612

ماہر ما ہر نفسیات

دوپہر کو کھانے کے بعد قیلولہ کے لیئے لیٹا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور اسکے ساتھ جو آنکھیں پوری طرح بند بھی نہ ہوئیں تھیں وہ بھی کھل گئیں. بہن نے آواز دیکر پوچھا کون تو جواب آیا "میں ممتاز خالہ". باہر ممتاز خالہ تھیں جنکا صرف نام نہیں یہ خود بھی ممتاز ہیں. آج کے اس جدید دور میں الیکٹرونک میڈیا کی موجودگی کے باوجود محلے میں خبریں پھیلانے کی انکی رفتار کا کوئی جواب نہیں. خیر میں بھی کمرے سے باہر آچکا تھا. دروازہ کھولنے پر اندر داخل ہوکر اتنی گرم جوشی سےملنا کہ جیسے ایک عرصے  بعد ملی ہوں جبکہ کل شام ہی مل کر گئیں تھیں جسکو چوبیس گھنٹے بھی نہ گزرے ہونگے . مگر میں ممتاز خالہ کے اس انداز سے واقف تھا تو یہ میرے لیے کوئی حیرانی کی بات نہ تھی. مگر تشویش مجھے ممتاز خالہ کے ہاتھ میں موجود مٹھائی کے ڈبوں پرکو دیکھ کر ہورہی تھی کہ یہ کس سبب ہیں؟ میں نے ممتاز خالہ کو سلام کیا اور پوچھا " اس؛اسلام علیکم ! خالہ یہ مٹھائی کس خوشی میں؟" خالہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا "وعلیکم اسلام! بیٹا اپنی ستارہ نے دوسرا سال بھی پاس کرلیا نہ، اب تو وہ بھی تمہاری طرح ماہر نفسیات بن گئی ہے سمجھو."

 اس مقام پر میں اپنا تعارف ضروری سمجھتا ہوں. میں علم نفسیات میں ایم فل کا طالب علم ہوں اور میں خود کو ماہر نفسیات کہلانے کا حقدار نہیں سمجھتا. اور ویسے بھی یہاں ممتاز خالہ کا اصل مقصود تو ماہر نفسیات کا لقب اپنی بیٹی کو عنایت کرنا تھا جسکو دو سال اور کچھ عرصہ قبل میری دیکھا دیکھی شعبہ نفسیات کے چار سالہ گریجویشن پروگرام میں داخل کرایا تھا.جس میں سے آج دوسرے سال کے نتائج آئے تھے مگر ممتاز خالہ کی نظر میں ستارہ ماہر نفسیات بن چکی تھی اور آج ممتاز خالہ نے اسکا باضابطہ علانیہ بھی جاری کردیا اور مجھے بھی اس میں گریبی کی مانند ساتھ شامل کردیا. مگر ممتاز خالہ کی حالت میں جو اضطرابی تھی اسکو اب تک سکون حاصل نہ ہوا تھا اور اسکا اندازہ انکو دیکھ کر ہورہا تھا اور آخرکار چند لمحوں بعد انہوں نے وہ راز فاش کردیا جس کو وہ اپنے ساتھ لائیں تھیں. ممتاز خالہ کے چہرے پر تاثرات جو قریب قریب تکبرانہ حد تک پہنچ چکے تھے اور وہ اپنی بات کی تصدیق میں ہمارے میڈیا کی مہر کا بتاتے ہوئے کہتی ہیں "میری ستارہ کو تو ماہر نفسیات کے طور پر اب بین الاقوامی سطح پر بھی جانا جانے لگا ہے. آج صبح ہی ایک مورننگ شو والوں نے اسکا انٹرویو لیا ہے اور انہوں نے بھی اسکو ماہر نفسیات کہہ کر متعارف کرایا. تم لوگ کل ضرور دیکھنا صبح میں آئےگا ٹی وی پر. ہاں بس وہ تھوڑا گھبرا گئی تھی کیونکہ پہلا انٹرویو تھا نہ مگر میں نے تو اسسے کہا کہ بیٹا تم نے آج دنیا کو دکھا دیا کہ تم ممتاز کی بیٹی ہو. دل خوش کردیا میرا.  یہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں نہ؟""

