جامعۃ الامام محمد طاہر رح دارالقرآن پنج پیر وہ عظیم قرآنی انقلابی درسگاہ ہے، جو کہ قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیر کے حوالے سے منفرد انٹرنیشنل شہرت یافتہ یونیورسٹی ہے۔ اس ادارے کی بنیاد شیخ العرب والعجم شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد طاہر ؒ نے سن 1938ء میں رکھی تھی۔ شیخ القرآن مولانا محمد طاہر ؒ نور اللہ مرقدہ وہ عظیم ہستی ہے جو اپنے دور میں قرآنی انقلاب اور توحید وسنت کے بے باک داعی اور اھل عزیمت کے سرخیل تھے۔ قرآن و سنت کے ذریعہ عقیدہ کی درستگی اور اعمال کی اصلاح شیخ القرآن ؒ کے تعلیمات کی لازمی بنیادی اجزاء تھے۔ آپ کے فلسفہ کا یہ خاکہ تھا کہ آپ جو کچھ پیش کرنا چاہتے تھے اس کیلئے قرآن وسنت کو بنیاد بناتے تھے۔ آپ مسلمانوں کے زوال کو عروج میں بدلنے کا واحد راز قرآن وسنت کے تعلیمات کو سمجھتے تھے۔ آپ نے مسلمانوں کے زوال کی وجوہات کے بارے میں سوچنا شروع کیا، آپ اس نتیجے پر پہنچے، کہ مسلمان اس خطے میں طویل عرصے تک غلامی میں رہے، ہندو معاشرے سے اثر لینے اور دنیا پرست پیر و ملا اور علماء سُوء کی خود ساختہ تعلیمات کی وجہ سے اپنا مقام کھو چکے ہیں۔ اس صورت حال پر بعض مذہبی حلقے اسلئے خاموش تھے کہ یہی بھٹکے ہوئے سادہ لوح عوام ان کی کمائی کا بڑا ذریعہ معاش تھے۔ بچے کے پیدائش سے لے کر آدمی کے وفات تک مختلف چالوں سے عوام الناس کو لوٹنے کا بازار گرم تھا۔ شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طاہر نور اللہ مرقدہ نے اس پختون سرزمین کے اصلاح کا بیڑا اُٹھانا چاھا تو دارالعلوم دیوبند سے فراغت، رئیس المفسرین مولانا حسین علی الوانی رح اور امام انقلاب عبیداللہ سندھی ؒ سے انقلابی طرز پر تفسیر القرآن ودیگر کتب پڑھنے کے بعد اپنے وطن کے اندھیروں کو اُجالوں میں بدلنے کے لئے اپنے گاؤں پنج پیر ضلع صوابی سے اس عظیم مشن کا آغاز کیا۔ اس مشن کے دوام کیلئے آپ نے دیگر علماء ومشائخ کے ساتھ ایک تنظیم جماعت اشاعت التوحید والسنہ کی بنیاد رکھی۔ توحید وسنت کے اشاعت، شرک وبدعت اور رسومات باطلہ کے تردید کی پاداش میں آپ کو باطل پرستوں سے کافی تکالیف اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر حق کے سپاھی ہونے کے ناطے آپ نے اللہ کے فضل سے تمام رکاوٹوں کو عبور کیا اور نامساعد حالات کے باوجود حق کے علم کو زندگی کی آخری سانس تک بلند رکھا۔ دارالقرآن پنج پیر میں شیخ القرآن رح کے قرآنی تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری تھا لیکن سن 1970ء میں بعض اہم ساتھیوں نے (جس میں شیخ القرآن حضرت مولانا سعید الرحمن اوگی خطیب صاحب حفظہ اللہ بھی شامل تھے) شیخ القرآن رح کو مشورہ دیا اور مطالبہ بھی کیا کہ آپ نے ہمیں منفرد طرز پر قرآن کی تفسیر سکھائی ا ب ہمیں اسی طرز پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بھی سکھائیں۔ اس مطالبے کے جواب میں شیخ القرآن رح نے مقولہ کہا کہ (زما د گنگڑو تلہ دہ او پہ مالگو ئے را لہ مہ شلوئی) مطلب یہ کہ فی الحال میرا بس صرف قرآن کے درس تک ہے اور اگر اس سے خدمت مزید بڑھے گی تو نہ کر سکوں گا ۔ مگر ساتھیوں نے پر زور اصرار کیا کہ دارا القرآن پنج پیر میں حدیث کا درس ہونا چاہیے۔ تو شیخ القرآن رح نے کہا کہ ٹھیک ہے مگر میں اکیلے اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نہ نبھا پاؤ گا۔ لہذا میرے ساتھ ایک دوسرے ساتھی کی بھی ضرورت ہوگی۔ اور وہ ساتھی یا تو شیخ الحدیث مولانا محمد یار بادشاہ صاحب یا حسن زو کے صاحب حق صاحب، دونوں میں لازمی ایک ہونا چاہئے۔ تو ساتھیوں نے شیخ القرآن رح کے شرط کو مان لیا اور ان دو شخصیات کو عالمی مرکز دارالقرآن پنج پیر میں اپنی خدمات سر انجام دینے کی درخواست کی ۔ حسن زو کے صاحب حق صاحب نے با امر مجبوری معذرت کی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا یار بادشاہ صاحب اس دور میں تور ڈھیر مدرسہ میں فنون کے مدرس تھے۔ شیخ القرآن رح نے ان کو بلایا اور مرکز دارالقرآن پنج پیر میں حدیث پڑھانے کا مطالبہ کیا کہ اس خدمت میں میری رفاقت اختیار کر لے۔ تو بادشاہ صاحب نے کہا کہ جی میں تو فنون کے کتب کا مطالعہ بمشکل پوری کرتا ہو تو احادیث کیسے پڑھاؤں گا۔ جواب میں شیخ القرآن رح نے حضرت بادشاہ صاحب کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ فکر نہ کریں میں ادھر ہوں آپ کی اشکالات حل کراؤں گا اور ان شاءاللہ میری دعاء سے آپ حدیث کا درس پڑھا سکو گے۔ حضرت بادشاہ رح راضی ہوئے اور دارالقرآن پنج پیر میں دورہ حدیث کی شروعات ہوئی ۔ بخاری شریف، مسلم شریف اور طحاوی شیخ القرآن رح جبکہ ترمذی و ابوداؤد شریف حضرت بادشاہ رح پڑھاتے تھے۔ پھر جب شیخ العرب والعجم شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طاہر نور اللہ مرقدہ وفات پا گئے تو اس سے دو سال پہلے شیخ القرآن رح کے حقیقی جانشیں فرزند ارجمند شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ فارغ التحصیل ہو چکے تھے اور اس دور میں وہ تقریباً فنون کے بائیس کتب پڑھاتے تھے ۔ اس دوران قائد محترم شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ کے تلامذہ میں قابل ذکر شخصیات سوات گبرال کے مولانا حبیب اللہ ، اشاعت ضلع پشاور کے امیر مولانا امیر جان، انبار ضلع صوابی کے مولانا امداد اللہ اور کوٹہ ضلع صوابی کے مولانا عبدالوکیل شامل تھے ۔ اور پھر شیخ القرآن رح کے رحلت کے بعد دورہ حدیث میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یار بادشاہ رح کے ساتھ امیر محترم قائد انقلاب قرآنی شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ معاون محدث بن گئے ۔ بخاری شریف، مسلم شریف حضرت بادشاہ رح جبکہ ترمذی اور ابوداؤد شریف وغیرہ حضرت امیر صاحب پڑھاتے تھے ۔ اس دوران کافی عرصہ بیت گیا اور یہ سلسلہ جاری رہا ۔ بعد میں جب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یار بادشاہ رح کی رحلت ہوئی تو امیر محترم شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ نے مفتی سراج الدین صاحب کو اپنے ساتھ معاون محدث کی ذمہ داری سونپ دی ۔ اس دوران کچھ وقت کے بعد ضلع باجوڑ کے انقلاب میں شیخ القرآن حضرت مولانا عبد الجبار خاکی صاحب دارالقرآن پنج پیر منتقل ہوئے تو امیر محترم سے چند کتب حوالہ کرنے کی درخواست کی تو امیر محترم نے بخوشی درخواست قبول کرتے ہوئے اپنے ساتھ دورہ حدیث میں معاونت کی ذمہ داری سونپ دی ۔ پھر جب ضلع باجوڑ کے حالات سازگار ہوئے تو شیخ عبد الجبار خاکی صاحب واپس باجوڑ لوٹ گئے تو امیر محترم شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ نے اپنے ساتھ پنج پیر گاؤں کے سید خاندان سے تعلق رکھنے والے حضرت مولانا مفرح شاہ صاحب کو ترمذی شریف پڑھانے کی ذمہ داری سونپی۔ شیخ صاحب نے مولانا مفرح شاہ صاحب کو اپنے ترمذی شریف کے نوٹس بھی دئیے اور پڑھائی میں معاونت بھی کی۔ اب الحمد للّٰہ مرکز دارالقرآن پنج پیر میں دورہ حدیث کے کتب امیر محترم شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ پہلا نصف بخاری و مسلم شریف، مفتی اعظم مولانا مفتی سراج الدین صاحب دوسرا نصف بخاری و مسلم شریف اور مولانا مفرح شاہ صاحب ترمذی و ابوداؤد وغیرہ کتب پڑھاتے ہیں، جبکہ سال کے درمیان کچھ عرصہ کےلئے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یار بادشاہ رح کے فرزند مولانا مسیح اللہ صاحب شمائل ترمذی پڑھانے کیلئے تشریف لاتے ہیں ۔ الحمد للّٰہ اس سال دورہ حدیث میں شامل فضلاء کرام کی کل تعداد 458 ہے۔ جبکہ خواتین فضلاء کی تعداد 138 ہے۔ تکمیل بخاری شریف اور دستاربندی پروگرام 28 جنوری 2024 بروز اتوار صبح 8 بجے منعقد ہوئی ۔ دورہ حدیث کے ساتھ ساتھ اب قائد انقلاب قرآنی شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ نے دارا القرآن پنج پیر میں تخصص کورسز (مفتی کورس) بھی شروع کئے ۔ جو کہ منفرد بہترین جدید انداز تعلم سے پڑھائے جاتے ہے۔ ہر سال افتاء کورس میں شامل مفتیان کرام کو مختلف جدید موضوعات پر تحقیق کے لۓ مقالے دئیے جاتے ہیں جو کہ 350 صفحات سے لے کر 700 صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالہ جات متخصصین لکھتے ہیں۔ الحمد للّٰہ اب تک مختلف قدیم اور جدید موضوعات پر مشتمل سینکڑوں مقالہ جات دارالقرآن پنج پیر کے لائبریری میں موجود ہیں ۔ استاد محترم شیخ القرآن مولانا محمد طیب طاہری نے والد محترم امام انقلاب شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد طاہر نور اللہ مرقدہ کے لگائے گئے باغ کی آبیاری نہایت بہترین انداز میں جاری رکھی اور اس مقصد کیلئے شیخ القرآن رح کے نظریے کی محافظ جماعت 'جماعت اشاعت التوحید والسنہ' کو بام عروج تک پہنچایا۔ دنیائے عالم کے کونے کونے میں شیخ القرآن ؒ کا مشن پہنچایا اور الحمد اللہ لاکھوں دروس کا ایک منظم عالمی نیٹ ورک پوری دنیا میں جاری کیا، جس سے کروڑوں فرزندان توحید مستفید ہورہے ہیں۔ آپ نے اپنے والد محترم کے مدارس کے منظمہ کی خواب کو وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان بورڈ کی شکل میں شرمندہ تعبیر کیا جس کے تحت پورے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں مدارس منظم نظام سے ملحق ہیں۔ حال ہی میں تشکیل شدہ بورڈ کے دوسرے سال کے امتحانات کو صدر وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ نے بہترین اور منظم طریقے سے منعقد کروا کر وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان کو ملک کے ٹاپ بورڈز میں شامل کرالیا۔ قائد محترم پورے عالم میں پھیلے جماعت کی نگرانی کا فریضہ ایک ماں کی طرح ادا کرہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ قائد انقلاب قرآنی شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ کے خاندان میں قرآن وسنت کی خدمت کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رکھیں۔ امین استاد محترم قائد انقلاب قرآنی شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ کے معمولات سے باخبر رہنے کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لنکس مندرجہ ذیل ہیں:
416