لہجہ آپ کی شائستگی کا آئینہ 161

لہجہ آپ کی شائستگی کا آئینہ

ایک معزز شخصیت نے سامنے آنے والے ملزم کو عدالت میں داخل ہونے پر بے ساختہ کہا.... ’’آپ کو دیکھ کرخوشی ہوئی ‘‘۔ اب اسی ملزم نے فون پر بات کرتے ہوئے، اس معزز شخصیت کے بارے میں کہا ’’وہ تو نجانے کیسا ہے‘‘۔ یہ ہے تہذیب اور لہجوں کا فرق جو آپ کی بنیادی تربیت کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ روز دن میں کئی بار ، وزیر داخلہ کی گفتگو سنتے ہونگے شروع ہوتے ہی، اپنا فون اس لیے بند کر دیتےہیں کہ معلوم ہے لغویات کے ملغوبے کا دفتر کھل جائے گا۔ اسی طرح مگر ذرا اس سے کم وزیر اطلاعات کی بھی زبان پھسل جاتی ہے۔

سیاست میں گفتگو سیکھنی ہے تو قائد اعظم ، مولانا آزاد اور حسرت موہانی کے لب و لہجہ کو یاد کریں اور اگر انگریز ی زبان میں بد تہذیبی دیکھنی ہو تو ٹرمپ کی گفتار کو سنیں۔ ہندی میں بد زبانی سننی ہو تو امیت شاہ کو انڈیا کے کسی بھی شہر میں بولتے سنیں۔ ٹی وی اور کان دونوں بند کر لیں گے۔ اچھی انگریزی سننا ہو تو رابرٹ فرسک کو سن کر لطف اٹھائیے۔

آئیے پاکستانی سیاست کے مہروں کے لہجوں اور الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے جائزہ لیں۔ احسن اقبال اورخرم دستگیر بولتے وقت ہائپرنہیں ہوتے جب کہ عمران خان ہو کہ فواد چوہدری اور کبھی کبھی شہباز شریف بھی ہائپر ہو کر طعنہ دینے کو مقابل لوگوں کو مکار، فریبی کہہ کر دل کی بھڑ اس تو نکال لیتے ہیں مگر پڑھالکھا شخص ہر چند بہت نوجوان ہے مگر گفتگومیں شائستگی ہے بلاول بھٹو، اپنی ماں اورنانا کی طرح بولنے اور آہستگی سے چوٹیں کرنے کا لہجہ اختیار کرتا ہے۔ ادیبوں کا لہجہ سننا ہو تو اپنی فاطمہ بھٹو انگریزی میں اور ٹونی مارلیس کا بولنا آپ کو سننے کی طرف مائل کرتا ہے۔ سب سے زیادہ خوبصورت طارق علی کی تقریر ہوتی ہے۔ چوہدری نثار کئی گھنٹے بولتےتھے۔ گفتگو میں مغز کتنا ہوگا۔ سب ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوتے تھے ’’کہنا کیا چاہتے ہیں‘‘۔ تین دفعہ وزیر اعظم ،پرچیوں کے بغیر اب بھی جب بولتے ہیں تو گفتگو میں ’’مجھے کیوں نکالا ‘‘ والی تلخی عود کر آتی ہے۔ پاکستان میں آئین کی پچاس سالہ تقریبات منعقد ہوئیں۔ بڑا مجمع تھا۔ خیر اس ملک میں ویہلے بندے اور بیکار نوجوان لاتعداد ہیں۔ وہ آئین جو ہر دور حکومت میں الٹا کر رکھ دیا گیا۔ اس کا بجائے جشن کے، تجزیہ کرنا چاہئے تھا کہ جب بھی ترمیم کی گئی۔ کیا اس زمانے کے کسی ’بڑے ‘کی خواہش اور ضرورت کےتحت کی گئی یا عوام کی ضرورت کے دفاع میں۔؟ میں غلط لکھ رہی ہوں عوام کی ضرورت اور اہمیت ہوتی تو 9مئی سے 10مئی تک جو وحشیانہ اقدمات کئے گئے اور پورے ملک میں قیمتی جانوں کو تو جانے دیجئے، ملک بھرمیں تاریخی اداروں اور عمارات کو جلا کر خاک کر دیا گیا۔ جب سے پاکستان بنا ہے۔ لاہور چھائونی میں کونے کا ایک گھر تھا۔جسے کور کمانڈر کا گھر کہا جاتا تھا۔ کسی بھی زمانے کے حکمراں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ گھر قائد اعظم کا تھا۔

