چین کے صدر شی جن پھنگ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت اور وسط ایشیائی ممالک قازقستان اور تاجکستان کے سرکاری دورے پر موجود ہیں۔حالیہ برسوں میں چین اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون اور تبادلے کو مسلسل فروغ ملا ہے۔انہی دو ممالک کی بات کی جائے تو چین اور قازقستان کے درمیان تقریباً 1700 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستانہ تبادلوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ شی جن پھنگ نے دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی کو بیان کرنے کے لئے "اچھے پڑوسیوں، اچھے دوستوں اور اچھے شراکت داروں" جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کی اسٹریٹجک رہنمائی چین قازقستان تعلقات کی ایک خاص نوعیت ہے۔ ستمبر 2013 میں قازقستان کے سرکاری دورے کے دوران شی جن پھنگ نے سلک روڈ اکنامک بیلٹ کی تجویز پیش کی جو بی آر آئی کا ایک لازمی جزو ہے۔ستمبر 2022 میں جب شی جن پھنگ نے دوبارہ وسطی ایشیائی ملک کا دورہ کیا تو انہیں قازقستان کے صدر قسیم جومارت توکائیف کی جانب سے آرڈر آف دی گولڈن ایگل سے نوازا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اعلان کیا کہ چین اور قازقستان ایک ایسی کمیونٹی کی تعمیر کے لیے کام کریں گے جس کا مستقبل پائیدار دوستی، باہمی اعتماد کی اعلیٰ سطح اور سانجھے دکھ سکھ پر مبنی ہو۔ سال 2022 میں دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کی 30 ویں سالگرہ منائی گئی۔ سنہ 2023 میں شی اور توکائیف نے چین میں دو مرتبہ ملاقات کی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کا مزید 30 سالہ سنہری دور تخلیق کرنے کے لئے تیار ہیں۔دونوں ممالک نے سرحد پار نقل و حمل اور تجارت کو آسان بنانے کے لئے ایک مکمل رابطے کا نیٹ ورک تشکیل دیا ہے۔ سرحد پار ریلوے، زمینی سرحدی گزرگاہوں اور دیگر لاجسٹک اور تجارتی سہولیات کی بدولت چین یورپ مال بردار ٹرینیں جدید دور کے اونٹوں کے قافلوں کی طرح چلتی ہیں، جو چین میں تیار کردہ مصنوعات کو وسطی ایشیائی اور یورپی ممالک تک پہنچاتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ خشکی سے گھرے ملک سے گندم، کھاد اور دیگر مصنوعات چینی بندرگاہوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ چین 2023 میں قازقستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا ، جس کی دو طرفہ تجارت سال بہ سال 32 فیصد اضافے سے 41 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔مختلف قسم کے ثقافتی اور افرادی تبادلے فریقین کی دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے لئے پل کا کام کرتے ہیں۔باہمی ویزا استثنیٰ سے متعلق معاہدے کے نفاذ سے سرحد پار سفر میں اضافہ متوقع ہے۔ لوبان ورکشاپ، ایک چینی پیشہ ورانہ ورکشاپ پروگرام ہے جو بیرون ملک ٹیلنٹ کو تربیت دے رہا ہے،یہ گزشتہ سال سے قازقستان میں کام کر رہا ہے.یوں ،قازقستان اور چین کے تعلقات مسلسل اعلیٰ سطح پر بڑھ رہے ہیں اور یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ شی جن پھنگ کے قازقستان کے دورے سے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات کھلیں گے۔ اب ، اگر چین اور تاجکستان کے درمیان تعلقات کی بات کی جائے تو 30 سال قبل فریقین کے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دوطرفہ تعلقات بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظرنامے کے امتحان پر پورا اترے ہیں اور نمایاں ترقی حاصل کی گئی ہے۔حالیہ برسوں کے دوران،صدر شی اور تاجک صدر امام علی رحمان نے باقاعدگی سے بات چیت جاری رکھی ہے، گہری دوستی قائم کی ہے اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں سہولت فراہم کی ہے.ستمبر 2014 میں شی جن پھنگ نے تاجکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔صدر رحمان تقریباً 10 گھنٹے تک شی جن پھنگ کے ہمراہ رہے اور خاندانی ضیافت کے ساتھ ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔تاجک صدر نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ''اچھے بھائی ہاتھ میں ہاتھ لے کر چلتے ہیں،'' ۔ جون 2019 میں جب شی جن پھنگ نے دوشنبے کا دورہ کیا تو انہیں تاجک صدر کی جانب سے آرڈر آف دی کراؤن سے نوازا گیا۔ دونوں سربراہان مملکت نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔مئی 2023 میں چین وسطی ایشیا سربراہ اجلاس کے دوران دونوں صدور نے مشترکہ طور پر ایک ایسی چین تاجکستان کمیونٹی کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جس کا مشترکہ مستقبل دائمی دوستی، یکجہتی اور باہمی فائدے پر مشتمل ہوگا، جس سے دو طرفہ تعلقات کی ترقی کے لیے ایک واضح ہدف مقرر ہوگا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تاجکستان بی آر آئی کی حمایت کرنے اور چین کے ساتھ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے نمایاں ثمرات برآمد ہوئے ہیں جن میں چین تاجکستان شاہراہ کی تعمیر بھی شامل ہے۔فریقین اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے گرین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اکانومی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون پر بھی غور کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں چین کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ یا چین میں تاجک طالب علموں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وسطی ایشیا میں پہلی لوبان ورکشاپ دوشنبے میں دو سال سے کام کر رہی ہے ، جس میں تاجکستان کی پیشہ ورانہ تعلیم اور ملک کی صنعت کاری اور جدیدکاری کے لئے بہت سے ٹیلنٹ تیار کیے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تاجک حلقے پرامید ہیں کہ صدر شی جن پھنگ کے سرکاری دورے سے دوطرفہ تعلقات کی مسلسل ترقی کو فروغ ملے گا اور دونوں برادر ممالک کے عوام کو فائدہ ہوگا۔
542