ممتاز خالہ کے ساتھ کافی وقت سے تعلقات کی بنا پر ممتاز خالہ کو کافی اچھی طرح جان چکے تھے تبھی ایک عرصہ ہوا کہ انکے کسی کام یا باتوں پر حیران ہوئے ہوں مگر آج تو ممتاز خالہ کی بات نے حیران کردیا بلکہ سچ کہوں تو پریشان کردیا. اس انٹرویو کے پیچھے کی کہانی کا مجھے اندازہ ہے کیونکہ ممتاز خالہ کے بھائی بھی اسی ٹی وی چینل میں کام کرتے ہیں جسکے مورننگ شو میں انٹرویو دیا گیا. ممتاز خالہ کا ایک لوکل چینل پر آنے کو بین الاقوامی سطح کا درجہ دینا ایک تو انکی شخصیت اور دوسرا ہمارے معاشرے میں پھہلے غلو کے مرض کی بھی عکاسی کرتا ہے. مگر ایک ٹی وی شو میں ماہر نفسیات کہہ کر متعارف کرایا جانا اس درجے پے یہ بات مجھے پریشان کن لگی کہ ہمارے میڈیا کو اتنی بھی سمجھ نہیں یا 'ماہر نفسیات' کا ٹائٹل اس قدر کم حیثیت ہوگیا ہے؟  مگر پھر ہمارے میڈیا اور شوز کے بارے میں سوچا تو یہ سوچ بھی جاتی رہی کیونکہ انکے حال کے تو کیا ہی کہنے یہ لوگ تو ان لوگوں کو بھی نفسیات کے مسائل کے لیے بلا کر پوچھتے ہیں جن کا نفسیات کے شعبے سے تعلق تک نہیں ہوتا . مگر اصل مسئلہ ماہر نفسیات کی امیج اور لوگوں کے ذہنی مسائل کے حل کا ہے  جن پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے.

 ابھی انہی افکار میں مبتلا تھا کہ ممتاز خالہ کی کانوں سے ٹکرائی. " بیٹا تم کہاں کھو گئے ہو؟ تم فکر نہیں کرو میں جلد تمہارا بھی ایک انٹرویو  ٹی وی پر کروا دونگی.یہ اب آج کل ضروری ہے کہ لوگوں کے بھی تو سامنے  آئیں لوگوں کو بھی تو پتا چلے " یہ کہتے ہوئے ممتاز خالہ کے چہرے پر ہمدارانہ تاثرات عیاں تھے اور اس انٹرویو کی اہمیت ایسی لگ رہی تھی جیسے یہ انٹرویو دینا میرے پروفیشن کا ایک لازمی جز ہو. ممتاز خالہ کی بات کا جواب میں نے مسکراتے ہوئےدیا اور کہا " نہیں خالہ! ایسی کوئی بات نہیں. نہ مجھے کسی شو میں انٹرویو دینا ہے . آپ جانتی ہیں مجھے. شکریہ ." میرا جواب سن کر ممتاز خالہ اٹھتے ہوئے کہتی ہیں "چلو تمہاری مرضی. میں تو اب چلتی ہوں اور گھروں میں بھی مٹھائی دینی ہے. سب سے پہلے میں تو تمہارے گھر آ گئی تھی مٹھائی دینے کیونکہ تم نے تو ستارہ کو پڑھایا ہے اسکی اس ترقی میں تمہارا بھی تو حصّہ ہے ." ممتاز خالہ کے ان الفاظ کے بعد ایسا لگا جیسے کسی نے بہت بھاری وزن مجھ پر رکھ دیا ہو. دل چاہا کہ ان کو کہوں کہ مجھے ایسی ترقی میں سے کوئی حصہ نہیں چایئے نہ کبھی چائیے تھا مگر وقت، حالات، اور سماجی رسومات کو مدنظر  رکھتے ہوئے بس مسکرا دیا . خالہ دروازہ پر جاتے ہوئے ایک بڑی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہیں " چلو بھائی تم لوگ اب آرام کرو اور میں جاکر محلے میں مٹھائی بانٹوں اور بتا دوں کہ اب کسی کو کوئی نفسیات کا مسئلہ ہو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اب ہمارے محلے میں دو 'ماہر ماہر نفسیات' ہیں " یہ کہ کر خالہ تو چلی گئیں مگر میں انکےالفاظ 'ماہر ماہر نفسیات' کو دوہراتا ہوا بے ساختہ طور پر ہنس دیتا ہوں.

بشکریہ اردو کالمز