کیا ہے محبّت حبیب کی
جس دل میں یہ نہ ہو وہ جگہ خوک و خر کی ہے