اب جب میڈیا نے شور مچاتے ہوئے بار بار جناح ہائوس کہا تو تاریخ دانوں سے پوچھا کہ اس عمارت کا قائد اعظم سے کیا تعلق رہا ہے۔ پتہ چلا کہ قیام پاکستان سے پہلے یہ گھر قائد اعظم کا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد، اس گھر کو چھائونی میں ہونے کے باعث، آرمی ہائوس کہہ دیا گیا۔ یہ مت بھولئے کہ محترمہ فاطمہ، اپنے آخری سانس تک، اس کی ملکیت کے لئے لڑتی رہیں۔ مگر اتنی عظیم شخصیت کی بات کسی حکمراں ،کسی عدالت نے نہ سنی۔ بالکل ویسے ہی جیسے بھٹو صاحب کی پھانسی کا حکم ایک آمر کے کہنے پر،ا ن منتظمین نے دیا جو مرتے دم تک شرمندگی کا اظہار کرتے رہے۔ موجود چیف جسٹس کے ہاتھ میں قلم ہے کہ استرا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم نے اسی طرح بنگالیوں کے گھروں، بلڈنگوں اور دانشوروں کو پھانسی دے کر گھروں کے دروازوں پر لٹکا دیا تھا۔ یہ کس نے کیا تھا۔ باجوہ صاحب نہیں مانتے مگر حمود الرحمن کمیشن رپورٹ سب کچھ بتا رہی ہے۔ 9مئی اور 10مئی کوپورے ملک میں ڈنڈے، پٹرول بم، جلائو گھیرائو اس قدر تھا کہ لگتا تھا کہ کوئی بہت بری پنجابی فلم چل رہی ہے۔ ہم نے 1947میں پھر 1971کے علاوہ بے مقصد جنگوں میں غریب اور فوجی جوانوں کو مروایا۔ میڈیا پہ کہتے تھے ہم زندہ قوم ہیں۔

بار بار ایک سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ جس کا جواب حکومت ابھی تک نہیں دے رہی۔ مگر عندیا ہے کہ مخالف پارٹی کو بین کر دیا جائے۔ ایک دفعہ پیچھے مڑ کر دیکھیں، کبھی کمیونسٹ پارٹی، کبھی اے این پی اور عوامی لیگ کے علاوہ ایک دفعہ جماعت اسلامی کو بین کر کے نتائج قوم کو بھگتنا پڑے۔ حکومت یہ بھی کہہ رہی ہے کہ دہشت گرد جو پکڑے گئے ہیں۔ ان کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پھر وہی عدالتیں ۔کیا ان کو بھی خوش آمدید کہیں گی۔ مجھے اس عمر میں بار بار یہ خیال کیوں ستا رہا ہے کہ ساری حکومت ساری پولیس ،ساری فوج ایک طرف وہ جو باقاعدہ تربیت یافتہ جلائو گھرائو کرنے میں مشاق تھے۔ وہ دو دن تک وہ کرتے رہے، جس کی تربیت تھی، کس نے اور کیوں یہ تربیت دی اور ہماری ساری ایجنسیاں جو بے چارے غریب بندے کو جیل بھیج دیتی ہیں اور ان کے ہی بقول آٹھ مہینے سے یہ ٹریننگ ہو رہی تھی۔ بوتل بم بنانا سکھایا جا رہا تھا۔ کوئی مجھے بتا دے وہ سب ایجنسیاں کہاں ڈیوٹی دے رہی تھیں۔ وہ آنکھیں بند کیسے تھیں یا خود بھی اپنی اپنی جان بچا رہی تھیں۔ اب کیا کریں کہ حکومت خود کو بچائے جا رہی ہے۔ مظاہرہ کس کے خلاف، یہ سب تمہارے تیار کردہ بت ہیں۔ میانوالی ایئر بیس کو جلانے کا ارادے کرنے والے پاکستانی تو نہیں ہو سکتے ۔ وہ کون تھے۔؟

بشکریہ ڈان ںیوز