شوگر۔۔ایک خاموش قاتل 170

شوگر۔۔ایک خاموش قاتل

یوں تواس ملک اورمعاشرے میں بہت ساری بیماریاں عام ہوتی جارہی ہیں لیکن اس وقت شوگراورہائی بلڈپریشرکی بیماری جس رفتارسے ہرعام وخاص،چھوٹے اور بڑے کونشانہ بنارہی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔پہلے کہیں پچاس میں ایک اورسومیں ایک دوبندوں کوشوگراوربلڈپریشرکامسئلہ ہوتالیکن اب شوگرتوہرگھراوردرکاخاموش مہمان بنا بیٹھاہے۔آج کل جس کوبھی دیکھیں وہ شوگرکاروناروتادکھائی دے رہاہے۔بیماریاں توساری اذیت ناک اوربری ہیں لیکن شوگریہ ایسی گندی بیماری ہے کہ یہ پھرانسان اورخاندان کی جان ہی نہیں چھوڑتی۔سال پہلے کی بات ہے ہمارے پڑوس میں بارہ تیرہ سال کی ایک بچی تھی،اچانک اس کی طبیعت خراب ہوئی اورایسی خراب ہوئی کہ کئی گھنٹوں تک وہ پھر بے ہوش رہی،اس معصوم کووالدین جب ہسپتال لیکرگئے توپتہ چلاکہ اس کاشوگرڈاؤن ہوچکاہے۔ہمارے چچاحضرت یوسف جوروزگارکے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم تھے،چنددن پہلے اچانک وطن واپس آئے تواس کی حالت دیکھی نہیں جارہی تھی،شوگرنے اس کاایساحال کیاتھاکہ چلناپھرناتودوروہ اٹھنے بیٹھنے کے بھی قابل نہیں تھے۔کئی ڈاکٹروں سے چیک اپ اورہسپتال میں کئی دن داخل رہنے کے بعداس نے کچھ سکھ کاسانس تو لیالیکن چلنے پھرنے کے وہ اب بھی قابل نہیں۔ہسپتال کے جس وارڈمیں وہ داخل تھے اس وارڈمیں شوگرکے اتنے اورایسے ایسے مریض تھے کہ جن کودیکھ کرخدایادآجاتا۔شوگرکی وجہ سے کسی کی انگلیاں کٹی ہوئی تھیں توکسی کی ٹانگیں جگہ جگہ سے چیری ہوئی تھیں۔ایک ہفتے میں چچاکے بھی پاؤں اورٹانگ کے کئی آپریشن ہوئے۔چچاکی وجہ سے شوگرکے بارے میں کئی ڈاکٹروں سے تفصیلی بات کرنے کاموقع ملا،سارے ڈاکٹرز کے مشوروں،ہدایات اورتعلیمات کانچوڑفقط یہی ہے کہ شوگرانسان کاایک خاموش قاتل ہے،یہ بہت ہی آہستہ آہستہ انسان پروارکرتاہے،اس سے بچاؤکاواحدطریقہ اورذریعہ پرہیزاوراحتیاط ہے۔جولوگ پرہیزاوراحتیاط کرتے ہیں ان کاپھریہ کچھ نہیں بگاڑسکتا لیکن جولوگ اس کومعمولی شئے سمجھ کرنظراندازکردیتے ہیں وہ اس سے پھربہت نقصان اٹھاتے ہیں۔شوگرکی وجہ سے ایک بارکوئی عضوکٹناشروع ہوجائے توپھروہ آسانی سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ہمارے کئی یاردوست اورجاننے والوں کوسالوں سے شوگرکاعارضہ لاحق ہے وہ پرہیزاوراحتیاط کرکے اب بھی اچھی طرح جی رہے ہیں۔تمام بیماریوں کاعلاج صرف ہسپتال اورڈاکٹرنہیں ہوتے کچھ بیماریوں سے بچاؤانسان کے اپنے ہاتھ میں بھی ہوتاہے۔شوگرخاموش قاتل ضرورہے لیکن یہ کوئی موت نہیں۔موت وہ تواٹل ہے،کوئی بیماری ہویانہ۔موت توپھربھی آنی ہے۔اس کاتوٹائم مقررہے۔موت نے توشوگر،کینسر،ہائی بلڈپریشراورہارٹ اٹیک جیسی بیماریوں کونہیں دیکھناکہ کسی کویہ خطرناک بیماریاں لگیں گی توان کوموت آئے گی۔موت توان کوبھی آتی ہے جن کوزندگی میں کوئی بیماری نہیں لگی ہوتی۔