383

پاکستانی سیاست کا مکس اچار

اسٹبلشمنٹ،سیاستدانوں کی زاتی انا، جنگ اور اقتدار کی ہوس کی اس لڑائی میں ہار پاکستان رہا ہے۔ الیکشن کے سرکاری نتائج کے بعد پاکستان تحریک وکے آزاد ممبران قومی اسمبلی میں بانوے سیٹوں کیساتھ سرفہرست جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون اسی سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،نون لیگ کو مخصوص نشتیں ملنی ہیں،جبکہ آزاد ممبران جو کہ دراصل تحریک انصاف ہی ہیں کو انتخابی نشان نا ہونے کی وہ نشستیں نہیں مل سکتی،حتی کہ وہ کسی پارلیمانی پارٹی میں شامل ہوں۔بظاہر تحریک کے جیتے ممبران مجلس وحدت مسلمین میں شامل ہو رہے ہیں،جسکی وجہ سے انہیں مخصوص نشتیں مل سکتی ہیں ۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کے پاس وزارت اعظمی کے لیے مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں۔تحریک انصاف کو جب تک کہ پاکستان پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں سپورٹ نا کرے،تحریک انصاف اپنا وزیراعظم نہیں لا سکتی۔ یہی مسئلہ ن لیگ ساتھ ہے،مخصوص نشتوں ملنے کے بعد،پاکستان مسلم لیگ ق،آئی پی پی، ایم کیو ایم،جے کو آئی ایف کی حمایت کے باوجود یہ بھی وزارت اعظمی کے لیے مطلوبہ نمبرز نہیں پورا کر سکتی۔ تو پی پی پی کی سپورٹ اسکے لئے بھی ضروری ہے ۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے ن لیگ کو اپنی حمایت کا تو کہا ہے،لیکن بدلے میں سارے آئینی عہدے مانگ لیے ہیں،یعنی اقتدار تو ملے گا، لیکن اپوزیشن بھی رہے گی۔ اقتدار کے مزے الگ جبکہ اپوزیشن کی اپوزیشن ۔ اس مک مکاؤ میں جو بھی وزیراعظم بنے گا،وہ تاریخ کا کمزور ترین وزیراعظم ہو گا۔ اسٹبلشمنٹ اپنی مرضی کے فیصلے کروائے گی،جبکہ اتحادی پارٹیوں کی بلیک میلنگ الگ۔

اب اگلا مسئلہ یہ بھی ہے کہ آپکو اگلے کچھ مہینوں میں آئی ایم ایف کے پاس پھر جانا ہے،یعنی کہ بجلی،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنا پڑے گا،جسکی وجہ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا، کیا ایک کمزور وفاقی حکومت یہ سخت فیصلے لے سکے گی؟ ہر گز نہیں ۔

سارا قصور ان سیکٹرز کا ہے،جنہوں نے الیکشن نما سلیکشن کے نام پر ایک ایسا رائتہ بنا دیا ہے،جو کہ اب نگلا نہیں جا رہا ہے۔اگر آپ نواز شریف کو واپس لائے ہی وزیراعظم بنوانے کے لئے لیے تھے،تو کم سے کم سادہ اکثریت تو لے کر دیتے،تاکہ وہ صرف اسٹبلشمنٹ سے بلیک میل ہوتا، اسی سیٹیں دیکر اسے دیگر سیاسی جماعتوں کی منتوں کے لیے بولا گیا ہے۔

 یہی کچھ تحریک انصاف کیساتھ بھی کیا گیا ہے، اسے بھی سادہ اکثریت سے محروم کر دیا گیا، وہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے اتحاد کرے گی نہیں،باقی سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی نمائیندگی اتنی ہے نہیں کہ وہ تحریک کیساتھ مل کر مرکزی حکومت بنا سکے۔ اگر کوئی بھی پارٹی وفاقی حکومت مک مکاؤ بناتی ہے،اسے تحریک عدم اعتماد کا خوف ہمیشہ رہے گا،اسی خوف کا سہارے ایک کمزور وفاقی حکومت کیسے چل سکے گی؟؟

اس سارے گند میں ہار کون رہا ہے؟ اس سارے کھیل تماشے میں پاکستان ہار رہا ہے۔ جسکا نوجوان یہاں سے مایوس ہو چکا ہے۔ بے انتہا مہنگائی،بدامنی اور بیروزگاری نے ہر سو سے گھیر رکھا ہے۔ بارڈر کے حالات بھی اتنے اچھے نہیں ، ہمسایہ ممالک نے بھی پاکستان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے،جبکہ طالبان دوبارہ پاکستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ایک کمزور وفاقی حکومت ان چیلنجز کا مقابلہ کر پائے گی؟؟ یہ سوال اس ملک کے اصلی حکمرانوں سے لازمی پوچھا جانا چاہئے ۔

سیاست میں ہمیشہ ڈائیلاگ اور مفاہمت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہئے ۔ اگر تحریک انصاف نے اس اصول پر عمل کیا ہوتا تو آج وہ آسانی سے پاکستان پیپلزپارٹی کیساتھ اتحاد کر کے وفاقی حکومت بنا سکتی تھی لیکن سیاستدان اقتدار میں آ کر انتقام کی آگ میں اتنا اندھا ہو جاتے ہیں کہ مفاہمت کا راستہ بند کر دیتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں۔

خدارا پاکستان پر رحم کھائیے۔ حالات یہ ہیں کہ سردیوں میں ایک عام آدمی کا بجلی کا بل دس ہزار تک آ رہا ہے، وہ گرمیوں میں بجلی کا بل کیسے ادا کرے گا؟؟جبکہ ابھی ہم نے دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے۔اگر آپکو پاکستان پر ترس نہیں آتا، نہیں تو خدارا کم سے کم اپنا اسکرپٹ رائٹر ہی بدل دیں۔ کیوں آپ نے اپنی سلطنت قائم رکھنے کے لیے پورے پاکستان کا آگے لگا رکھا ہے۔

اس سارے سیاسی مکس اچکار کا ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ نواز پنجاب میں حکومت بنائے، تحریک انصاف کے پی کے میں،پیپلزپارٹی سندھ میں، جبکہ بلوچستان میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ مخلوط حکومت بنائیں۔ جبکہ وفاقی حکومت کے لیے تمام سیاسی جماعتیں مل کر قومی حکومت بنائیں،جو کہ پاکستان کو ملکر اس مسائل سے نکالیں،قومی اسمبلی کا دوبارہ الیکشن ہم افورڈ نہیں کر سکتے ۔ سارے اسٹیک ہولڈرز اور سیاستدان یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ سب سے پہلے پاکستان،پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ 

بشکریہ اردو کالمز