527

کشمیر جل رہا ہے۔۔۔۔۔۔

اگر ایک قادیانی جا کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکایت کرے کہ پاکستان میں ان کو مساوی حقوق نہیں مل رہے تو پوری دنیا اپنی قوت پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں صرف کر دے گی کہ قادیانیوں کو ان کے حقوق دو، لیکن دوسری طرف ایک کروڈ چالیس لاکھ نہتے مسلمان کشمیری بہن بھائیوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے، اس پر پوری دنیا کیوں چپ سادھے بیٹھی ہے، کیوں کوئی انڈیا کے مظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہا، پوری دنیا انڈیا پر دباؤ کیوں نہیں ڈال رہی کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یہ بہیمانہ سلوک بند کرو ورنہ ہم آپ کے ساتھ تجارتی، سیاسی اور سفارتی تعلقات منقطع کر دیں گے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ چند ایک ممالک کی تشویش کے علاوہ کوئی بھی دوسرا ملک ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔

تھوڑا پیچھے جائیں تو ایک وقت تھا جب موبائل اور انٹرنیٹ نہیں تھا لیکن لوگوں کے دل خلوص، چاہت اور ہمدردی سے بھرے ہوۓ تھے۔ اس وقت اگر کسی ایک انسان کو تکلیف ہوتی تو سب لوگ مل کر اس تکلیف کا سدّ باب کرتے۔ یہ وہ دور تھا جس میں لوگوں کے ایمان پختہ تھے۔کچھ مخصوص لوگ اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کا سکون غارت نہیں کرتے تھے۔ وہ پتھر کا زمانہ ضرور تھا لیکن آپس میں بھلائی کا زمانہ بھی وہی تھا۔ دوسری طرف آج کا دور اور آج کے لوگ ہیں۔ کشمیر کے لوگوں کو صبح شام تڑپتے، بلکتے دیکھتے ہیں لیکن پھر بھی خاموشی کا لبادہ اوڑھے بیٹھے ہیں۔ کشمیر تو پاکستان کی شہ رگ ہے نا تو پھر کوئی اپنی شہ رگ پر دشمن کی تلوار کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیری لوگوں کا ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پھر بھی سب لوگ خاموش بیٹھے ہیں، کیوں بھارتی فوج کو آج تک مقبوضہ کشمیر سے باہر نہیں نکال پاۓ؟ کشمیر کی مائیں بیٹیاں چیخ چیخ کر مدد کے لیے پکار رہی ہیں ان کی پکار کا جواب دینے کے لیے کوئی محمد بن قاسم کیوں نہیں آتا، کیوں ابھی تک بھارت کا ظلم و ستم مظلوم لوگوں پر جاری ہے؟؟؟؟؟؟؟؟

ہم خودغرض لوگ ہیں  ۔ کسی کا دردمحسوس نہیں کرتے ۔ہم نہ خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی  اور کی کوششوں اور محنت کا اعتراف کرتے ہیں ۔۔ ہمارے لیے الزام لگانا  آسان ہے ۔۔تبھی تو  کچھ لوگ پاک فوج پر الزام لگاتے ہیں کہ فوج اور حکومت بک گئی ہے، کشمیر کے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر رہےـ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جس فوج پر الزام لگا رہے ہو، کیا ان کی کسی ایک رات کی پہرے داری کا بدلہ بھی دے سکتے ہو، اپنی روتی ہوئی فیملی کو چھوڑ کر وطن کی سرحد پر اہلِ وطن کی حفاظت کے لیے زندگی اور موت کے بیچ زندگی گزار سکتے ہو؟؟؟ کیا کبھی ایسا کرسکتے ہو کہ تمہارے والدین زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوں اور تمہارا نام پکار رہے ہوں تو تم کہیں دور وطن کی سرحد پر بیٹھے اہلِ وطن کی حفاظت کو یقینی بنا رہے ہو اور جب گھر پہنچو تو والدین عدم کے سفر پر روانہ ہو چکے ہوں اور تم ان کی آخری رسومات میں بھی شرکت نہ کر سکو تو کیا ایسی صورت میں پھر بھی یہی کہو گے کہ پاک فوج غلط ہے؟؟؟؟ کیا کبھی ایسا کر سکتے ہو کہ جس دن تمہارے سر پر سہرا سجانے کا وقت ہو، اس وقت تم سر پر کفن باندھے لکڑی کے صندوق میں بند گھر پہنچو؟؟؟؟ یہ سب کچھ تم ہرگز نہیں کر سکتے کیونکہ تمہارا تعلق پاک فوج سے نہیں ہے۔ اگر تم یہ سب نہیں کر سکتے تو تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا پاک فوج کے بارے میں کچھ بھی بولنے کا۔جان کی بازی لگانے کا جذبہ اگر سیکھنا چاہتے ہو تو کسی فوجی سے سیکھو۔    پاک فوج نے  ہمیشہ  کشمیریوں کے لیے  بھی  کام کیا ہے ۔۔پاک فوج کا ہر  جوان   کشمیریوں کا دکھ اسی طرح محسوس کرتا ہے  جس طرح وہ  اپنے جسم  پر  لگنے والے  زخم  کا ۔۔۔ آج وقت ہے کشمیریوں کی  توانا  آواز  بننے کا ۔۔  آج  ہر شخص کو  اپنی  ذمہ  داری  نبھانی  ہوگی ۔۔چاہے وہ  پاک فوج کا سپاہی ہو ۔چاہے وہ  ایک  سیاستدان ہو یا پھر  ایک  طالب علم ۔۔۔ ہمیں  عالمی  دنیا کو  بتانا ہوگا کہ  انسانیت کا قتل کرنے والی  مودی سرکار   80 لاکھ کشمیریوں  پر کیا ظلم ڈھا رہی ہے ۔ کشمیر میں رہنے والے  مسلمان  پر  جو ظلم ہو رہا ہے  وہ  صرف مسلمان پر نہیں  بلکہ  نسل  انسانی  پر ہونے والا بدترین  ظلم  ہے ۔۔۔۔

بشکریہ اردو کالمز