تقسیم سے قبل برصغیر کے مسلمانوں کے نزدیک مقبول عام نعرے ''مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ'' پاکستان کا مطلب کیال ا الہ الا'' رہے ان نعروں نے نوجوانوں کا خون گرما مانے میں اکسیر کا کام کیا۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کا کشمیر سے متعلق ماٹو ''کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے'' دراصل وہ پالیسی ہے جس پر قوم ابتک قائم ہے انشاء اللہ کشمیر حاصل کرکے تکمیل پاکستان کا خواب پورا کیا جائے گا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد سردارعبدالقیوم کا نعرہ'' کشمیر بنے گا پاکستان ''نے اہل وطن کو حوصلہ بخشا۔ قائدین پاکستان کے نقش پر چلتے ہوئے علی گیلانی نے'' ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے'' کا خواب اور نعرہ دے کر تحریک آزادی کا رخ موڑ دیا۔ سید علی گیلانی انپے نظریات جدوجہد اور کمنٹنٹ سے ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے س۔ بابائے حریت نے بھارتی پولیس کی حراست کے دوران یکم ستمبر 2021کو سرینگر ( حیدر پورہ میں) اپنی رہائش گاہ پر جام شہادت نوش کیاتھا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس نے برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یکم ستمبر کو حیدر پورہ سے سری نگر کی طرف مارچ کی اپیل کی ہے۔ یکم ستمبر 2023ء کو دوسری برسی عقیدت واحتشام سے منائی جائے گی، اس روز کشمیر کی آر پار قیادت اور بیرون ممالک میں مقیم کشمیری اور پاکستانی عہد کرے گی کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی تک جبر اور ظلم کے خلاف سینہ سپر رہے گی۔ سید علی شاہ گیلانی 29ستمبر 1929کو شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے ایک گاؤں میں پیداہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کی۔ سید علی گیلانی نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1950میں کیا۔ انہوں نے تحریک آزادی کو زور و شور سے آگے بڑھانے کیلئے 2003میں اپنی تنظیم ''تحریک حریت جموں وکشمیر ''کی بنیاد رکھی۔ انہیں کئی مرتبہ جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کارکن بھی منتخب کیا گیا لیکن جب کشمیری نوجوانوں نے بھارتی غلامی سے آزادی کیلئے مسلح جدوجہد شروع کی تو انہوں نے 1990میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ سید علی گیلانی عارضہ قلب میں مبتلا تھے جبکہ 2007میں انہیں گردوں کے کینسر کی بھی تشخیص ہوئی تھی۔ زندگی کے آخری مرحلے میں انہیں سانس کی د شواریوں کا سامنا تھا،وہ سات دہائیوں تک کشمیرکی تحریک حریت میں سرگرم رہے تھے۔اس کی پاداش میں انھیں کم سے کم 20برس تک بھارت اورکشمیر کی جیلوں میں قید یا نظربند رکھا گیا۔سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیریوں نے ایک ایسا رہنما کھو دیا ہے جن کے ساتھ سارے حتیٰ کہ مخالفین بھی محبت رکھتے تھے۔ مرحوم قائد نے ورثائ میں کشمیری قوم کے علاوہ دو بیٹے، بیٹیاں اور پوتے پوتیاں چھوڑے۔ سید علی گیلانی ایک اعلیٰ پائے کے مصنف اور مثالی خطیب تھے۔ سید علی گیلانی دل کی گہرائیوں سے پاکستان کے ساتھ محبت رکھتے تھے۔ وہ ریاست جموں وکشمیر کی بھارت سے آزادی اوراس کا پاکستان سے الحاق چاہتے تھے۔سید علی شاہ گیلانی نے کشمیری عوام کوحق خودارادیت دلانے کے لیے پوری زندگی دلیرانہ جدوجہد کی۔انھیں قابض بھارتی حکام نے جبروتشدد کا نشانہ بنایا لیکن وہ پوری زندگی آہنی عزم کے ساتھ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہے تھے۔پاکستان میں سیّد علی گیلانی کی وفات پر قومی پرچم سرنگوں رہا اورسرکاری طورپر ایک روزہ سوگ منایاگیا تھا۔جبکہ آزاد کشمیر حکومت نے سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔ آزاد کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں سید علی شاہ گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی تھی۔ جموں و کشمیر لبریشن سیل نے اس موقع پر خصوصی سوشل میڈیا کیمپینز بھی کی تھیں۔ سیدعلی گیلانی کو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے عشروں پرمحیط طویل جدوجہد کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے ملک کے سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ نشان امتیاز سے نوازا تھا۔ سیدعلی گیلانی کا''ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے''کا نعرہ آج پوری دنیا میں گونج رہا ہے۔سید علی گیلانی کشمیریوں کے حق خودارادیت کے تحفظ اور آواز بلند کرنے میں شامل رہے، ان کی خدمات آج بھی ناقابل فراموش ہیں، بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی وجہ سے انہیں بھارت کے ہاتھوں عمر بھر ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کی طرف سے حریت اور آزادی پسند رہنماؤں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے قانون کے خلاف ہے، بین الاقوامی قانون ہر شہری کو اس کے حق خود ارادیت اور آزادی کی اجازت دیتا ہے، لیکن بھارت طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو سلب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مطابق کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے۔ قائد تحریک سید علی شاہ گیلانی ایک فرد نہیں تحریک اور مشن کا نام ہے جس کا نعرہ کشمیر بنے گا پاکستان ہے۔
217