69

ڈیجیٹل میڈیا کا بڑھتا ہوا سیاسی اثر : ایک سنجیدہ جائزہ

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی - قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)

ڈیجیٹل میڈیا نے دنیا کی سیاست کو ایک ایسی تیز رفتار تبدیلی کے عمل سے گزارا ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ آج سیاسی بیانیے کاغذی اخبارات یا پرائم ٹائم نشریات کے محتاج نہیں رہے، بلکہ چند سیکنڈ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچنے والے مختصر کلپس، پوسٹس اور ٹرینڈز نے روایتی ذرائع کی جگہ لے لی ہے۔ یہ وسیع ڈیجیٹل میدان اب صرف حکمرانوں یا سیاسی کارکنوں کے لیے مخصوص نہیں رہا بلکہ ہر وہ فرد جس کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون ہے، اس نئی سیاسی دنیا کا فعال کردار بن چکا ہے، اور یہی حقیقت عالمی سیاست کی ساخت اور رفتار دونوں کو بدل چکی ہے۔

روایتی دور میں سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور اداروں کے بیانیوں کو عوام تک پہنچنے میں وقت لگتا تھا۔ لیکن انٹرنیٹ نے اس درمیانی فاصلے کو ختم کر دیا ہے۔ اب ہر شخص بلا کسی رکاوٹ اپنا نقطۂ نظر دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے، اور اگر وہ بات متاثر کن ہو تو لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ اس تبدیلی نے عوام کو غیر معمولی طاقت دی ہے، جس کے نتیجے میں وہ صرف ووٹ دینے والے شہری نہیں رہے بلکہ فوری ردعمل دینے والے فعال اسٹیک ہولڈرز بن چکے ہیں، جو حکمرانوں کو ہر لمحہ جواب دہ بناتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے سیاسی رابطے اور مباحثے کو نئی جہت دی ہے۔ ہر بڑے واقعے پر عوام کی گفتگو، ذاتی تجزیات، میدانوں سے براہِ راست ویڈیوز اور مختلف نقطہ نظر سیاست کو ایک کھلی بحث میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اگرچہ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومتیں زیادہ جواب دہ ہوتی ہیں، لیکن اس کا چیلنج یہ بھی ہے کہ شور اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ اصل مسئلہ اکثر جذباتی ردِعمل کے نیچے دب جاتا ہے۔

جدید سیاسی مہمات کا مرکز اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بن چکے ہیں۔ سیاسی جماعتیں الگورتھمز، سافٹ ویئرز اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے لوگوں کی ترجیحات، پسند و ناپسند اور آن لائن رویوں کو جان کر ان کے لیے مخصوص پیغامات تیار کرتی ہیں۔ پہلے صرف بڑے شہروں میں جلسے اور بینرز ہوتے تھے، لیکن اب دور دراز علاقوں کے لوگوں تک بھی مخصوص سیاسی مواد درست وقت پر پہنچا دیا جاتا ہے، جو انتخابی مہم کے نتائج پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

ڈیٹا مائیکرو ٹارگٹنگ نے سیاسی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک ہی سیاسی جماعت مختلف شہری گروہوں کے لیے الگ الگ بیانیے تیار کرتی ہے، جس سے بظاہر تو معلومات کا بہاؤ بڑھتا ہے، مگر درحقیقت رائے سازی کی فطری آزادی متاثر ہوتی ہے۔ اس عمل میں بعض اوقات شہریوں کو ایسے مواد کے ذریعے ذہنی طور پر متاثر کیا جاتا ہے جو جذبات کو ابھارنے میں زیادہ اور سیاسی شعور میں کم کردار ادا کرتا ہے۔

ڈیجیٹل دنیا کا سب سے بڑا چیلنج معاشرتی تقسیم ہے۔ لوگ وہی مواد دیکھتے ہیں جو ان کے پہلے سے موجود عقائد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ اس طرز کے الگورتھم اس قدر مؤثر ہیں کہ مختلف نظریاتی گروہوں کے افراد ایک ہی واقعے کو مکمل طور پر مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے میں برداشت کم اور عدم اعتماد زیادہ پیدا ہوتا ہے، جس کا نقصان قومی یکجہتی کو ہوتا ہے۔

غلط معلومات کا پھیلاؤ بھی ڈیجیٹل دنیا کی ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ جھوٹی خبریں اکثر تیز جذبات پیدا کرتی ہیں، اسی لیے یہ مواد سچائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین عام طور پر معلومات کی تصدیق کرنے کے بجائے اسے فوراً شیئر کر دیتے ہیں، اور یہی عبرت ناک رویہ پورے معاشرے کے فکری نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ڈیپ فیک جیسی جدید ٹیکنالوجیز نے حقیقت اور جھوٹ کے درمیان فرق کو تقریباً مٹا دیا ہے۔ کسی رہنما کی جھوٹی ویڈیو، کسی تقریب کا مصنوعی منظر یا کسی بیان کی جعلی آڈیو اس قدر حقیقی محسوس ہوتی ہے کہ عام صارف کے لیے سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال صرف سیاسی شخصیات ہی نہیں، پوری ریاستی ساکھ کے لیے خطرناک ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا نے سیاست کو بامعنی مباحثے سے زیادہ تفریحی اور سنسنی خیز رنگ میں رنگ دیا ہے۔ مزاحیہ میمز، طنزیہ کلپس، مختصر ویڈیوز اور وائرل جملوں نے سنجیدہ سیاسی گفتگو کا حصہ کم کر دیا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی اہم قومی مسئلے پر گفتگو کے بجائے وہ ایک جملہ یا تصویر زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے جس کا اصل مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

