پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے غیر منقسم ہندوستان میں وسطی اور جنوبی علاقوں میں تعلیم ترقی پر تھی جبکہ شمال مغربی علاقہ جات میں تعلیم کی شرح مقابلتاً بہت کم تھی‘ پاکستان کے قیام سے جہاں مسلمانوں کا ہندوستان سے پاکستان ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا وہاں وسطی ہندوستان یعنی یوپی وغیرہ سے بھی مسلمانوں کی پڑھی لکھی آبادی یہاں منتقل ہوئی‘نئے ملک کے لئے نیا نظام پاکستان کی ضرورت تھی‘ہندوستان سے آئے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد جنہیں اردو سپیکنگ کہا جاتاہے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی اعلیٰ آسامیوں پر چھا گئے‘ اس وقت ایسا محسوس ہونے لگاکہ پاکستان پر انتظامی تسلط صرف ہندوستان سے آئے ہوئے مہاجرین کے ہاتھوں میں چلا گیا چونکہ آزاد ملک پاکستان اسکی پوری آبادی کی فلاح و بہبود کے لئے قائم ہوا تھا اسلئے ملک کے تمام حصوں کی آبادی کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے کوٹہ سسٹم کا نظام رائج کردیاگیا‘تمام وفاقی آسامیوں پر میرٹ کے علاوہ اس وقت کے صوبوں پنجاب‘ سندھ ‘بلوچستان‘ شمال مغربی سرحدی صوبہ‘ مشرقی پاکستان کے امیدواروں کے لئے مخصوص کوٹہ رکھ دیا گیا اس طرح سے پسماندہ علاقوں کے باشندوں کا اعلیٰ آسامیوں پرآنا ممکن ہوگیا علاوہ ازیں حکومتی محکموں میں بھی ماتحت اہلکاروں کے بچوں کی بھرتی کے لئے مخصوص کوٹہ مقرر ہو گیا جسے سن کوٹہ کہا جاتا ہے‘ گزشتہ چند دہائیوں سے وطن عزیز دہشت گردی کی لہرسے متاثر ہوا ہے جس سے کئی اہلکار ہم وطنوں کی حفاظت کے دوران شہید ہوگئے‘ شہداءکے ورثاءکے لئے بھی دوسری مراعات کے علاوہ انکی جگہ بھرتی کے لئے نیکسٹ آف کن رکھ دیا گیا یعنی اگر کوئی پولیس اہلکار شہید ہو گا تو اس کی جگہ اسکے بیٹے ‘بھائی یا بےٹی کو بھرتی کر دیا جائے گا۔
آج سات دہائیاں گزر گئیں اور ملک میں کوٹہ سسٹم رائج رہا‘جہاں اس سسٹم سے فوائد حاصل ہوئے وہاں اس سسٹم کو غلط استعمال بھی کیا گیا‘ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے انفرادی میرٹ کو ترجیح دینا لازمی ہوتا ہے اگر پاکستان کے قیام کے شروع کے دور اور آج کے زمانے کی گورنمنٹ مشینری کی صلاحیت کا موازنہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ ماضی کے حالات آج سے حد درجہ بہتر تھے‘ اس وقت برٹش راج کا میرٹ پر مبنی حکومتی نظام قائم تھا لیکن کوٹہ سسٹم کے رائج ہونے سے جو اسوقت ضروری سمجھا گیاتھا حکومتی مشینری میں پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کم معیار کے افراد اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو گئے‘ ان افراد نے ذاتی طور پر فائدہ اٹھایا لیکن اپنے پسماندہ علاقہ کی ترقی کو نظرانداز کر دیا‘ اول یہ کہ حکومتی مشینری میں داخل ہونے اور پاکستان کے بڑے شہروں میں فائز ہونے کے باوجود اپنی اولاد کو بھی ڈومیسائل کی بنیاد پر کوٹہ سسٹم سے مستفید کرتے رہے‘دوئم یہ کہ بطور سرکاری اہلکار اپنے پسماندہ علاقوں میں تعیناتی سے گریز کرتے ہوئے بڑے شہروں میں رہنے کو ترجیح دی‘حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی حکومت نے ڈومیسائل کی بنیاد پرڈاکٹروں کو اپنے علاقوں میں تعینات کرنا چاہا تو کئی ڈاکٹروں نے جوپسماندہ علاقوں کے رہائشی تھے اس پالیسی کی مخالفت کی‘ ماتحت عہدوں کے لئے تمام محکموںمیں سن کوٹہ رائج ہے جس کے تحت ریٹائرڈ یا وفات پانے والے اہلکار کے بچوں کےلئے مخصوص نشستیں مقرر ہیں۔
چاہے اولاد کتنی ہی نالائق یا غیر موزوں کیوں نہ ہو اسے دوسرے حاجتمند ‘ قابل اورمحنتی امیدوار پر ترجیح دی جاتی ہے اس عمل سے نہ صرف دوسروں کے روزگار کے حصول میں حق تلفی ہوتی ہے بلکہ غیر موزوں اہلکار کی شمولیت سے کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے‘ پولیس ایک ایسا اہم محکمہ ہے جس کی کارکردگی سے ہر عام و خاص شہری روزمرہ زندگی میں متاثر ہوتا ہے اسی لئے فٹ کانسٹیبل سے لیکر اے ایس آئی اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی بھرتی کے لئے حکومت کی طرف سے اعلیٰ معیار مقرر کیا گیا ہے جس میں جسمانی قوت‘ تعلیمی معیار اور لیڈر شپ کے اوصاف شامل ہیں تاہم دوران سروس وفات کی صورت میں اہلکار کے بیٹے‘ بھائی یا بےٹی کو پولیس میں ملازمت دینا لازمی سمجھا جاتا ہے‘ایک اے ایس آئی جو اسی بنیاد پر بھرتی ہو اور اسے کسی قتل کی تفتیش پر تعینات کر دیاجائے تو کیا وہ قانون اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کرسکے گا ؟ بہتر سال طویل عرصہ ہے کوٹہ سسٹم کو رائج ہوئے اس کے مقاصد پورے ہوگئے‘ اب وقت آگیا کہ ہر سطح پر یہ سسٹم ختم کرکے میرٹ اور صرف میرٹ کی بنیادپر حکومتی ملازمتیں دی جائیں ۔پھر بھی اگر کوٹہ سسٹم ضروری ہو تو ایسے لوگوں کو بے ضرر سی ملازمتےں دے کر برسرروزگار کیا جاسکتا ہےں۔
کوٹ سسٹم کاخاتمہ