اگرچہ اسلام میں قتل کے بدلے قتل کا حکم ہے تو وہیں معاف کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور معاف کرنا اللہ تعالٰی کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔اللہ تعالٰی کے آخری نبی حضرت محمدؐ نے درگزر اپنی زندگی کا وتیرہ بنایا ہوا تھا۔آپؐ نے نہ صرف اپنے دوستوں کو بلکہ اپنے جانی دشمنوں تک کو بھی معاف فرمایا جو رہتی دنیا تک ایک مثال ہے۔
وزیرستان ایک ایسا علاقہ ہے کہ جس کا نام سن کر ذہن میں دشمنی کا لفظ ضرور آتا ہے۔جی ہاں دشمنی! جس نے ایک بہادر قوم کو پست کر دیا ہے۔یہ وہ قوم تھی کہ جس نے انگریزوں کے لشکروں کو سبق سیکھایا ہے۔ایک زمانے میں انگریز اس قوم کے نام سے کانپتے تھے لیکن بدقسمتی سے آج وہی قوم دشمنی کی وجہ سے انگریزوں کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور ہے۔
وزیرستان میں اگر کوئی شخص کسی کو غلطی سے یا دانستگی سے مار ڈالے تو مقتول کے وارث کا قاتل کو قتل کرنا اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔مجبوری اس لئے کہ وہ بےغیرت،ڈرپوک،نامرد اور لالچی جیسے القاب سے ڈر رہا ہوتا ہے۔اسے سو فیصد یقین ہوتا ہے کہ اگر اُس نے قاتل سے بدلہ نہ لیا تو اُس کو زمانہ مذکورہ القاب سے یاد رکھے گی۔اِس ڈر سے وہ قاتل کو معاف کرنے کے بجائے قتل کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور زمانہ والے اُس کو "شیر کا بچہ" کا لقب دیتے ہیں۔
اگر بات اِس حد تک محدود ہوتی تو بھی شاید آج حالات کچھ بہتر ہوتے۔لیکن بدقسمی سے بات بہت آگے تک چلی جاتی ہے۔اگر مقتول کا وارث بدلہ نہ لے سکے اور قاتل بستر میں اپنی موت آپ مرجائے اور اب اگرچہ صورتحال کچھ یوں بن گئی ہے کہ قاتل کا حساب کتاب اب اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اس کو اپنے کیئے کی سزا ضرور ملنی ہے لیکن اس کے باوجود مقتول کا وارث زمانے کی طعنے کی بدولت قاتل کا معصوم،ناواقف،شریف،عزت دار،غیرت مند اور اچھے اخلاق کے مالک باپ،بیٹے یا بھائی کو مارنے پر بضد ہو جاتا ہے۔اور یہ ایک بےوقوفانہ اقدام ہے۔
اسی طرح دو خاندانوں کے مابین دشمنی شروع ہوجاتی ہے اور یہ دشمنی دو قبیلوں سے نکل کر دو قوموں تک پہنچ جاتی ہے،جس میں نہ صرف مقتول کے وارث کا ہاتھ ہے بلکہ زمانہ بھی اس میں برابر کا شریک ہیں۔یہ دشمنیاں ہماری قومی تنزلی کی بنیادی وجہ ہے۔ایسی دشمنیاں رکھنے والے لوگوں کیلئے اگر جاہل کا لفظ استعمال کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔اور زمانے کے لئے بس اتنا ہی کہ
تم جو بلا خوفِ خدا طعنے دیتے رہتے ہو
ایک دن پکڑے جاؤگے،جکڑے جاؤگے،روندے جاؤگے۔
566