نوجوان نسل اس ڈیجیٹل تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر لینے والی طبقہ ہے۔ ان کی سیاسی معلومات، ان کے ردعمل، ان کی بحثیں اور ان کی ترجیحات کا بڑا حصہ سوشل میڈیا سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ نسل روایتی ذرائع سے ہٹ کر زیادہ فوکسڈ، تیز رفتار اور مؤثر بیانیے کی متلاشی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی مہمات میں نوجوانوں کو مرکزی حیثیت دیتی ہیں۔

اگرچہ یہ امر خوش آئند ہے کہ نوجوان زیادہ باشعور اور فعال ہو رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ معلومات کو پرکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بصورت دیگر وہ جذباتی تحریکات کا حصہ بن کر معاشرتی عدم استحکام کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

دنیا بھر کی حکومتیں اس متحرک ڈیجیٹل دنیا میں نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے نئی پالیسیاں بنانے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ وہ ایسے قوانین وضع کرنا چاہتی ہیں جو شہریوں کو جھوٹے مواد، نفرت انگیزی اور بیرونی پروپیگنڈے سے محفوظ رکھ سکیں۔ لیکن اس کے ساتھ انہیں آزادی اظہار کا احترام بھی یقینی بنانا ہے۔ یہی توازن سب سے مشکل فریضہ ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس سیاسی منظرنامے میں غیر معمولی اثر رکھتی ہیں۔ ان کے الگورتھمز طے کرتے ہیں کہ کون سا مواد زیادہ دکھایا جائے گا اور کون سا نہیں۔ اس غیر مرئی اثر نے انہیں عالمگیر سیاسی طاقت بنا دیا ہے، اس لیے ان کی جانب سے شفافیت، ذمہ داری اور احتساب ضروری ہے تاکہ عوامی رائے کبھی ٹیکنالوجی کے رحم و کرم پر نہ رہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں سیاست کی اخلاقی بنیادوں کو بھی شدید چیلنجز لاحق ہیں۔ جھوٹے الزامات، مصنوعی وائرل مواد، اور کردار کشی کی مہمات نے سیاسی ماحول کو آلودہ کیا ہے۔ جہاں ایک طرف عوام کو فوری معلومات ملتی ہیں، وہیں دوسری طرف پلیٹ فارمز کو غلط استعمال کرکے بداعتمادی، نفرت اور انتشار بھی پھیلایا جاتا ہے۔

دنیا کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، سچائی اور دیانت داری ہی وہ اقدار ہیں جو اجتماعی نظام کو مضبوط رکھتی ہیں۔ اگر معاشرہ اس اصول کو اپنا لے کہ ہر خبر کی تصدیق کرے، جذباتی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہو، اور ذمہ دارانہ رائے قائم کرے تو بہت سے سیاسی بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا میں مثبت امکانات کی کمی نہیں۔ یہ نہ صرف مظلوموں کی آواز بن سکتا ہے بلکہ دور افتادہ علاقوں کے مسائل کو بھی مرکزی سطح تک پہنچا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے انفرادی آواز اجتماعی اثر میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور یہ تبدیلی اصلاح اور ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

بہت سے عالمی مسائل آج ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بدولت دنیا کے سامنے نمایاں کیے جاتے ہیں۔ چھوٹے گروہ اور عام شہری بھی اب ایسے مباحث چھیڑ سکتے ہیں جو پہلے صرف بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں تھے، اور یہی جمہوری قوت کا سب سے روشن پہلو ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تعلیم اور سیاسی تربیت کے لیے بھی بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں ذمہ داری، سنجیدگی اور توازن کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ اگر صارفین شعور کے ساتھ ان ذرائع کا استعمال کریں تو یہ معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا نہ مکمل طور پر اچھا ہے نہ برا۔ یہ محض ایک طاقت ہے، اور ہر طاقت کے اچھے یا برے ہونے کا تعلق انسان کے استعمال، نیت اور فہم سے ہوتا ہے۔

اگر ہم اس طاقت کو مثبت سمت میں استعمال کریں تو یہ نہ صرف ہماری سیاسی فضا کو منظم کر سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک باوقار، مضبوط اور باشعور معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔ یہی حقیقی کامیابی ہے اور یہی ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی۔

بشکریہ اردو کالمز