ہم روزانہ ایسے کتنے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جواچھے بھلے اورخاصے صحت مندہوتے ہیں لیکن جب ان پرموت آتی ہے توپھرلمحوں میں وہ کیسے فناہوجاتے ہیں۔اس کے برعکس کینسر،ایڈزاورہارٹ کے ایسے مریض جوہسپتال کے بیڈزپرآخری سانسیں گن رہے ہوتے ہیں وہ مرض سے صحت یاب ہوکرگھروں کوچلے جاتے ہیں۔آپ نے اکثردیکھاہوگاکہ ایسے مریض جن کے بارے میں لوگ کہتے اورسوچتے ہیں کہ یہ اب مرنے والے ہیں آج مریں یاکل۔وہی مریض پھرسالوں زندہ رہتے ہیں ان کے مقابلے میں ایسے لوگ جن کے بارے میں کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتاکہ ان کوبھی کچھ ہوگاوہ راتوں رات مرجاتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا،سمجھنااورسوچناکہ جوانسان بیمارہوگاتووہی مرے گایہ سوچ اورنظریہ ہی غلط ہے۔موت کابیماری اورعمرکے ساتھ کوئی تعلق اوررشتہ ہی نہیں۔بیماری یہ توآزمائش اورایک امتحان ہے۔اس لئے جولوگ شوگرسمیت چاہے جس بیماری میں بھی مبتلاہوں انہیں اس آزمائش اورامتحان سے نکلنے کے لئے علاج، احتیاط اورپرہیزکے ساتھ رب سے بھی خصوصی طورپررجوع کرناچاہئیے۔جورب بیماری لاتاہے وہ اس بیماری سے پھرشفاء بھی دیتاہے۔بحیثیت مسلمان ہماراتویہ ایمان اورعقیدہ ہے کہ کوئی بیماری ایسی نہیں رب کے خزانوں میں جس کی شفاء اورعلاج نہ ہو۔ڈاکٹروں سے،، لاعلاج مریض،، کے سرٹیفکیٹ پانے والے ہزاروں ولاکھوں نہیں کروڑوں واربوں مریض بھی اللہ کے درسے کبھی مایوس اورلاعلاج واپس نہیں لوٹے۔اصل شفاء تووہی رب دیتاہے۔اس لئے کوئی بھی مریض دل چھوٹانہ کریں۔ہمت،حوصلے اوررب کادامن پکڑنے سے نہ صرف بیماریوں بلکہ زندگی کے ہرامتحان اورآزمائش کامقابلہ ممکن ہے۔کوشش اورہمت انسان کرتاہے،شفاء اورکامیابی آگے اللہ دیتاہے۔شوگرکے مریضوں کے لئے یہ ہے کہ اس مرض کی زدمیں آنے والے تمام بہن،بھائی اوردوست علاج کے ساتھ احتیاط اورپرہیزپربھی پوری توجہ دیں۔جن اموراورچیزوں سے ڈاکٹروں نے منع کیاہے ان سے منع ہی رہیں اورجن چیزوں وکاموں کوڈاکٹروں نے کرنے کاکہاہے ان کوپابندی کے ساتھ کرتے رہیں۔صحت ہزارنعمت ہے۔جان ہے توجہان ہے۔اگرجان نہیں توپھرباقی کاموں کاکیافائدہ۔۔؟شوگرکامرض علاج میں غفلت اوربے احتیاطی وبدپرہیزی کی وجہ سے بگڑتاہے،یہ جب بگڑتاہے توپھربہت مشکل سے انسان واپس اپنے مقام پرآتاہے۔اس کے مریض بڑی اذیت اورتکلیف میں پھرزندگی گزارتے ہیں۔اس کے لگے زخم بھی پھرجلدٹھیک نہیں ہوتے۔شوگرکے مریض پابندی کے ساتھ اپناشوگرچیک کرتے رہیں اورکھانے پینے میں خصوصی احتیاط کریں۔جس چیزسے مرض بڑھنے کاخدشہ اوراندیشہ ہواس سے کوسوں دوررہیں۔یہ سامنے آکرکچھ نہیں کہتالیکن اندراندرسے یہ انسان کوکھوکلاکرکے چھوڑتاہے۔یہ ایک خاموش قاتل ہے۔اس سے جس قدربھی ہوبچنے کی کوشش اورتدبیرکی جائے۔شوگرکے مریضوں کوتواس سے ہروقت ہوشیاررہناچاہئیے تاکہ اس کی تباہی سے بچاجاسکے۔

بشکریہ اردو کالمز