ہم جب بچے ہوتے تھے، تب سمجھتے تھے کہ ٹارزن صرف امریکہ میں ہوتے ہیں۔ دیکھ رہا ہوں، میری بات سن کر آپ زیرِلب مسکرا رہے ہیں۔ آپ کے مسکرانے کا مطلب میں بخوبی جان سکتا ہوں ۔ سمجھ سکتا ہوں۔ہم بڈھے ماں کے پیٹ سے بوڑھے پیدا نہیں ہوتے۔ ہم بھی آپ کی طرح کبھی بچے ہوا کرتے تھے۔ ہم بڈھوں نے بھی آپ کی طرح بچپن کے بعد لڑکپن دیکھا تھا۔ لڑکپن کے بعد ہم نے آپ کی طرح نوجوانی اور نوجوانی کے بعد جوانی دیکھی تھی۔جوانی کے بعد ادھیڑ عمری اور کچھ عرصہ بعد بڑھاپا دیکھا۔ بڑھاپے کی ابتدا ساٹھ برس کی عمر ہونے سے ہوتی ہے ۔تب اگر ہم سے بے خبری میں بھول چوک ہوجاتی تھی تب ہم پر سٹھیا جانے کی چھاپ لگ جاتی تھی۔ اس کے بعد انسان کا سلسلہ وار زوال شروع ہوتا ہے۔ اس لیے عمر کے ادوار دیکھنے کی جب بات نکلتی ہے، تب کہتے ہیں، کہ ’’ آکے جو نہ جائے ، وہ بڑھاپا دیکھا ‘‘۔ آنے کے بعد بڑھاپا جاتا ضرور ہے، مگر وہ ہمیں اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
تمہید کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ مسکرانا ترک کردیں۔ آپ مسکرائیں۔ہنسیں قہقہے لگائیں آگے چل کرزندگی میں مسکرانے اور ہنسنے کے مواقع معدوم ہوجاتے ہیں۔ آپ مسکرانا چاہیں ،مسکرا نہیں سکتے۔آپ ہنسنا چاہیں، ہنس نہیں سکتے۔ تب ہم سوچتے ہیں کہ ہم نے مسکراہٹیں اور ہنسی کہاں کہاں پر کھو دی ۔محسوس ہونے لگتا ہےکہ کھو دینے کے بعد ہنسی اور مسکراہٹیں ہمیں پھر کبھی واپس نہیں ملتیں۔ میں آپ کو اداس کرنا نہیں چاہتا۔ آپ ٹارزن کی کہانی سنیں۔ کہانی سنانے سے پہلے میں آپ کو ایک اور بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایسی بات آپ تب بتاتے ہیں، جب آپ بوڑھے ہوجاتے ہیں ٹارزن کی فلمیں ہالی ووڈ میں بنتی تھیں۔ تب میں چھوٹا سا بچہ تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ ٹارزن گورا چٹا امریکی ہے۔ امریکہ میں رہتا ہے، مگر کارنامے افریقہ کے جنگلوں میں دکھاتا ہے۔ ٹارزن بہت اچھا لگتا تھا ہم بچوں کو۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ایک نہ ایک روز بچوں کو بڑا بننا پڑتا ہے۔ آخرکار مجھے بھی بڑا بننا پڑا۔ بڑا بن جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ ٹارزن صرف امریکہ میں نہیں ہوتا۔ دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک میں ایک عدد ٹارزن ہوتا ہے، جو جنگل کے تمام جانوروں سے لڑتا پھرتا ہے۔ خونخوار جانوروں کو ٹھکانے لگاتا ہے اور مظلوم جانوروں کی مدد کرتا ہے۔ پاکستان میں ٹارزن کو تلاش کرنے میں مجھے زیادہ دیر نہیں لگی۔ لاہور میںملائی پیڑوں والی لسی اور پھجے کے پائے کھاکھا کر اس نے اپنی جان بنائی تھی، لاہور کے گھنے جنگلوں میں خونخوار جانوروں کو ٹھکانے لگاکر ٹارزن نے بڑی شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد ٹارزن نے کراچی کا رخ کیا۔ کراچی میں ٹارزن کو تلاش کرنا میرے لئے مشکل کام نہیں تھا۔
