416

گھنی چھاؤں

 

ایک کنسٹرکشن سائٹ سے واپسی پر ایک پٹرول پمپ دیکھا جس کے گرین ایریا میں بکائن کی گھنی چھاؤں میں دوافراد بیٹھے تھے۔دوپہر کا وقت اور کڑی دھوپ, ایسے میں گھنی چھاؤں دیکھ کر میں نے کچھ دیر رکنے کا ارادہ کیا اور وہاں بیٹھے لوگوں س اجازت طلب کی انہوں نے بھی فراخدلی سے خوش آمدید کہا۔یہ ایک دیہاتی ایریا کا پٹرول پمپ تھا۔آجکل شہروں کے بہت پھیلاؤ کی وجہ سے اکثر بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز شہروں سے باہر مضافاتی دیہات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ایسا تقریبا پاکستان کے تمام شہروں میں ہی ہے۔یہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ارد گرد کا تمام علاقہ زرعی زمینوں پر مشتمل تھا۔جہاں پر گندم کی فصل کو تقریبا سمیٹ لیا گیا تھا اور خریف کی فصل یعنی کپاس کے لیے زمین تیار کی جا رہی تھی۔وہاں مختصر قیام کے دوران میں نے دیکھا کہ کئ ٹریکٹر جن کے ساتھ زرعی آلات بھی لگے ہوئے تھے آئے پٹرول پمپ سے ڈیزل طلب کرتے لیکن وہاں ڈیزل دستیاب نہیں تھا۔کچھ ٹریکٹر والوں نے تو پٹرول پمپ والے لڑکے کے ساتھ سخت زبان بھی استعمال کی جس پر لڑکے نے چھاؤں میں بیٹھے ادھیڑ عمر شخص کی طرف اشارہ کیا۔ادھیڑ عمر شخص نے کہا کہ بھائی ڈیزل نہیں ہے ہمیں پیچھے سے جب نہیں مل رہا تو کہاں سے دیں۔میں نے اس آدمی سے سلسلہ کلام شروع کیا جس پر پتہ چلا کہ وہ شخص اس پٹرول پمپ کا منشی یا منیجر تھا۔میرے دریافت کرنے پر اس شخص نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے آتے ہی جب ڈیزل اور پٹرول کی قیمت میں اضافے کی باتیں شروع ہوئیں تو مختلف کمپنیوں نے پٹرولیم مصنوعات کو ذخیرہ کرنا شروع کر دیا تاہم محدود سپلائی جاری رہی۔ہمارا پٹرول پمپ دیہاتی ایریا میں ہے ۔یہاں پر پٹرول کی نسبت ڈیزل کی کھپت زیادہ ہوتی ہے خاص کر ان دنوں میں جب فصل کی کٹائی اور اگلی فصل کی بجائی کا کام عروج پر ہے۔2 ہفتے پہلے تو کمپنی نے ہمیں ڈیزل اور پٹرول کی برابر سکیل پر محدود سپلائی دی اب چونکہ ہمیں ڈیزل زیادہ چاہیے تھا اس لیے ہم نے ڈیزل کے اضافی مقدار طلب کی جس پر کمپنی نے کہا کہ جتنا پٹرول لوگے اتنا ہی ڈیزل ملے گا،اب ہمارے پاس پٹرول تو کافی مقدار میں موجود تھا اور اس کے زیر زمین ٹینکر میں بھی گنجائش نہیں تھی اس لیے ہم صرف ڈیزل طلب کر رہے تھے لیکن کمپنی ڈیزل نہیں دے رہی تھی۔اس کے بعد کمپنی نے کہا کہ اگر آپ موبل آئل خریدیں تو اس کے ساتھ ڈیزل ملے گا۔جوموبل آئل عام مارکیٹ میں سولہ سو روپے کا مل رہا تھا وہ ہمیں دو ہزار روپے میں دیا گیا اس کے باوجود ہم نے مہنگاموبل آئل خرید کر ڈیزل کی ضرورت کو پورا کیا۔لیکن جس دن ہمارے وزیر خزانہ جناب مفتاح اسماعیل صاحب آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے امریکہ گئے اور خبر آئی کہ جناب وزیر خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کو مہنگا کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط کو تسلیم کرلیا ہے ٹھیک اس دن سے تقریبا تمام چھوٹی بڑی کمپنیوں نے اسٹاک ذخیرہ کر لیا اور پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بند کر دی۔اس دن سے ہمارے پاس ڈیزل ہے اور نہ ہی اس کی سپلائی مل رہی ہے۔زمیندار اور کسان ہم سے جھگڑ رہے ہیں۔سارے ملک میں تقریبا یہی حال ہے۔تمام آئل کمپنیاں پٹرولیم مصنوعات کو ذخیرہ کر کے انتظار میں ہیں کہ حکومت یکم تاریخ سے قیمتیں بڑھائے اور پھر نئی قیمت پر ہی پٹرول و ڈیزل کی سپلائی کریں اور کروڑوں روپے منافع وصول کریں۔آئل کمپنیوں کے اس منافع کی لالچ میں زمیندار اور کسان کا کتنا نقصان ہو رہا ہے اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔کپاس کی فصل کی بجائی کے لیے ایک ایک دن اہم ہوتا ہے۔زمین میں بجائ کے لیے بہتروتر بہت ضروری ہے، اب اگر کوئی زمیندار اپنی باری پر پانی لگا کر وتر کے وقت بجائی کرنا چاہے اور ڈیزل میسر نہ ہو تو اس نقصان کا اندازہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس پر بیت رہی ہو۔خشک و تر میں بجائی کی صورت میں فصل کا بیج اور ساری محنت ضائع یعنی بھرپور مالی نقصان۔پانی کی ہمارے پاس پہلے سے ہی کمی ہے۔علاوہ ازیں وقت پر کپاس کاشت نہ کی گئی تو آنے والی فصل کی پیداوار شدید متاثر ہوگی۔ہم پچھلے کئی سال سے کپاس کی کم پیداوار کا سامنا کر رہے ہیں۔زمیندار اور کسان اپنی زرعی مشینری کے ساتھ کبھی کھیت کی طرف دیکھ رہے ہیں تو کبھی پٹرول پمپس پر بھاگ رہے ہیں۔اس سارے منظر نامے میں جو چیز غائب ہے وہ ہےحکومتی رٹ۔انتظامیہ بے حسی کی چادر اوڑھے میٹھی نیند سو رہی ہے اور کسان اور زمیندار ذلیل ہو رہے ہیں۔لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس سے تو بہتر تھا کہ حکومت 15 تاریخ کو ہی قیمتیں بڑھا دیتی کم از کم سپلائی تو جاری رہتی۔لیکن حکومت ہے کہاں۔جناب وزیراعظم صاحب تو 74 لوگوں کا عظیم قافلہ لے کر گناہ بخشوانے عمرے کی غرض سے سعودی عرب جا رہے ہیں۔پنجاب کا پتہ نہیں کہ وزیر اعلی کون ہے۔ایسے میں انتظامیہ کو کیا پڑی کہ وہ اپنے ٹھنڈے کمروں سے نکل کر زمیندار اور کسان کی مشکلات حل کرنے کی کوشش کرے۔پاکستان کو تنزلی میں دھکیلنے کے لیے جو کچھ ہمارے اکابرین کرچکے اور کر رہے ہیں شاید دشمن بہت کوشش کے باوجود بھی نہ کر پاتا۔اللہ وطن عزیز کی حفاظت فرمائے۔آمین

بشکریہ اردو کالمز