3جنوری کو جنرل قاسم سلمانی کی موت کے بعد دنیا پہ اک نئی جنگ کے خطرات منڈلانے لگے یوں محسوس ہوتا تھا کہ اگلے ھی لمحے نا جانے دنیا میں کون سی تباھی آنے والی ہے ابھی دنیا اس خوف سے نکلی نہیں تھی کہ پتا چلا ایران نے عراق پہ موجود عین الاسد بیس پہ جوابی حملہ کر دیا جہاں دو درجن کے قریب میزائیل داغے گئے ایرانی دعوے کیمطابق اسی امریکی فوجی ھلاک ہو گئے تو یار لوگوں کو اب جنگ پکی نظر آنے لگی دنیا کو یقین تھا کہ اب امریکہ بدلہ لے گا اور مشرق وسطی میں نا ختم ہونے والی جنگ کا آغاز ہو جائے گا
مگر اچانک ڈونلٹرنپ کا تویٹ نمودا ہوا آل از ویل ۔۔۔۔۔ اس کے بعد امریکہ کے صدر نے قوم سے خطاب میں ایرانی حملے میں کسی جانی نقصان کی تردید کرتے ہوئے ایران پر مزید حملے نا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کو مزاکرات کی پیش کر دی تو میرے جیسے سادہ طبعیت لوگ حیران رہ گئے کہ امریکہ بہادر اتنا امن کا شیدائی ؟ اس سارے کھیل کو سمجھنے کہ لئے ھمیں واپس 27 فروری پاک بھارت کشیدگی تک جانا ہو گا انڈیا میں ایکشن کا ماحول تھا مودی کو ایشو چاہیئے تھا مودی نے اپنا روایتی ھتیار آزمانے کا فیصلہ کیا بھارت کے درجن کے قریب جنگی جہازوں نے لائن آف کنٹرول کراس کی بالاکوٹ کے مقام پر اپنا پہ لوڈ گرایا واپس جا کر ایران کی طرح جشن منانے لگے کہ تین سو دشتگرد مار دئے وہ بھی پاکستان کے اندر جا کر یہ خبر پاکستانی عوام پہ بجلی بن کر گری قوم میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد پاک فوج نے بھر پور جواب دینے کا اعلان کیا یہاں یہ بات یاد رہے مکمل جنگ نا پاکستان چاہتا تھا نا بھارت مگر جواب تو بنتا تھا ۔ پاک فضائیہ نے ستائیس فروری کو بنا انٹرنیشنل باڈر کراس کئے انڈین ملٹری بیس کے قریب خالی جگہ کا ٹارگٹ لاک کیا اور حملہ کر دیا اس دوران انڈین آرمی کا اعلی افیسر سمیت بہت سے فوجی آسان ٹارگٹ تھے مگر نظر انداز کیا گیا مقصد جنگ کرنا نہیں بس بیغام دینا تھا اس دوران ابی نندن بھی پاکستان کا مہمان بنا انڈیا کے جہاز بھی تباہ ہوئے مگر جنگ ٹل گئی۔
اب ھم ایران امریکہ کشیدگی پہ واپس آتے ہیں قاسم سلمانی کی امریکی حملے کہ بعد ایرانی عوام کے بھی وھی جزبات تھے جو ھم پاکستانیوں کہ تھے اب ایران ھمیشہ پراکسی وار کو فوقییت دیتا ہے برائے راست جنگ نا ایران کے مفاد میں تھی نا خطے کے مفاد میں اس لئے ایران بھی ایسا اسان ٹارگٹ چاہتا تھا کہ سانپ بھی مر جائے اور سوٹی بھی بچ جائے کافی غور و فکر کہ بعد عین الاسد بیس کا انتخاب کیا گیا اور حملے سے چھ گھنٹے قبل عراقی حکومت کو اگاہ کر دیا جس کا صاف مطلب تھا امریکہ کو اگاہ کرنا سو پھر وہی ہوا جس کا پروگرام تھا امریکہ نے بیس خالی کر لیا تب ایران نے دورجن میزائل فائر کر دئیے جو عین الاسد بیس پہ لگے تا ھم توقع کے عین مطابق کوئی جانی نقصان نہیں چونکہ ایران میں شوشل میڈیا بلیک آؤٹ یے میں سٹریم میڈیا حکومتی کنٹرول میں ہے ایرانی عوام کو وھی پتا چلا جو سرکاری ٹی وی نے دکھایا اور ایرانی مطمیئن ہو گئے۔
لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ایران بدلہ لے گا مگر اپنے روائتی انداز میں جی ہاں پراکسی وار سے ایران اس وقت عراق شام افغنستان سیریا لبنان میں اپنے مظبوط اتحادی رکھتا ہے جو پہلے ہی امریکہ اور اتحادیوں کو ناکوں چنے چبا چکے ہیں اب اس غیر روائتی جنگ میں مزید شدت آئے گی قاسم سلمانی کی ھلاکت کے بعد عراق کی اکثریتی عوام امریکا مخالف جزبات پہلے سے کہی زیازہ شدت اختیار کر گئے لیکن امریکہ کے عراق سے اب بھی مفادات ہیں عراق کے تیل کے بڑے خریدار روس اور چین ہیں اور امریکہ یہ چاہتا نہیں اس لئے عراق میں مزید سخت لڑائی ہو گی افغنستان میں امریکہ کی کمبلی وزنی ہو چکی امریکہ چھوڑ رھا کہ مگر کمبل نہیں چھوڑ رہی یعنی ایرانی اتحادی طالبان ایسے ہی حالات شام سیریا اور یمن کے ہیں جہاں ایران نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے امریکہ بہادر اور اتحادیوں کی نیند حرام کی ہوئی ہے آنے والے حالات مشرق وسطی کے لئے انتہائی گھمبیر دکھائی دیتے ہیں