قومی شناختی کارڈ کے مطابق ٹارزن کا اصلی نام تھا، سجن بے پروا ۔ سجن بے پروا کسی کی پروا نہیں کرتا تھا، سوائے اپنی گول مٹول سجنی کے۔ اسی کےپڑوس میں ایک اور سجن نامی شخص بھی رہتا تھا۔ مگر وہ صرف سجن تھا۔ اس کا تخلص بے پروا نہیں تھا۔ دبلا پتلا تھا۔ مریل سا تھا۔ وہ بے پروا نہیں تھا۔ ڈرپوک تھا۔ اس لیے سب کی پروا کرتا تھا۔ یہی حال ممالک کا ہوتا ہے۔ مشٹنڈے ممالک کسی کی پروا نہیں کرتے۔مشٹنڈے ممالک کے احکامات کے مطابق ناتواں سانس لیتے ہیں۔ ہانڈی پکاتے ہیں۔ کیا پکاتے ہیں اس کے اصلاحی احکامات بھی مشٹنڈے ممالک جاری کرتے ہیں۔ ڈرپوک اور سہمے ہوئے ممالک خود کو کبھی بھی بے پروا کہلوانے کی جسارت نہیں کرتے۔ایک مرتبہ نہ جانے کیوں اور کیسے سجن بے پروا کو سیاست دان بننے کا شوق چرایا۔میں سمجھتا ہوں ٹارزن عرف سجن بے پروا کی ملاقات پاکستان کے چیدہ چیدہ اور میٹرک فیل گھاگ سیاستدانوں سے نہ ہوئی ہوتی تو پھر وہ کبھی بھی سیاستدان بننے کی نہ سوچتا اور اپنی ٹارزنی پر اکتفا کرتا۔ وائے قسمت سجن بے پروا کی ملاقات ایک چھٹے ہوئے سیاستدان سے ہوگئی۔
چھٹے ہوئے سیاستدان نے سجن بے پروا عرف ٹارزن کے سامنے پاکستانی سیاست کے سب راز کھول کررکھ دیے۔ اس کے بعد سیاست سے دور بھاگنا ٹارزن کے بس کی بات نہیں تھی۔پاکستان کرکٹ بورڈ سے متاثر ہوکر ٹارزن نے سیاست کے داؤ پیچ سیکھنے کے لیے غیر ملکی گورے چٹے صلاح کار اور مشیر رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ٹارزن بھانپ گیاتھا کہ اگر اس نے دیسی مشیروں پر بھروسہ کیا، تو دیسی مشیر کام کم اور اس سے کام زیادہ لیں گے۔ ٹارزن سے پلاٹ اور پر مٹ مانگیں گے۔ اپنے بھانجے بھتیجوں کو اعلیٰ عہدوں پر لگوائیں گے۔ اس لیے ٹارزن نے دیسی مشیروں کو مسترد کردیا۔ مشیر کو چھینک آگئی تو وہ نزلہ زکام کا علاج کروانے کے لیے مع اپنی فیملی کے، بیرون ملک روانہ ہوجائے گا۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹارزن نے ایک امریکی ایڈوائزر کا انتخاب کیا۔ پردیسی ایڈوائزر یعنی صلاحکار کانام تھا۔ وائز گائے،Wise.Guy۔وائز گائے نے ٹارزن پربڑی محنت کی۔ سب سے بڑھ کریہ کہ اس نے ٹارزن عرف سجن بے پروا کو پاکستانی جوش خطابت سے آگاہ کیا ۔ گریباں چاک کرکے لوگوں سے بولنا سکھایا۔ روسٹرم پر پندرہ بیس سچے جھوٹے مائیکروفون لگاکر دورانِ خطاب مکے مار مارکر مائیکرو فون توڑنے کا ہنر سکھایا۔اور آخرکار وہ دن بھی آہی گیا جب وائز گائے نے ٹارزن عرف سجن بے پروا کو سیاسی میدان کا رزار میں اتارنا تھا،’’ یہ لو عزیز ہموطنو، نئی پود کا ہونہار سیاستدان آپ کی قیادت کرنے کے لیے آگیا ہے‘‘۔سجن بے پروا کا پہلا عوامی جلسہ شروع بھی نہ ہونے پایا تھا کہ چند موٹر سائیکل سوار دند ناتے ہوئے آئے۔ انہوں نے جلسہ گاہ پرگولیوں کی بوچھاڑ کردی اور آناً فاناً منظر سے غائب ہوگئے۔ سجن بے پروا نے وائز گائے سے پوچھا’’ یہ سب کیا تھا؟ کون مجھے مارنا چاہتا تھا؟‘‘’’ یہ سیاسی ڈرامہ تھا سر‘‘۔ وائز گائے نے کہا۔’’ پاکستانی سیاست میں آپ کی دبنگ انٹری ہو چکی ہے۔ تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں۔‘‘