دے دوں گا مگر یہ ممکن نہیں ہو گا، اور پھر اسی شام شیر آغا کا فون آ یا،کہ آپ کب آنا چاہتے ہیں میں نے کہاکہ جب بھی مولوی جی کا حکم ہو، تو کیا وہ
مان گئے،کہنے لگے ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے میں نے آپ کا کہا تو کہنے لگے ’گلے! ان کو انکار مت کریں آغاجی پیر محمد شاہ کے بھائی ہیں“ وہ ان کی زندگی کا آخری انٹرویو تھا جو ٹی وی سے نشر ہوا، میں نے یہ واقعہ با بو چن کو سنایا تو بہت خوش ہوئے تھے۔ بابو چن کے ساتھ جس نے بھی ایک بار تھوڑا سا وقت بھی گزارا تو وہ ان کے علم اور خصوصاً شعر و ادب کی معلومات سے بہت متاثر ہوتے، حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ ان کے حافظہ نے کبھی ان سے بے وفائی نہیں کی اور ان کو اکابرین کی ساری حکایات اور ان کے فرمودات حرف بہ حرف یاد تھے اور جب بھی مو قع ملتا پوری تفصیل سے بتاتے تھے اخبار باقاعدگی سے پڑھتے تھے ابھی گزشتہ مہینے دس دسمبر کو بابو چن نے اپنی 90 ویں سالگرہ منائی اور 24 دسمبرکی شام تک بھلے چنگے تھے البتہ بھابھی کی طبیعت قدرے ناساز تھی جن کی عیادت کے لئے چھوٹے بھائی ناظم علی شاہ سمیت کچھ اور فیملی کے لوگ بھی آ جارہے تھے اس شام بابو چن نے سید در کامل سے پا نی مانگا اور کہا ایک کپ چائے بنا دیں خلاف معمول بس ایک آدھ گھونٹ پانی پی کر مسکراتے ہوئے گلاس واپس کر دیا اور جب وہ گلاس رکھ کر مڑے تو مسکراہٹ جیسے ان کے ہونٹوں پر سرد ہو چکی تھی‘بیمار بھابھی کو یقین دلانا مشکل تھاسو شاید یہی معلوم کرنے چار دن کے بعد وہ خود بھی چلی گئیں، ایک ہفتہ میں دعا کے دو بڑے دروازے بند ہونے نے ادھ موا سا کر دیا ہے جس رات میں اپنے بھتیجوں اور ذیشان کے ساتھ با بو چن کی میت کے پاس بیٹھا تھا پہلے کینیڈا سے یحییٰ قریشی اور خالد قریشی کے یکے بعد دیگربرقی پیغامات آئے اور پھرابرار قریشی کا ٹیلی فون آیا بہت لمبی بات کی میں حیران ہو رہا تھا اور پوچھنا چاہ رہا تھا کہ ابھی تو فیملی کے سب لوگوں تک بھی اطلاع نہیں پہنچی اتنی دور کیسے اطلاع پہنچ گئی۔ مگر پوچھ نہ سکا ویسے بھی مجھے اپنے ایک سوال کا جواب مل گیا تھادوست جانتے ہیں کہ مجھے 22 دسمبر کو عتیق صدیقی کی کتاب کی رونمائی کی تقریب کے لئے نیو یارک جانا تھا ٹکٹ کے مطابق مجھے 19 گھنٹے دوحہ میں رکنا تھا بس اسی کو بہانہ بنا کر آخری لمحوں میں ارادہ ملتوی کر دیا،سب پوچھ رہے تھے کہ کیا ہوا؟ کیا بتاتا کہ خود مجھے اس سوال کا جواب تین دن بعد اس وقت ملا جب با بو چن اور بھابھی دونوں بچھڑ گئے، جب میں مولوی جی سرکار کا انٹرویو کر رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ پیر محمد شاہ نے مجھے بتا یا کہ آپ کے والد مرحوم آخری دنوں میں ایک شعر بہت پڑھا کرتے تھے گلے! آپ کو یاد ہے، میں نے سنا دیا تھامدثرحسین شاہ بتا رہا تھا کہ وہی شعر بابو چن بھی پڑھا کرتے تھے اور اب تو اکبر اؔلہ آبادی کا یہ شعر میں بھی پڑھتا رہتا ہوں۔
وقت ِ طلوع دیکھا، وقت ِ غروب دیکھا
اب فکر آخرت ہے دنیا کو خوب دیکھا
وقت طلوع دیکھا‘وقتِ غروب دیکھا