دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جوstraightforward ہوتے ہیں چکنی چپڑی اور لگی لپٹی باتوں سے کوسوں دور سچائی کے علمبردار ہوتے ہیں. وہ اندر سے بھی وہی ہوتے ہیں جو باہر سے دکھتے ہیں لیکن افسوس ایسے لوگوں کی تعداد انگلیوں پہ گنے جانے کے برابر ہے.
ایسے لوگ بڑے بڑے عہدوں کے باوجود بھی اپنا ذاتی گھر تک بھی نہیں بناپاتے ہیں.بعض تو عمر بھر کرایے کے گھر میں بسیرا کرتے ہیں.
بات یہ ہے کہ یہ ایماندار لوگ ہوتے ہیں جو ساری عمر حلال کماتے ہیں حرام کاایک لقمہ تک ان کے شکم میں نہیں جاتا ان کی زندگی خدمتِ خلق میں گزر جاتی ہے.
دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ہاتھ میں ہمہ وقت تسبیح ہوتی ہے بظاہر نیک نظر آنے والے یہ لوگ باتیں بھی ہمیشہ سچائی ایمانداری کی کرتے ہیں انہوں نے کالر ٹیون پہ بھی حمد یا نعت رکھی ہوتی ہے.
سوشل میڈیا میں بھی وہ اچھی اچھی باتیں پوسٹ کرتے رہتے ہیں.
انہوں نے ایک لیول سیٹ کر رکھا ہے.
مگر افسوس وہ جو دکھتے ہیں اصل میں وہ ایسے ہوتے نہیں ہیں.
انہوں نے جو ایک معیار بنا رکھا ہے محض اس لیے کہ لوگ ان کی طرف مائل ہوجائیں. لوگ انھیں مختلف القابات سے نوازتے ہیں.
لوگ اس سے ناواقف ہوتے ہیں کہ موصوف نے اتنی دولت کہاں سے لائی.موصوف تو کسی سرکاری محکمے میں ادنیٰ سے ملازم ہیں لیکن دولت اتنی اکھٹی کر رکھی ہے کہ آنے والی کئی نسلیں مستفید ہوں.
بظاہر صوبر نظر آنے والے ان شریف لوگوں کی کہانی یہ ہے کہ انہوں نے غبن بدعنوانی اور ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کر رکھی ہے.
معاشرے میں سدھار اس لیے نہیں آتا کہ ان کم بختوں کی بڑی تعداد ہے جس نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے.
کچھ سال پہلے ہمارے ایک بزرگ رشتہ دار بتا رہے تھے کہ ان کے خاندان کو ناحق قتل کیس میں پھنسایا گیا تھا کیس کی تفتیش جاری تھی.اس کیس میں جو ایس پی انویسٹی گیشن تھے ان کے متعلق انھیں کسی طرح معلوم ہوا کہ وہ فلاں شہر کے رہائشی ہیں.
چاچا بتا رہے تھے کہ ہم اس نیت سے ان کے پاس گئے تاکہ کوئی راستہ نکلے.
جب پتہ پوچھتے پوچھتے ہم ان کی گھر تک پہنچے تو حیرت ہوئی کہ ایس پی صاحب کا چھوٹا سا گھر تھا اور وہ بھی پرانا جس جگہ ہم نے بیٹھک لگائی وہ بھی خستہ حال تھی دیواروں کا رنگ اکھڑ چکا تھا.
ہم نے انھیں معاملے کے متعلق آگاہ کیا.انہوں نے کہا تفتیش جاری ہے.اگر آپ بے قصور ہیں تو آپ کے ساتھ انصاف ہوگا اگر آپ قصور وار نکلے جو سزا کسی مجرم کی ہے اس کے لیے تیار رہیں.
آپ دور سے آئے ہیں آپ میرے لیے قابلِ احترام ہیں.
لیکن جس سلسلے میں آپ آئے ہیں یہ بات مجھےکچھ ناگوار لگی.
آخری یہ الفاظ کہ کر اس نے ہمیں خدا حافظ کہا.
دنیا میں اس طرح کے لوگ بھی ہیں اتنے بڑے عہدے پہ ہونے کے باوجود انھیں اپنے عہدے کا پاس ہے.انہوں نے ہر کام اپنے ضمیر کو سامنے رکھ کر کیا.
پیارے!دنیا ان کے صدقے چل رہی ہے باقی تو ایک اژدھام ہے جنھوں نے ضمیر کا سودا کر رکھا ہے اور ضمیر کی جگہ ہوس نے لے رکھی ہے.
ایسے لوگ کبھی بھی شکم سیر نہیں ہوں گے.