مغربی ادارے پاکستان پر تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،ان اداروں کی جاری کردہ رپورٹس ہوں یا کئے جانے والے فیصلے ،مسلم ممالک بالخصوص پاکستان کے حوالے سے دوہرا معیار صاف جھلکتا ہے جہاں مغربی ممالک اور غیر مسلم ممالک کیلئے گنجائش دیکھنے میں آتی ہے وہاں پاکستان مخالف سخت پالیسی،تعصب اور دشمنی کی حد تک مخالفانہ طرز عمل بھی صاف دکھائی دیتا ہے ،مغربی ممالک اور مغربی اداروںکا یہ دوہرا معیار جہاں پاکستان کی اقوام عالم میں بدنامی کا باعث بنتا ہے وہاں ان گنت مشکلات بھی پاکستانی قوم کے سرپر مسلط کردی جاتی ہیںجیسے آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی مالیاتی ادرے اور امیر ممالک قرض کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ انتہائی سخت رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن صنعتی ممالک کی ترقی سے موسمی بگاڑ کی ذمہ داری اٹھانے اور پاکستان کو اس کا ہرجانہ دینے میں عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں،پڑوسی ملک بھارت انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کرے ،اسرائیل انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا کے رکھ دے ،امریکہ اور اس کے اتحادی دنیا کے کسی بھی ملک میں مسلح کاروائیاں کرکے آبادیوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیں لیکن اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جبکہ پاکستان میں ہونے والے کسی چھوٹے سے واقعہ پر یہی عالمی ادارے اور مغربی ممالک آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ، رپورٹس میں نمایاں کرکے ہدف تنقید بنایا جاتا ہے ،عالمی ریٹنگ میں نچلے درجوں پر دھکیل دیا جاتا ہے۔
مغربی جریدے دی اکانومسٹ نے حال ہی میں ایسی ہی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان کو خصوصی طور پر ہدف تنقید بنایا گیا ہے ،دی اکانومسٹ نے ڈیموکریسی اینڈیکس 2023 نامی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں دنیا کے150سے زائد ممالک میں رائج نظام حکومت کی درجہ بندی دکھائی گئی ہے اور اس درجہ بندی میں پاکستانی درجے میں خصوصی طور پر تنزلی کی گئی ہے ،گزشتہ برس کی رپورٹ میں پاکستان کا درجہ105رکھا گیا تھا جبکہ تازہ ترن رپورٹ میں یہ درجہ118پر چلا گیا ہے ،اس رپورٹ میں پاکستان کے نظام حکومت پر سخت تنقید کی گئی ہے اور اسے آمرانہ طرز حکومت قرار دیا گیا ہے ،رپورٹ میں پاکستان کے سیاسی نظام کو کمزور بتایا گیا ہے ،اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں انتخابات کا اپنی مدت سے آگے بڑھ جانا ،سیاسی رہنمائوں پر مقدمات کی بہتات ہونا یا ان کا روپوش ہوجانا ،میڈیا پر پابندیاں لگانا اور ایسے ہی دیگر عوامل کے باعث پاکستان کا نظام حکومت مزید کمزور ہوا ہے ۔
مغربی ممالک یا اداروں کا تعصب ،مخالفت یا دشمنی اپنی جگہ لیکن ہمارے نظام میں موجود خامیاں اور کمزوریاں ہی ان کو پاکستان مخالف اقدامات اٹھانے کے مواقع فراہم کرتی ہیں،مغربی ممالک کی حکومتیں ہوں یا ادارے ،عالمی اداروں کے فیصلے ہوں یا رپورٹس سب اپنی جگہ پر ،سیاسی حلقوں کی ہرزہ سرائی بھی اپنی جگہ پر ،حقیقت روز روشن کی طرح صاف دکھائی دے رہی ہے ،پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری اور نظام حکومت کی خامیوں کا اصل سبب معلوم کیا جائے تو سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ہی اس کے پیچھے دکھائی دیں گے جبکہ اس کے متضاد الزام بیورو کریسی پر لگائے جاتے ہیں،حالیہ انتخابات کے بعد جائزہ لیا جائے تو ملک میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قیام کا محور ومرکز سیاسی جماعتیں اور سیاستدان نہیں بلکہ چند شخصیات ہی فیصلہ کن اختیارات کی حامل ہیں اور بدقسمتی سے ان شخصیات کے فیصلے ملک و قوم کے مفادات کو دیکھ کر نہیں کئے جارہے بلکہ سیاسی اور ذاتی مفادات کے گرد گھوم رہے ہیں ،انا اور مفادات کے گردگھومتی اس سیاست نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے لیکن یہ طبقہ آج بھی اپنی اسی ڈگر پر رواں دواں ہے اور اس طرز عمل سے ملک کو مزید پیچھے کی جانب دھکیلا جارہا ہے ۔
جب تک سیاسی طبقہ اپنے رویے اور رحجانات میں تبدیلی نہیں لاتا ،جب تک سیاسی جماعتیں شخصیات کی بجائے نظریات کے مطابق نہیں ڈھلتی تب تک ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا ،سیاسی جماعتوں کو اپنا قبلہ درست کرنے کی اشد ضرورت ہے اور سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کا قیام عمل میں لایا جائے تب جاکر ہی ملک میں جمہوریت کا بول بالا ممکن ہے ،آمرانہ نظم و ضبط رکھنے والی سیاسی جماعتیں بھلا کیونکر جمہوریت کی علمبردار ہو سکتی ہیں ،ہمارا سیاسی طبقہ اخلاقی اقدار سے بھی دور ہوچکا ہے ،اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کے متضاد عمل کرنا ،اپنے موقف یا نظریات میں اچانک یو ٹرن لے لینا ،اپنی کارکردگی بتانے کی بجائے حریفوں پر الزامات لگاکر سیاست کرنا اورعوامی مینڈیٹ کی توہین کرنا ہمارے سیاسی مزاج کا پختہ حصہ بن چکا ہے ،حالانکہ حق تو یہ بنتا ہے کہ ایک دوسرے کے حریف سیاستدان اپنے نظریاتی یا سیاسی اختلافات پر قائم و دائم رہیں لیکن عوامی مینڈیٹ کا احترام ہر ایک پر لازم ہے ،عوامی مینڈیٹ کی توہین یا اسے تسلیم نہ کرنے کی روایت ہی جمہوریت کو کمزور بنانے کیلئے کافی ہے ، یہی وجہ ہے کہ انتخابات ہونے کے باجود بھی ملک کی موجود سیاسی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے اور وفاقی حکومت کا قیام سیاستدانوں کیلئے امتحان بن چکا ہے ۔
دو سال قبل جب تحریک انصاف کی حکومت گرائی گئی تھی تب پی ڈی ایم کی شکل میں تمام سیاسی جماعتوں نے ملکی معیشت کی بگڑی ہوئی صورتحال کو سنبھالنے کا ذمہ لیا تھا ،تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد ہو ،نگران حکومت کا قیام ہو یا انتخابات میں التوا کا معاملہ ہو پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتیں ان تمام معاملات میں ایک پیج پر تھیں ،اب انتخابات میں پی ڈی ایم اتحاد کو اکثریت حاصل ہوچکی ہے لیکن حکومتی اتحاد قائم کرنے میں اتفاق رائے نہیں ہے ،یعنی دو سال قبل جو ذمہ داری اٹھائی گئی تھی اب وہی سیاسی طاقتیں ان ذمہ داریوں سے منہ موڑ رہی ہیں اور ملکی سیاست ایک بار پھر نئے بحران میں دھکیل رہی ہیں،پیدا ہونے والے اس نئے سیاسی بحران کی تمام تر ذمہ داری پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں پر یکساں عائد ہوتی ہے ،ان تمام جماعتوں کا حق بنتا ہے کہ جیسے دوسال قبل مل کر حکومت قائم کی تھی اسی اتحادی حکومت کو تسلسل دیا جائے اور ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کیا جائے وگرنہ آنے والے وقت میں یہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی وقعت کھو بیٹھیں گی اور عوام کی نگاہ انتخاب سے اوجھل ہو جائیں گی ۔
409