123

سوشل میڈیا کی ججمنٹ

پہلے ادوار میں میڈیا کی اتنی مقبولیت نہیں تھی۔جتنی مقبولیت اور اہمیت آج ہے۔پہلے زمانے کے لوگ ریڈیو سنتے تھے،اخبار پڑھتے تھے۔اور اس سے روزمرہ کے معلومات اور خبریں اکھٹا کرتے تھے۔پھر دور اہستہ اہستہ بدلتا رہااور ٹیکنالوجی ترقی کرتا رہا۔سائینسدان تجربات کرتے رہے،اور دنیا ترقی کی طرف جاتا رہا۔جب ٹیکنالوجی اتنی مضبوط نہیں تھی تو لوگ بھی فارغ ہوا کرتے تھے۔اپنے اپنے کاموں میں مگن ہوتے تھے۔

آج دنیا میں ٹیکنالوجی آپنی اخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔دنیا بہت اگے جا چکی ہے۔اور دنیا سوشل ہوچکی ہے۔ہر دوسرا شخص سوشل شخص ہے۔سوشل کا مطلب یہ ہے کہ ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے،جس میں تقریباً تمام سوشل میڈیا ایپس موجود ہیں۔چاہے وہ بچہ ہوں،بوڑا ہوں،جوان ہوں،لڑکی ہوں،لڑکا ہوں سب سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا ہے۔ہر شخص آپنی مرضی کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہے۔سوشل میڈیا کے فائدے بھی بہت ہیں اور نقصانات بھی بہت ہیں۔جس طرح سکول میں بچے پڑھتے ہیں۔ایک کلاس میں موجود ہوتے ہیں۔اس کلاس میں کچھ بچے قابل ہوتے ہیں زہین ہوتے ہیں۔اور کچھ بچے ناقابل ہوتے ہیں۔ایک ہی کلاس ہوتا ہے ایک ہی استاد ہوتا ہے۔لیکن کچھ بچے قابل کچھ بچے ناقابل ہوتے ہیں۔اس کی وجوہات یہ ہیں کہ قابل بچے سبق یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔استاد کی کام کو استاد کی نصیحت کو دل سے مان لیتے ہیں۔جبکہ ناقابل بچے صرف حاضری لگاتے ہیں۔اور واپس گھر جاتے ہیں۔اسی طرح مثال سوشل میڈیا کا ہے۔یہ ہم سب کیلئے ایک استاد کی مانند ہے۔ہم اس سے اچھے کام بھی اخذ کرسکتے ہیں اور برے کام بھی اخذ کرسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا کی تقریباً تمام ایپس اب انسان کی ججمنٹ کر رہا ہے۔انسان کی سوچ کو جج کر رہا ہے،انسان کی چال چلن کو دیکھ رہا ہے۔کوئی بچہ موبائل میں یوٹیوب پر کارٹون دیکھتا ہے تو یوٹیوب ان کو بار بار مختلف قسم کے کارٹون سامنے لاتا ہے۔کوئی فلمیں،ڈرامے،بیانات،جو بھی سوشل میڈیا میں آپ دیکھتے ہیں تو یہی سوشل میڈیا آپ کو جج کر رہا ہے کہ یہ انسان کیا کیا پسند کرتا ہے۔کوئی بھی ایپ ایسا نہیں ہے کہ انسان کی ججمنٹ نہیں کر رہا۔اور یہ اتنی تیز ہوچکی ہے کہ آپ کسی ویڈیو کو صرف ادھا سیکنڈ کیلئے دیکھتے ہیں تو یہ آپ کی زہن کو سمجھتا ہے کہ بندہ اس قسم کا ہے اس قسم کے چیزوں کو پسند کرتا ہے پھر وہی چیزیں آپ کے سامنے لاتا ہے۔بچوں کو تو موبائل سے دور رکھنا چاہیئے لیکن اگر موبائل فون استعمال کیلئے بھی دیتے ہوں تو چیک کرنے کا آسان سا طریقہ ہے۔سارے سوشل میڈیا ایپس کھولو اور چیک کرو آپ کے بچے کیا دیکھ رہے ہیں۔کتنی حیران کن بات ہے کہ اب موبائل آپ کو جج کر رہا ہے کہ کونسے قسم والا ہے۔سوشل میڈیا کا استعمال ایسا کرو کہ آپ کو کچھ فائدہ ملے۔اپ جس بھی کام سے تعلق رکھتے ہوں اس میں آپ کیلئے بہترین معلومات موجود ہیں۔اپ اس سے ارننگ بھی کرسکتے ہیں۔لیکن ارننگ اچھے کام کی ہونی چاہیئے۔اج کل کے دور میں سوشل میڈیا میں فحاش قسم کے چیزیں زیادہ مقدار میں ہر کسی کے سامنے آتے ہیں۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ عوام فحاشی کو پسند کرتے ہیں۔اپ کسی فحاش تصویر کو دیکھیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ جتنے فیصدلوگ اس پر کمنٹس کرتے ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز