46

عالمی امن شدید خطرے میں!

امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کر کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر دیا، ان کی شہادت سے عالم اسلام کے ساتھ پوری دنیا کے امن پسندوں کی طرف سے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے، لندن اور دیگر ممالک کے علاوہ امریکا میں بھی امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایران میں سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ، 86سالہ سپریم لیڈر کے ساتھ ان کی بیٹی ، نواسے ، داماد اور بہو بھی شہید ہوئیں ۔امریکا اور اسرائیل کی جارحیت سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں، ابھی ہم غزہ کے صدمے کو نہیں بھولے تھے کہ سفاک قاتلوں نے ایران میں ظلم کی نئی تاریخ رقم کر دی، ان حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ ، ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور اور ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر اعلیٰ علی شاہمخانی بھی شہید ہو گئے۔ موجودہ عہد میں امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی صدر نیتن یاہو ہٹلر ، ہلاکو اور چنگیز کے روپ میں سامنے آئے ہیں جن لوگوں نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی سفارش کی تھی کیا وہ اب بھی سفارش کریں گے؟ کس کس ظلم کا ذکر کریں ، واقعات سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، ایران کے شہر مناب میں اسرائیل کے لڑکیوں کے سکول پر حملے میں 165طالبات شہید ہوئیں۔ کسی بھی شہری کا قتل ناقابل معافی جرم ہے، خصوصاً معصوم بچوں اور نہتے طالب علموں کے قتل سے انسانیت شرما گئی ہے، اس ظلم کے خلاف پوری دنیا کو اُٹھ کھڑے ہونا چاہئے اور معصوم طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے تحفظ کو اقوام متحدہ میں یقینی بنانا چاہئے۔ اس وقت دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے ، اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، اور کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ان حملوں نے عالمی امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ایران کے کم از کم ایک ہزار سے زائد شہری حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں جو کہ تشویشناک ہے،عالمی قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے، امن صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ خطے کو امن کی ضرورت ہے ، مذاکرات کے راستے کو ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں ایرانی طالبات کی شہادت پرافسوس کا اظہار کیا ہے۔ ظلم اور بربریت کے خلاف ایران کو جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے، عالمی برادری کو ایران کا ساتھ دینا چاہئے، ایران کی جانب سے بجا طور پر کہا گیا ہے کہ ایران کی قیادت پر سنگین اقدام ہے بھر پور جواب دیں گے، ایران نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل جان لیں ایرانی عوام اپنے لیڈر کا ضرور بدلہ لیں گے ۔ یورپ خصوصاً برطانیہ جو کہ خود کو امن و انصاف کا علمبردار کہتا ہے ، بھی امریکا اور اسرائیل کیساتھ جنگ میں شریک ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بیان میں کہا ہے کہ ہمارے طیارے بھی جنگ میں شریک ہیں، امریکی واسرائیلی ظلم کے خلاف عالم اسلام سے طاقتور جواب کی ضرورت تھی مگر مسلمان ملکوں کی طرف سے دبے لفظوں میں شہادتوں پر مذمت ہو رہی ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ امریکا کے اتحادی مسلمان ملک دبے لفظوں میں ایران میں ہونے والی شہادتوں پر افسوس کا اظہار بھی کر رہے ہیں اور دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کی مذمت بھی کئے جا رہے ہیں حالانکہ ایران نے سعودی عرب ، بحرین ، یو اے ای اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ ایران کیخلاف ہونے والی بربریت میں امریکا یہی اڈے استعمال کر رہا ہے۔ مسلم ممالک کے سربراہوں کی بزدلی پر جہاں دل خون کے آنسو روتا ہے وہاں امریکی جارحیت پر خون خول جاتا ہے ، تاہم خود امریکا میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سچ کہنے سے گریز نہیں کرتے، امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی فوجی حملوں اور خامنہ ای کی شہادت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی خطرناک اور غیر ضروری ہے۔مسلم سربراہوں کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی کے میڈیا کا کردار بھی منفی رہا ہے جبکہ امریکا کا آزاد میڈیا حق بات کہنے سے نہیں ہچکچا رہا، معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے بھی ایران پر امریکی حملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے، اخبار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے 2024ء میں انتخابی مہم میں جنگیں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر گزشتہ ایک سال میں 7 ممالک میں فوجی کارروائیوں کا حکم دے چکے ہیں۔ روس اور چین کی طرف سے بھی امریکا اور اسرائیلی کاررائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت ہو رہی ہے، اس موقع پر ان لوگوں کو خدا سے معافی مانگنی چاہئے جنہوں نے امریکا کو مسلمانوں کا نجات دہندہ سمجھ کر افغانستان میں روس کیخلاف امریکی جنگ لڑی اور جہاد کے نام پر مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں مسلم نوجوانوں کو اس جنگ کا ایندھن بنایا۔ امریکا و اسرائیل کی ایران کیساتھ جنگ عارضی نہیں، یہ دو تین ملکوں کا تنازعہ بھی نہیں، یہ جنگ پھیلے گی ، اگر مسلم ممالک اکٹھے نہ ہوئے اور جارحیت کو نہ روکا گیا تو سب کی باری آئے گی، پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکا اسرائیل پر جنگی جنون سوار ہے، یہود و نصاریٰ نے مسلمانوں سے پرانے بدلے لینے کا سوچ رکھا ہے، وہ جنگ میں صرف جدید ہتھیاروں سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی لڑ رہے ہیں، غزہ میں بھی سی آئی اے اور موساد نے سازشوں کا جال بچھایا تھا اور ایران میں بھی انہوں نے انٹیلی جنس وار شروع کر رکھی ہے، ان کے آگے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ مسلمان ممالک کو بھی جدید ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونا پڑے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر واقعی سپریم تھے 37 سال انہوں نے جرأت کے ساتھ حکومت کی ، انہوں نے غلامی پر موت کو ترجیح دی ، یہی بات ان کے شایان شان تھی اور بڑے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز