79

گلگت بلتستان کو پاکستان سے الحاق مہنگا پڑ گیا

 درست کہتے ہیں جو چیز مفت میں مل جائے اُس کی قیمت نہیں رہتی گلگت بلتستان شاید اسی تلخ اصول کی سب سے زندہ مثال ہے یہ وہ خطہ ہے جس نے کسی عالمی طاقت کی منت نہیں کی کسی معاہدے کی بھیک نہیں مانگی بلکہ اپنے زورِ بازو پر ڈوگروں کے تسلط کو توڑا زنجیریں خود کاٹیں اور پھر بغیر کسی شرط بغیر کسی سودے کے پاکستان سے الحاق کر لیا نہ تخت مانگا  نہ تاج صرف انصاف مانگا تھا مگر تاریخ کا المیہ دیکھئے کہ اٹھتر برس گزرنے کے باوجود یہ وفا جرم بن گئی نہ آئینی شناخت نہ قومی اسمبلی میں آواز نہ سینیٹ میں کرسی بس وعدوں کی فائلیں کمیٹیوں کی گرد اور بیانات کا شور یوں لگتا ہے جیسے اس خطے کو سزا دی جا رہی ہو سزا اپنی آزادی خود حاصل کرنے کی سزا بغیر سوال کیے پاکستان کہنے کی
گلگت بلتستان نے الحاق کے وقت ریاست کو مضبوط کیا مگر ریاست نے وقت گزرنے کے ساتھ اسے کمزور فائل بنا دیا یہاں کے باسی آج بھی پاکستانی ہیں مگر کاغذی نہیں جذباتی تاریخی اور قربانیوں کے ساتھ پھر سوال یہ ہے کہ اگر یہ پاکستان ہے تو اس کے شہری کیوں ادھورے ہیں؟ اور اگر شہری ادھورے ہیں تو پاکستان مکمل کیسے ہے؟ یہ خطہ نہ متنازع تھا نہ مجبور اسے متنازع بنایا گیا اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھا گیا اور وفاداری کو کمزوری شاید اسی لیے ہر حکومت اسے یاد تب کرتی ہے جب الیکشن سر پر ہوں اور بھول تب جاتی ہے جب اقتدار ہاتھ آ جائے گلگت بلتستان کا الحاق مہنگا اس لیے ثابت ہوا کہ اس نے قیمت پہلے ہی ادا کر دی تھی خون کی جان کی، تاریخ کی مگر جو قیمت ریاست نے دینی تھی وہ آج تک ادا نہیں کی اور جب ریاستیں اپنے وفاداروں کا حساب چکانا بھول جائیں تو تاریخ وہ حساب سود سمیت وصول کرتی ہے۔
   اقتدار، مفاد اور دھوکہ گلگت بلتستان کوئی اتفاقیہ خطہ نہیں کوئی تحفے میں ملی زمین نہیں بلکہ ایک وہ خطہ ہے جس نے بندوق کی نالی کے سائے میں نہیں بلکہ اپنے زورِ بازو اپنے لہو اور اپنی اجتماعی غیرت سے آزادی حاصل کی ڈوگروں کے خلاف جنگ لڑی بیڑیاں توڑیں اور پھر کسی دباؤ کے بغیر پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ وفاداری کا تھا غلامی کا نہیں مگر افسوس اس وفاداری کی قیمت ستر برس سے وصول کی جا رہی ہے اٹھہتر برس بیت گئے نسلیں بدل گئیں موسم بدلے حکمران آئے گئے مگر گلگت بلتستان کی حیثیت نہیں بدلی آئینی دھند میں لپٹا ہوا یہ خطہ آج بھی پاکستان کے نقشے میں تو ہے مگر آئین کے صفحوں میں نہیں یہ شاید وہ واحد قوم ہے جسے آزادی کا جرم اتنا مہنگا پڑا کہ اسے مستقل انتظار کی سزا دے دی گئی کبھی صدارتی آرڈیننس کبھی اصلاحات پیکج کبھی عبوری سیٹ اپ ہر دور میں ایک نیا لولی پاپ ایک نئی گولی جو وقتی طور پر زبان کو میٹھا کر دے اور سوال کو سلا دے۔
وفاقی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان انہیں صرف دو موقعوں پر یاد آتا ہے ایک جب اقتدار کا ترازو ڈگمگا رہا ہو دوسرا، جب الیکشن سر پر ہوں تب اچانک یہ خطہ اسٹریٹجک بھی بن جاتا ہے، وفادار بھی قربانی دینے والا بھی اور پاکستان کی شہ رگ بھی وعدوں کی بارش ہونے لگتی ہے تقاریر میں حب الوطنی ٹپکنے لگتی ہے اور ہر لیڈر آئین حقوق اور ترقی کی مالا جپتا نظر آتا ہے۔ مگر الیکشن کے بعد پھر وہی خاموشی وہی سرد مہری وہی دیکھیں گے والا رویہ۔
اصل مسئلہ شاید وفاق کا نہیں ہماری اپنی اجتماعی نفسیات کا ہے کیونکہ دھوکہ وہی کھاتا ہے جو دھوکے پر آمادہ ہو ستر برس میں اگر ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہوا اگر ہر انتخاب کے بعد وہی مایوسی ملی۔تو پھر سوال یہ ہے کہ قصور وار کون ہے؟ وہ جو جھوٹ بولتا ہے یا وہ جو ہر بار یقین کر لیتا ہے یہ قوم کب یہ کہنے کی ہمت کرے گی کہ ووٹ کوئی خیرات نہیں یہ حساب مانگنے کا ذریعہ ہے کب کوئی عوامی اجتماع یہ اعلان کرے گا کہ پہلے وعدوں کا حساب دو پھر نعروں کی اجازت ملے گی یہاں المیہ مزید گہرا ہو جاتا ہے جب غلامی صرف سیاسی نہیں رہتی ذہنی بھی بن جاتی ہے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان وفاقی ٹھیکیداروں کی محبت میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ اپنے بچوں کے نام انہی سیاستدانوں پر رکھ رہے ہیں۔ شاید انہیں اندازہ نہیں کہ نام رکھنا صرف محبت کا اظہار نہیں ہوتا یہ ذہنی وابستگی کا اعلان بھی ہوتا ہے یہ غلام ابنِ غلام لوگ دراصل آنے والی نسلوں کو بھی یہی پیغام دے رہے ہیں کہ سوال نہ کرنا شک نہ کرنا بس یقین کرتے رہنا چاہے بار بار لُٹے کیوں نہ جاؤ ملک وعدوں پر نہیں بھول پر چلتا ہے یہاں حافظہ کمزور ہو تو حکمران مضبوط ہو جاتے ہیں گلگت بلتستان کا مسئلہ بھی یہی ہے یادداشت کی کمی سوال کی قلت اور احتجاج کی نایابی آوازیں ہیں مگر منتشر دکھ ہے مگر منظم نہیں غصہ ہے مگر سمت کے بغیر کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کو سزا اس بات کی دی جا رہی ہے کہ اس نے خود کو آزاد ثابت کر دیا تھا شاید اگر یہ خطہ بھی کسی فتح کا مال ہوتا کسی جنگی لوٹ کا حصہ بنتا تو آج اس کا مقدمہ زیادہ مضبوط ہوتا مگر یہاں تو قصور یہ ہے کہ لوگوں نے خود فیصلہ کیا خود آزادی لی اور پھر اعتماد کر بیٹھے سوال اب بھی وہی ہے یہ قوم کب جاگے گی؟ کب یہ سمجھے گی کہ آئینی حقوق خیرات میں نہیں ملتے چھینے جاتے ہیں سیاسی شعور اجتماعی موقف اور مسلسل دباؤ کے ذریعے جب تک گلگت بلتستان اپنے سوال کو ایک آواز ایک مطالبہ اور ایک تحریک نہیں بنائے گا تب تک وفاقی سیاستدان اسی طرح یہاں آتے رہیں گے وعدوں کی فصل بوتے رہیں گے اور اقتدار کی کٹائی کے بعد رخصت ہو جائیں گے۔
اور ہم؟
ہم شاید اگلے الیکشن تک پھر کسی نئے نعرے کے انتظار میں بیٹھے ہوں گے۔

 

بشکریہ اردو کالمز