گزشتہ کئی دھائیوں سے بہتر تعلیم کے لحاظ سے ایبٹ آباد کا شمار پاکستان کے بہترین شہروں میں کیا جاتا رھا اسے سکولوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے ۔
ملک میں ایبٹ آباد کے تعلیمی معیار کی مثال دی جاتی رھی لیکن حالیہ نویں دسویں کے بدترین رزلٹ نے بھی شاھد پاکستان کے سارے ریکارڈ سر کر لئے پورے ضلع میں اور خصوصا گلیات میں آنے والے نیتجے نے سارے نظام کی کلی کھول دی اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ھمارا صدیوں پرانا روائتی تعلیمی نظام بوسیدہ ہو چکا
جسے جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔
لیکن شاھد ھمارے حکمران طبقے کو ابھی فرصت نہیں ملی یا اس سارے نظام کو بدلنے کی صلاحیت ھی نہیں رکھتے۔موجودہ غیر متوقع نتائج آنے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں جہاں سخت تشویش پائی جاتی ہے وھاں حسب روایت بہت سے دانشوروں کو موجودہ نتائج کے کے پیچھے بھی سازش کا عنصر نظر آتا ہے ۔
ان میں بڑی تعداد ری چیکنگ کا مطالبہ کر رھی ہے جو کسی حد تک جائز بھی ہے ایسا بھی نہیں کہ پورے خطے سے لائق طلبہ ناپید ہو چکے لیکن مجھے ایسی بھی کوئی خوش فہمی نہیں کہ ھمارے ہونہار شہزادے کی سازش کا شکار ہو گئے ۔۔
آج سے زوال کا زمدار کوئی اک شخص نہیں بلکہ ھم بطور معاشرہ اس امر کے مکمل زمدار ہیں ۔
اساتذہ والدین طالب علم ھماری مقامی قیادت اور معاشرے کے ہر باشعور شخص کا اس بدترین زوال میں اھم کردار ہے ؛
جہاں ھمارے اساتذہ (چند کے علاوہ) اس معزز شعبے کو صرف اور صرف اپنی روزی روٹی پکی کرنے کا زریعہ سمجھنے لگے ہیں سکول میں صرف حاضری پوری کرنے آتے ہیں وہاں بھی غیر تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہتے ہیں بہت سے سیاسی اثروسوخ رکھنے والے حضرات تو محض مہینے کے آخر میں سائن کرنے جاتے ہیں ۔
ھمارے سسٹم میں اساتذہ والدین کیساتھ رابطہ رکھنے کی ضروت محسوس ھی نہیں کرتے وہاں ھمارے والدین بھی صبح بچے کو راونہ کر کہ اپنے فرائض سے بری ذمہ ہو جاتے ہیں ۔۔
اب بچہ سکول جائے نا جائے اگر گیا تو اس نے کیا سیکھا ؟
کوئی ٹیچرز موجود تھے بھی کہ نہیں کبھی یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کرتے ۔
گو کہ میں یہ تسلیم کر چکا ہوں کہ مجھ سمیت معاشرے کا ہر شہری اس بدترین زوال کا ذمدار ہے
لیکن اگر ھم زمداران کو کم کرنے کی کوشش کریں تو میری ناقص رائے میں اس سب کارنامے کے موجد دو طبقے ہیں
پہلا ھماری (PTC) پی ٹی سی کمیٹیاں اور دوسرا ھماری مقامی سیاسی قیادت اور اگر ایسے نتائج سے مستقبل میں کوئی بچا سکتے ہیں تو وہ بھی یہی دو طبقے ہیں ۔۔
بدقسمتی یہ ھیکہ ھماری مقامی سیاسی قیادت نے فوٹو سیشن کے علاوہ کبھی سکولز پر توجہ ہی نہیں دی یا یہ بھی اک تلخ حیقیت ھیکہ ان میں سے بیشتر نے خود بھی کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا ہو گا چلو مانتے ہیں آپ کے پاس اختیار نہیں ہے آپ قانون سازی نہیں کر سکتے لیکن آپ اپنے قریبی اسکول کو چیک تو کر سکتے ہیں اساتذہ کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں حاضری کو یقینی بنا سکتے ہیں ۔
والدین اور اساتذہ کے درمیان اس لاتعلقی کو ختم کر سکتے ہیں ۔
کوئی ماہانہ سالانہ تقریب منعقد کروا سکتے ہیں جس میں سب کی شرکت ممکن ہو کچھ رابطے کا زریعہ بنے لیکن سارے علاقے مجھے کوئی ایسی مثال نہیں ملی اب آتے ہیں پی ٹی سی کمیٹی پر تو اس میں بھی زیادہ تر سیاسی سفارش یا اثروسوخ نظر آتا ہے اک تلخ حقیقت یہ بھی ھیکہ ھمارے ہاں کمیٹی ممبران اپنے مقاصد سے ھی لاعلم ہوتے ہیں ۔
گلیات کو چھوڑیں پورے ایبٹ آباد میں شاھد ھی کوئی مثال مل جائے جہاں پی ٹی سی کمیٹی نے کبھی کوئی کردار ادا کیا ہو ۔
ھمارے ہاں اکثریت والدین تعلیم سے یا تعلیمی سسٹم سے نابلند ہیں پی ٹی سی کمیٹی کا کام ہے ان کو قائل کرنا چیک ان بیلنس رکھنا لیکن ھمارے اکثریت کمیٹی ممبران اس لئے چنے جاتے ہیں کہ سکولز کے فنڈ کا حساب رکھا جائے ٹھیک ہے یہ کام بھی کریں لیکن ان کمیٹیز کو بنانے کا ہر گز مقصد صرف فنڈز کا حساب نہیں ہے لیکن ساری توجہ اس جانب ہوتی ہے ۔۔تیسری سب سے بڑی وجہ نقل مافیہ ہے بدقسمتی سے اس کی نگرانی خود ھمارے اساتذہ کرام فرماتے ہیں معاشرے کا ہر شخص بخوبی اس بات سے باخبر ہے ھمارے چند نوجوانو نے چند سال پہلے اس برائی کے خلاف کمپین چلائی تو سب سے زیادہ مزاحمت والدین اور اساتذہ کی طرف سے سامنے آئی جو معاشرہ خود زوال کی طرف بھاگ رھا ہو بھلا اس کو کون بچا سکتا ہے پھر نتائج ایسے ھی آتے ہیں۔۔۔
اب اس بدترین زوال کا حل کیا ہے؟؟؟
اور مستقبل میں اس سے کیسے بچا جا سکتا یے ۔
اس میں سب سے بڑی ذمداری ہر باشعور شہری اور خصوصا ھماری مقامی سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے ۔۔
ھمارے معاشرے میں جنگل پولیس دیگر سماجی معاملات پر تو سیاسی کمیٹیاں اور جرگے والے تو موجود ہیں لیکن اس تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے کوئی سامنے نہیں آتا ہے ۔
ھماری قیادت کو چاہیے کہ وہ اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کو یقینی بنانے ٫ تعلیمی نصاب کو مکمل کرنے٫اور والدین کو اس طرف مائل کرنے کے لئے بھی کمیٹیاں تریب دیں خود ان کی نگرانی کریں
ہر ماہ کے آخر میں ہر سکول میں تقریب منعقد کریں جس میں علاقے کے سب لوگوں کو شامل کریں شعور بیدار کریں ۔
تمام پی ٹی سی کمیٹیاں دوبارہ سے ترتیب دیں اور ان میں پڑھے لکھے باشعور افراد خصوصا نوجوانوں کو شامل کریں ۔جو سارے ایشوز کو سمجھیں اور حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ہوں۔
نقل کروانے والے اساتذہ کیخلاف سخت ایکشن لیں اور اس برائی کیخلاف شعور اجاگر کریں
اس سے نا صرف ھماری تعلیمی نظام بہتر ہو سکتا یے بلکہ بچوں کو غیر نصابی سرگرمیوں کا بھی موقع ملے گا جو کہ اب بہت محدود ہو چکا ۔
خدا راہ یہ بچے ھمارا مستقبل ہیں آنے والے کل کی امید ہیں انھوں نے کل مملکت خداداد کو آگے لے کر چلنا ہے ان کو اس بربادی سے بچانا ھم سب کی زمداری ہے ۔۔
کیونکہ ٫یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔۔
508