محرم الحرام اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے ، اس ماہ کو شہدائے کربلا کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے، اسلامی تاریخ میں اس مہینے کی بہت زیادہ عظمت ہے ‘ اس پورے مہینے کو شہدائے کربلا کی یاد منانے کے ساتھ ساتھ وسیب میں یہ بھی ہوتا ہے کہ مسلمان شہر خاموشاں کی طرف جاتے ہیں اور پہلی محرم سے 10 محرم تک قبروں کی لپائی کی جاتی ہے۔ لواحقین قبرستانوں میں جا کر فاتحہ خوانی کرتے ہیں ‘ نذر نیاز اور طعام کی تقسیم ہوتا ہے ‘ کھجور کے پتے ‘ دالیں ‘ خوشبودار پانی اور پھول کی پتیاں قبروں پر نچھاور کی جاتی ہیں‘ اگر بتیاں جلائی جاتی ہیں ۔ ان دنوں مستری مزدور بہت مصروف نظر آتے ہیں ۔ یہ رسومات ایک طرح سے اسلامی ثقافت کا حصہ بن کر رہ گئی ہیں۔ محرم الحرام کے موقع پر قبرستان جانے پر اعتراض نہیں لیکن یہ کام وہ ہیں کہ جو ہر وقت ہو سکتے ہیں اور پورا سال فاتحہ کیلئے قبرستان میں آنا جانا رہنا چاہئے ۔ قبرستان جانے کے مقاصد بھی فراموش نہیں کرنے چاہئیں ، موت بر حق ہے مگر ان کاموں کے بارے میں سوچنا چاہئے جو موت کو بھی مار دیں اور ہمیشہ یاد رکھے جائیں ۔ سچ کی سربلندی کیلئے جان قربان کر کے امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓنے عالم اسلام اور پوری انسانیت پر احسان کیا، آپ کے عظیم کارنامے کو قیامت تک یاد رکھا جائے گا، ظلم اور جھوٹ کے خلاف لڑنے کا نام اسوئہ حسینی ہے۔ کربلا میں حق و باطل کے معرکے میں حضرت امام حسین ؓکے ساتھ آپ کے اہل و عیال نے بھی قربانی دی ، شہزادہ قاسم ؓ بھی لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ حضرت امام عالی مقامؓنے جان دے دی مگر ظالم یزید کی بیعت نہ کی ، یہی فلسفہ حسین ؓ ہے۔ غم حسین ؑکے حوالے سے وسیب میں مجالس اور سیمینار زکا سلسلہ جاری ہے۔ حضرت امام عالی مقام کے جہاں فضائل بیان ہو رہے ہیں وہاں ان کے اقوال بھی مینارہ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ واقعہ کربلا کا وسیب سے گہرا تعلق ہے ، یہ بات دعوے سی کہی جا سکتی ہے کہ حضرت امام عالی مقام کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جتنا مرثیہ سرائیکی زبان میں کہا گیا ہے، دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں کہا گیا ۔ مرثیے کو سرائیکی کی اصناف سخن میں سے ایک معتبر صنف کی حیثیت حاصل ہے اور اس صنف میں ہزاروں سخن ور طبع ازمائی کر چکے ہیں ، ہزار ہا کر رہے ہیں اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کتابیں واقعہ کربلا کی یاد میں لکھی جا چکی ہیں ۔ مرثیہ جس سوز و گداز اور محبت کے ساتھ سرائیکی زبان میں پڑھا اور سنا جاتا ہے کسی اور زبان میں اس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔ حق و باطل کا معرکہ آج بھی جاری ہے، یزیدی قوتیں آج بھی برسرپیکار ہیں ، اسوئہ حسینی پر عمل کرنے والے بھی موجود ہیں۔ 2جون 1818ء کو والی ٔ ملتان نواب مظفر خان نے رنجیتی فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے رسم شبیری ادا کی اور اہل و عیال سمیت شہادت پائی۔ سچ اور جھوٹ کی لڑائی آج بھی جاری ہے، ملتان پر رنجیت سنگھ کے قبضے کولوگوں نے تسلیم نہیں کیا، دو صدیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وسیب کو اس کا حق نہیں ملا۔ وسیب سے غیر منصفانہ سلوک کی انتہاء کر دی گئی ہے ،تعلیم ، صحت اور روزگار کا کوئی ایک بھی منصوبہ وسیب کو نہیں ملا۔ آئین کا آرٹیکل A(19) ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ وہ جان سکے کہ وسائل کہاں خرچ کئے جا رہے ہیں، وسیب کے کروڑوں لوگ سوال کرتے ہیں کہ وسیب کے وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟وسیب کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان سے غیروں والا سلوک ہو رہا ہے، وسیب کے لوگوں نے صوبہ مانگا ہے، ان کے دیوار کے ساتھ کیوں لگایا جارہا ہے۔صوبے کا بل سینیٹ آف پاکستان سے پاس ہو چکا ہے، تمام جماعتوں نے صوبہ بنانے کا وعدہ بھی کر رکھا ہے، گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے نجی ٹی وی کو اپنے ایک انٹرویو میں بجا طور کہا کہ جب تک صوبہ نہیں بنتا وسیب کے مسئلے حل نہیں ہوسکتے۔ اب جبکہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ اتحادی ہیں، صوبے کے قیام کا بل اسمبلی میں آنا چاہئے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے بھی ملتان کے مسلم فرمانروا نواب مظفر خان کی بجائے حملہ آور اور مسلمانوں کے قاتل رنجیت سنگھ کی لاہور میں برسی شان و شوکت سے منانے کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ میں رنجیت سنگھ کی حویلی پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں، جبکہ نواب مظفر خان شہید کی قبر آج بھی لاوارث بنی ہوئی ہے۔ اسی بناء پر وسیب کے لوگ اب خاموش نہیں رہ سکتے ، سرائیکستان قومی کونسل نے دیگر جماعتوں کے اشتراک سے رابطہ عوام مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا، تمام جماعتیں صوبے کے قیام پر متفق ہیں۔صوبہ کے قیام کے لیے 11جولائی کو ملتان سے میانوالی تک رابطہ مہم کا آغاز ہو رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں رابطہ مہم کا قافلہ ملتان سے میانوالی تک جائے گا اور پانچ اضلاع کا وزٹ ہوگا، ان میں کوٹ ادو، لیہ،بھکر، ڈیرہ اسماعیل خان اور میانوالی شامل ہیں۔ رابطہ مہم کا روٹ ملتان سے ہیڈ محمد والا، پٹھان ہوٹل ، کوٹ ادو، دائرہ دین پناہ ، کوٹ سلطان ، جمن شاہ ، لیہ ، کروڑ لعل عیسن ، بہل ، نوتک ، بھکر ، کوٹلہ جام ، دیرہ اسماعیل ، ڈھلہ لغاریاں ، بلوٹ، ڈھکی ، چشمہ ، کندیاں ، میانوالی تک جائیں گے اور واپس چاندنی چوک ، دُلے والا، خانسر، کچا پکاموڑ، سراں ، فتح پور، چوک منڈا، چوک اعظم سے ہوتے ہوئے واپس ملتان پہنچیں گے، وسیب کے ارکان اسمبلی اور تمام جماعتوں کے سیاستدانوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس قدر اپنے وسیب اور اپنے مینڈیٹ کا بھرم رکھتے ہیں۔
143