مون سون کا موسم اس سال پاکستان میں غیر معمولی طور پر طویل رہا جبکہ بارشیں بھی معمول سے کہیں زیادہ ہوئیں اس کے نتیجے میں ملک کے چاروں صوبوں کے وسیع علاقے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہیں۔
بیشتر یہی خیال کرتے ہیں ہے یہ خدا کی طرف سے ایک عذاب ہے جو ہم پر اپنے گناہوں کی وجہ سے نازل ہوا ہے۔
لیکن یہ بات سوچنے پہ مجبور کرتی ہے کہ اس قہر سے ملک کا اشرافیہ اور حکمران طبقہ مبرا کیوں؟آخر یہ عذاب غریبوں پر ہی کیوں آتا ہے ؟میرے خیال میں یہ ایک ایسی تاویل ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
لاجیکل بات یہ ہے کہ ہمیں تدبر کرنا چاہیے کہ سیلاب کیوں آتے ہیں؟ اور ہاں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس سے حکمران طبقہ کیوں محفوظ رہتا ہے؟
اس مون سون میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں بھارت افغانستان اور امریکہ بھی سیلابی صورتحال سے دو چار ہیں۔
اگر اموات کی بات کی جائے تو پاکستان سب سے آگے ہے۔انٹرنیشنل میڈیا اے بی سی کے مطابق پاکستان میں اب تک ایک ہزار تک لوگ سیلاب کی وجہ سے لقمہ اجل ہو چکے ہیں۔
اور یہاںGood governance کی قلعی کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہمارا گورننس سسٹم اتنا نا پائیدار اور بھدا ہے کہ وہ ایسے ڈیزاسٹرزمیں لوگوں کو ریسکیو کرنے میں ناکام ہے۔ اگر ہمارے پاس مستحکم گورننس سسٹم ہوتا تو آج اتنے لوگ معصوم بچے سیلاب کی نذر نہیں ہوتے۔
گورننس کے حوالے سے یہ ایک الگ بحث ہے ۔ مضمون کا دامن تنگ ہے۔اس پر بات پھر کبھی۔ چلیں ہم اصل مدعا پہ آتے ہیں۔
سیلاب آنے کی بنیادی وجہ دنیا میں ماحولیاتی تغیر ہے جسےہم انگریزی میں Climate change کا نام دیتے ہیں۔
مگر ہمارے ہاں ایک مقتدر طبقہ اسے گناہوں کی سزا کہہ کر جاں خلاصی کرتا ہے۔ بے شک اعمال کے جزا سزا کا تعین تو قبر اور روز حشر ہونا ہے.
ماحولیاتی تغیر کیسے آتا ہے اسے سمجھنے کے لیے گلوبل وارمنگ کو جاننا ضروری ہے
ہماری زمین کی تہہ جسے troposphere کہتے ہیں اس میں گرین ہاوسسز (کاربن ڈائی آکسائیڈ میتھین نائٹرس آکسائیڈ دیگر گیسیسں) پائی جاتی ہیں ۔ان کا کام زمین کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
رات کے وقت زمین سے جو درجہ حرارت خارج ہوتی ہے اسے گرین ہاوس گیسسز ٹریپ کرکے واپس زمین کی طرف بھیجتی ہیں جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔آخر گرین ہاؤسز گیسسز ایسا کیوں کرتی ہیں؟
کیوں کہ جب ضرورت سے زیادہ درجہ حرارت وہاں پہنچے گی لامحالہ گرین ہاوس گیسسز انھیں زمین کی طرف دھکیلیں گے۔
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ آپ جب قدرت کے نظام میں مداخلت کرتے ہیں تو قدرت کی طرف سے بھی ایک ردعمل آتا ہے۔
گرین ہاؤسز گیسسز کا لیول بڑھ رہا ہے جس کا بنیادی سبب بڑی تعداد میں صنعتیں کارخانے وسیع پیمانے پر جنگلات کا کٹاؤ ایندھن تیل اور بجلی کا بے دریغ استعمال گرین ہاؤس گیسسز میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے جو گلوبل وارمنگ کا سبب بن رہا ہے۔
جب درجہ حرارت بڑھتا ہے آرکٹیک پول اور انٹارکیٹیک پول کی برف پگھلتی ہے اور جب برف پگھلتی ہے تو اس کا پانی سمندر میں گرتا ہے اور سمندر کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔
شدید بارشیں ہوتی ہیں
نتیجے کے طورپر سیلاب آتے ہیں۔
اگر ہم غور کریں تو گلوبل وارمنگ کا جو سب سے بڑا کنٹری بیوٹر ہے وہ انسان خود ہے۔
انسان کیسے سیلاب لانے کا ذمہ دار ہے؟
جنگلات کا کٹاؤ ایک اہم وجہ ہے جس سے ایک تو درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے دوسرا جنگلات کے کٹاؤ سے Soil(مٹی) واٹر باڈیز میں جا کر ان کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے جس سے پانی کی سطح اوپر اٹھتی ہے اور پانی بہہ کر ایک نیا رخ لیتا ہےجو سیلاب کا سبب بنتا ہے۔
تیسرا جنگلات کے کٹاؤ سے پانی آرام سے آبادی کی طرف رخ کرتا ہے درخت عام طور پر پانی کو جڑوں میں جذب کر تے ہیں اور پانی کو آگے کی طرف بڑھنے نہیں دیتے ہیں۔
جنگلات کو کاٹ کر ہم ان ایریاز کو کمرشلائزڈ اور اربنائزیڈ تو کررہے ہیں اور یہی کمرشالائزیشن اور اربنائزیشن گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سیلاب کا سبب بن رہی ہے۔
جب آپ پانی کے نیچرل روٹ پہ رکاوٹ بنتے ہیں تو بدلے میں پانی دوسرا رخ لیتا ہے۔
نیچرل روٹ سےمراد جہاں سے پانی قدرتی طور پر گزرتا ہو۔
ہم پانی کے لیے کوئی متبادل راستہ بنائے بغیر ان راستوں پہ آباد ہو جاتے ہیں۔
بغیر تدبیر کیے جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
قدرت کے نظام کو جب آپ اتھل پتھل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ بھی بھگتتےہیں۔
یہ ہمیں گناہوں کی نہیں مس منیجمنٹ کی سزا ہے.