صدرٹرمپ کااسرائیل فلسطین حل؟

 گزشتہ روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاﺅس میں اسرائیل فلسطین تنازعہ حل کے منصوبہ کااعلان کردیا‘ اعلان کے وقت اسرائیل کے وزیراعظم بنجن نتن یاہو ان کیساتھ کھڑے تھے جبکہ مشرق وسطیٰ کے تین ممالک متحدہ عرب امارات‘ بحرین‘ اومان کے سفیروں نے بھی شرکت کی‘ حیرت انگیز طورپر فلسطین جس کے مستقبل کا اعلان ہو رہا تھا اس کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا‘ مذکورہ منصوبہ کو اگر پہلی نظر سے دیکھا جائے تو ایسے لگتا ہے کہ اس کا فائدہ دو قوموں ‘ دو ریاستوں کو نہیں بلکہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو ذاتی طور پر جاتا ہے‘ امریکی صدر ٹرمپ پر امریکی سینیٹ میں ان کی برطرفی کا مقدمہ چل رہا ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو بھاری کرپشن اور دھوکہ دہی کے الزام کا سامنا کررہا ہے‘ دونوں سربراہ چاہتے ہیں کہ عوام اور مملکت کے پارلیمان کا رخ فلسطین اسرائیل تنازعہ کی طرف مائل ہوجائے اور انکی اپنی بچت ہو جائے‘ وائٹ ہاﺅس صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد جس انداز میں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے خوشی سے بھرپور خطاب کیا‘ لگتا تھا کہ اسرائیل تنازعہ میں سب کچھ اپنے نام کرگیا ہے‘ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان کے آخر میں دعویٰ کیا کہ یہ صدی کا بہترین منصوبہ ہے‘ اب آئیں ذرا باریک بینی سے ٹرمپ منصوبہ کے خدوخال کا جائزہ لیں‘ ٹرمپ منصوبہ کے مطابق فلسطینی باشندوں کیلئے خودمختار ریاست کا قیام عمل میں لایاجائیگا جبکہ متنازعہ علاقہ کی تقسیم فلسطین اور اسرائیل کے مابین کچھ اس طرح سے ہوگی ‘ یروشلم اسرائیل کا غیر منقسم دارالخلافہ قرار دیاجائیگا ۔

جبکہ فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ یروشلم کے مشرق جانب قطعہ اراضی میں قائم ہوگا‘ مغربی کنارے میں غیر قانونی آباد چار لاکھ یہودی جوں کے توں آباد رہیں گے اور ان کے مستقبل کا حل چار سال بعد زیر غور آئے گا‘ فلسطینیوں کے اسلحہ رکھنے پر پابندی عائد ہوگی‘ دوریاستی فارمولے پر مبنی مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے منصوبہ کو تسلیم کرنے پر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ وہ عرب ممالک سے کہیں گے کہ نوزائدہ فلسطینی ریاست میں پچاس بلین ڈالر کی سرمایہ کریں‘بادی النظر ٹرمپ منصوبہ اسرائیل کی خوشنودی کیلئے کیاگیا ہے جبکہ مجوزہ فلسطینی ریاست کا درجہ اسرائیل کے زیر کنٹرول کالونی میں بدل جائیگا‘ ٹرمپ اعلان کے بعد سخت مظاہرے ہوئے‘ فلسطین کی حکومت اور اتحادی جماعتوں پی ایل او‘ حماس‘ اسلامی جہاد اور الفتح نے اعلان شدہ منصوبہ کو یکسر مسترد کردیا لیکن افسوس کہ متحدہ عرب امارات‘ بحرین اور اومان جن کے سفیر اعلان کے وقت وائٹ ہاﺅس میں موجود تھے ‘ امن منصوبے کی تائید کرڈالی جس پر صدر ٹرمپ نے ان ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کر دیا‘ دراصل اس منصوبے سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تضحیک کی گئی ہے۔

 بلکہ غیر قانونی قابض اسرائیل کو مقبوضہ علاقہ اپنے ملک میں ضم کرنے کا لائسنس دیاگیا ہے‘ 1967ءعرب اسرائیل جنگ کے نتیجہ میں اسرائیلی افواج نے مشرقی یروشلم‘ مغربی کنارے اور غزہ پٹی پر زبردستی قبضہ کرلیا تھا‘ اب اسی علاقہ کو اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کی نوید سنائی گئی ہے‘چند برس پہلے اسرائیلی حکومت نے نہ صرف پورے یروشلم پر زبردستی قبضہ کر ڈالا بلکہ اسے ملک کے دارالخلافہ کی حیثیت دیدی گئی‘ طرہ یہ کہ امریکہ نے نہ صرف اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کردیا بلکہ حالیہ منصوبہ کے تحت اسرائیل کو یروشلم پر قانونی حیثیت دیدی گئی ہے‘ فلسطینی ریاست کیلئے جو علاقہ تجویز کیا گیا ہے اس سے فلسطینی باشندوں کو اپنے دارالخلافہ تک رسائی کیلئے اسرائیلی علاقہ کے اندر سے گزرنا ہوگا‘ یعنی انکی روزمرہ آمدورفت اسرائیلی اہلکاروں کی آنکھوں کے زیر ہوگی‘ ٹرمپ منصوبہ سے فلسطینی ریاست اسرائیل کے سیٹلائٹ کی حیثیت اختیار کرلے گا‘ یاد رہے کہ ٹرمپ امن منصوبہ صدر کے داماد یہودی نژاد ‘ اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کے قریبی دوست جراڈ کشنر نے تین سال کی طویل مدت میں تیار کیا ہے‘اسلئے اس امر میں کہ ٹرمپ منصوبہ صرف اور صرف اسرائیل کے حق میں ہے‘ کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔

 

بشکریہ روزنامہ آج