سن 1988 میں بھارتی سپر سٹار امیتابھ بچن کی ایک فلم ”شہنشاہ“ ریلیز ہوئی جس کابجٹ اس وقت تقریبا دوسے ڈھائی کروڑ روپے تھا جبکہ فلم نے ورلڈ باکس آفس پرتقریبا بارہ کروڑ روپے کمائے اسی بناء پرفلم ”شہنشاہ“ایک کامیاب فلم قرار پائی۔فلم میں امیتابھ بچن کا کریکٹر ایک پولیس آفیسر کا تھا لیکن لوگوں کو انصاف دلوانے کے لئے اسے شہنشاہ کا روپ دھارنا پڑا۔دشمنوں کو مارنے اور ان کی گولیوں سے بچنے کے لئے شہنشاہ کے کردار کو ایک سٹیل کے بازو والی جیکٹ پہنا ئی گئی جس کاوزن تقریباسولہ کلو تھا۔یہ جیکٹ پہن کر جب امیتابھ بچن شہنشاہ کے روپ میں رات کو سڑکوں پر نکلتا تو بیک گراونڈ میں گانا چلتا”اندھیری راتوں میں،سنسان راہوں پر،ہر ظلم مٹانے کو ایک مسیحا نکلتا ہے جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہیں۔“امیتابھ بچن کا یہ کرداراتنا مقبول ہوا کہ آج بھی لوگ اس کردار کو بھلا نہیں سکے۔خیر یہ تو بالی وڈ کی فلم تھی جس میں ہیرو لوگوں کو انصاف دلوانے کے لئے راتوں کو نکلتاتھا لیکن پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی حقیقت میں اندھیری راتوں میں لوگوں کو انصاف دلوانے کے لئے نکلتے ہیں۔ چند روز قبل نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نے رات کو تھانہ فیکٹری ایریا شیخوپورہ اور تھانہ شفیق آباد سمیت مختلف پولیس تھانوں کو دورہ شروع کیا تو انھیں صبح ہوگئی۔ نگران وزیر اعلیٰ کے سامنے جب یہ بات آئی کہ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں پر24گھنٹوں کے اندرایف آئی درج نہیں ہوئی تو انھوں نے شدید برہمی کا ظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔دلچسپ بات یہ تھی کہ نگران وزیر اعلیٰ کے آدھی رات دورے کے دوران تھانے کا پورا عملہ اورحولات میں بند تمام قیدی بھی جاگتے رہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ کے سامنے کچھ ایسے کیس بھی سامنے آئے جنھیں سن کر محسن نقوی کو سخت ایکشن لینا پڑا۔انھوں نے حوالات میں بند ملزمان سے ان کے کیس کے بارے میں بھی دریافت کیااورجب تھانہ شفیق آباد کی حوالات میں بندسود خوروں کے ستائے ملزم نے اپنی داستان نگران وزیر اعلیٰ کو سنائی تو انھوں نے سود خور مافیا کے خلاف فوری کریک ڈاون کا حکم دیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو اخراجات کو پورا کرنے کے لئے عام لوگوں کو قرضہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔قرض لینے والے کو یہ امید ہوتی ہے کہ شائداس کی موجودہ ضرورت پوری ہوجانے کے بعد وہ قرض کی رقم باآسانی قسطوں میں اتار لے گالیکن وقت گذرنے کے بعد اس کو احساس ہوتا ہے کہ قرض کی چھوٹی سی رقم بڑھتے بڑھتے ایسی دلدل بن گئی ہے کہ جس میں قرض لینے والا اور اس کے اہل خانہ اس قدر دھنس چکے ہیں کہ جان بچانا مشکل ہوگیا ہے۔میں نے اپنے گذشتہ کالموں میں قارئین کو آگاہ کیا تھا کہ سود خور مافیا نے ڈیجیٹل ایپس کے ذریعے آسان قرضے فراہم کرکے لوگوں کو لوٹنے کا کاروبار شروع کررکھا ہے۔ان ڈیجیٹل ایپس کے ذریعے جب کوئی 50ہزار روپے کا قرض لے لیتا ہے تو اس کوبدلے میں لاکھوں روپے واپس اداکرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل سود خورمافیا کے ہتھے چڑھ کر کئی افراد اپنی زندگیاں بھی گنوا چکے ہیں۔ تھانہ شفیق آباد کی حوالات میں سود خور مافیا سے ستائے ملزم کی خوش قسمتی تھی کہ اس کا دکھ وزیر اعلیٰ نے ازخود سن لیا اور اس کے قرض کی اصل رقم ادا کرنے اور اس کے کیس کے قانونی تقاضے پورے کی ہدایت بھی کردی لیکن بہت سے ایسے افراد ابھی بھی سود خور مافیا کے ہتھے چڑھ کر موت سے بدتر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جن کے سامنے صرف دو راستے ہیں، سود کی رقم ادا کرنا یا موت کو گلے لگانا۔نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے سود خور مافیا کے خلاف کریک ڈاون کے بعد ان لوگوں کو زندگی کی امید پیدا ہوگئی ہے جو سودخوروں سے تنگ آکر خودکشی کرنے کا سوچ رہے تھے۔نگران وزیر اعلیٰ پنجاب واقعی اندھیری راتوں میں لوگوں کے مسیحا بن کر گھوم رہے ہیں
391