424

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

*عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں*
*نظر آتی ہے انکو اپنی منزل آسمانوں میں*
علامہ محمد اقبال کو حکیم الامت کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اس امت کو کھویا ہوا مقام واپس دلانے کیلیے بھت سارے جاودانی اور کرشماتی نسخے دیے
اقبال کو اپنی ملت لے نوجوانوں سے بھت امید ہے کہ وہ اقوام عالم پر حکمرانی کریں گے لیکن اجتماعی طور پر اس امت کے عملا کھوکھلا ہونے  پر غمگین ہیں اور ساتھ میں پر امید بھی بقول اقبال
*نہیں ہےناامیداقبال اپنی کشت ویراں سے*
*ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی*
اقبال نے اپنی شاعری میں جگہ جگہ نوجوانوں کو انکا ماضی یاد کروایا ہے اور انکو مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کیلیے تیار بھی کیا اور فرمایا کہ
*عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں*
*نظر آتی ہے انکو اپنی منزل آسمانوں میں*
کہ جب یہی عقابی روح 313اصحاب بدر میں بیدار ہوٸی تو انکو اپنی منزل ایک ہزار کافروں سے ٹکرا کر دین کا جھنڈا بلند کرنے میں نظر آٸی
یہی عقابی روح جب اسلام کی آغوش میں پلنے والے دو ننھے بچوں میں بیدار ہوٸی تو انکو اپنی منزل دشمن رسول ابو جھل کو واصل جھنم کرنے میں نظر آٸی
یہی عقابی روح جب سیف اللہ خالد بن ولید میں بیدار ہوٸی تو انکو اپنی منزل قیصر و کسری جیسی سپر پاورز کو نیست و نابود کرنے میں نظر آٸی
یہی عقابی روح جب محمد بن قاسم جیسے سترہ سالہ نوجوان میں بیدار ہوٸی تو اسکو اپنی منزل ایک بھن کے خط پر عرب چھوڑ کر ہندوستاں میں راجہ داہر کو ناکوں چنے چبوانے میں نظر آٸی یہی عقابی روح جب صلاح الدین ایوبی میں بیدار ہوٸی تو اسکو اپنی منزل بیت المقدس کو فتح کرنے میں نظر آٸی
یہی عقابی روح جب محمود غزنوی میں بیدار ہوٸی تو اسکو اپنی منزل سومنات کے مندر پر 17 حملے کر کے پاش پاش کرنے میں نظر آٸی
یہی عقابی روح جب احمد شاہ ابدالی میں پیدا ہوٸی تو اسکو اپنی منزل مرہٹوں کو شکست فاش دینے میں نظر آٸی
یہی عقابی روح جب علم الدین اور ممتاز قادری میں پیدا ہوٸی تو انکو اپنی منزل گستاخان رسول کو واصل جھنم کرنے میں نظر آٸی
*فقھاءکرام میں جب یہ روح بیدار ہوٸی تو کوٸی امام اعظم ابو حنیفہ بن گیا تو کوٸی امام محمد بن گیا - کوٸی امام ابو یوسف کوٸی امام شافعی کوٸی امام مالک توکوٸی امام احمد بن حنبل بن گیا*
*یہی عقابی روح جب صوفیاء میں بیدار ہوٸی تو کوٸی صوفی اعظم ابو بکر صدیق بن گیا تو کوٸی حسن بصری بن گیا کوٸی جنید وبایزید بن گٸے تو کوٸی امأم غزالی و مجدد الف ثانی بن گٸے*
*علماء کرام میں جب یہی عقابی روح بیدار ہوٸی تو کوٸی فضل حق خیر آبادی بن گیااور اسکواپنی منزل  حضور کے دین کی خاطر کالے پانی جیسی جگہ پر مر جانے میں نظر آٸی۔  تو کوٸی  کوٸی کفایت علی کافی بن گیا جسکو اپنی منزل جھاد کا علم بلند کرنے کی پاداش میں تختہ دار پر جھول جانے میں نظر آٸی جب یہی روح احمد رضا میں پیدا ہوٸی تو اسکو اپنی منزل حرمت رسول پر پہرہ دینے عقاٸد باطلہ کا رد کرنے اور عشق  مُحَمَّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا پرچار کرنے میں نظر آٸی*
تو اقبال اپنی ملت کے جوانوں کو ماضی کی جھلک دکھلا ر اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب اقوام عالم کی قسمت کے فیصلے مسلمان نوجوان کریں گے اقوام عالم پر حکمرانی کے حقدار صرف وہ ہیں کہ جنکے دلوں میں عشق مصطفی کی شمعیں روشن ہیں پھر وہ نوجوان چاہے دنیا کہ کسی کونے میں ہوں انکے رعب ودبدبے سے سپر پاورزکے دل دہل جاٸنیگے اور یہ وقت کب آٸے گا وہ بھی سمجھا دیا کہ
*کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں*
*یہ جہاں چہز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں*
اور اقبال یہ بھی فرما گٸے کہ *
*جراءت ہے تو افکار کی دنیا سے گزر جا*
*ہیں بحر خودی میں ابھی پوشیدہ جزیرے*
*کھلتے نہیں اس قلزم خاموش کے اسرار* *
*جب تک تو اسے ضرب کلیمی سے نہ توڑے*

بشکریہ اردو کالمز