19

سیاست پر جھاڑو پھر گیا؟

سید مردان علی شاہ پیر پگاڑا شریف سیاست دانوں کو ڈرانے کیلئے بیان دیا کرتے تھے کہ اب سیاست پر جھاڑو پھرنے کا وقت آگیا ہے مرحوم ومغفور پیر پگاڑاخود کو جی ایچ کیو کا نمائندہ کہا کرتے تھے۔ انکے بیانات مزاح ، طنز اور تلخ سچ کا مجموعہ ہوتے تھے ۔ آج کی صورتحال میں پیر صاحب کا فقرہ بہت یاد آتا ہے کیونکہ سیاست پر واقعی جھاڑو پھر گیا ہے۔ فی الحال سیاست مکمل طور پر غیر متعلق ہوگئی ہے سوسنار کی اور ایک لوہار کی، کے مصداق سفارت، سیاست،خدمت اوربیانیہ کی لمبی چوڑی کہانیوں کی بجائے صرف ایک ایکٹ،ایک قدم نے ساری سیاست کو ناکام کرکے رکھ دیا ہے۔ پیر پگاڑا مرحوم ومغفور تو مارشل لاسے ڈراتے تھے، حکومت کی چھٹی کا اشارہ دیتے تھے یا آنیوالے دنوں کے احتساب سے ڈراتے تھے مگر اب تو کچھ بھی ایسا نہیں ہوا مگر جھاڑو پھر گیا ہے ۔ یہ ستاروں کاسعد ہونا ہے ،معجزہ ہے، کسی کی دعا ہےیا بس تاریخ کا ایک نیا ورق۔

بہادری متحیر کردیتی ہے۔بہادری عقل سےکہیں آگے کی کہانی ہے ، بہادری کا صرف ایک ایکٹ، عقل وفہم کےسو واقعات پر بھاری ہوتا ہے ۔ اب بھی بہادری کے ایک غیرمعمولی اور حیرت ناک اظہار نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی سیاست کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا ہے، اسی لئے تو کہتےہیں کہ یہ دنیا بہادروں کی بنائی ہوئی ہے جبکہ بزدل اپنی مصلحتوں کی وجہ سے اسی دنیا میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بہادر جنگ اورسیاست کارخ بدل دیاکرتے ہیں۔ پاک بھارت جنگ میں غیر معمولی کامیابی کے پیچھے بھی حیران کن حد تک بہادری تھی اور آج بھی جنگ زدہ ایران میں بے خوفی سے جہاز کی سیڑھیاں اترنا عقل ماؤف کردیتاہے۔ گزشتہ چند دنوں کی سفارت اور پھر ایران کا دورہ، ملکی تاریخ میں ایک نئے باب کی شروعات ہے اسقدر بین الاقوامی قدرو قیمت، عقل وفہم سے بھرپور سفارتکاری امریکہ اورچین، ایران اور امریکہ اور پھر امریکہ اور چین کی آپس کی لڑائیوں کے درمیان خود کو متوازن رکھنا کمال تھا مگر ایران کے دورے نے تو دل کے تار ہلا دئیے ، وہ کر ڈالا جواس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ کل کیا ہوگا کسے معلوم کہ تاریخ کی گھاٹیوں میں بہت سنگلاخ موڑ آتے ہیں مگر آج کے دن تو وہ بازی لے گیا ہے باقی سب ہار گئے اور وہ اکیلا ہی فاتح ہے۔

دنیا کی حقیقی کہانی ہو یا افسانہ ، اسکے کردار بے شمار ہوتے ہیں مگر جو Seizing the moment یعنی لمحے کو ابد میں ڈھال دے وہی ہیرو ہوتا ہے۔ یونانی دیومالائی جنگ ٹروجن وارز میں اکیلیلس ہیکٹر کو مارکر سب سے بڑا بہادر ٹھہرا، سکندر اعظم فارس سے جنگ میں خود سپاہیوں کی قیادت کر کے فتح سے ہمکنار ہوا ، اشو کانےکالنگا کی جنگ بھی جیتی اور دنیا میں بدھ مت کے ذریعے امن کی جوت بھی جگائی۔ حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ نے بدر ،احد اور خیبر میں شجاعت سے جنگوں کا پانسہ پلٹ دیا، خالد بن ولیدرضی اللّٰہ عنہ، رچرڈشیر دل، صلاح الدین ایوبی اور طارق بن زیاد نے ذاتی بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ تاریخ آج بھی انکو یاد کرتی ہے۔بھٹو کا سلامتی کونسل کی قرارداد پھاڑنا اور پھر بہادری سے پھانسی کے پھندے کی طرف جانا نصف صدی کے بعد بھی بھلایا نہیں جاسکا۔تہران میں جہاز کی سیڑھیوں سے اترنا بھی تاریخ بدلنے والا ایسا ہی منظر تھا۔

ہرتہذیب کی اپنی فکر ، اپنے استعارے اور اپنی روایات ہوتی ہیں مسلم معاشروں میں ذاتی شجاعت کو ہمیشہ عقل پر فضیلت حاصل رہی ہے۔ مسلم معاشروں میں ہر ہاری ہوئی جنگ کی ذمہ داری صرف اور صرف سپہ سالار کی ہوتی ہے جبکہ جیتی ہوئی جنگ کا سارا کریڈٹ سب سے بہادر سپاہی کو ملتا رہا ہے۔ سقوط بغداد کے کردار عباسی بادشاہ اور ابن علقمی آج بھی ولن کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں اسی طرح سقوط ڈھاکہ کے موقع پر ٹائیگر نیازی کے ہتھیار ڈالنے کا داغ ابھی تک نہیں مٹا ، سقوط غرناطہ کے موقع پر بوعبداللّٰہ کے کردار کی کہانیاں آج بھی زوال کی مثال ہیں۔ سقوط 700سال سے ہمارا مقدر بنے ہوئے ہیں فتح، نصرت ، بہادری اور دنیا میں نام ہمارےلئے عنقا ہوگئے تھے اس لئے ہم تہران میں اترنے کو غیر معمولی بہادری اور نئی تاریخ سمجھ رہے ہیں۔

تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ معاشرے کے سب سے عقل مند افراد مفکر اور سیاستدان ہوتے ہیں جرنیل ، صحافی یا کوئی بھی دوسرا عقل میں ان کا ثانی نہیں ہوتا ۔ چرچل کی دانش ہو یا چارلس ڈی گال کی سمجھداری، دونوں نے برطانیہ اور فرانس کو اپنا اپنا عظیم مقام دلوایا ، قائد اعظم محمد علی جناح نے عقل سے پاکستان کا مقدمہ جیت کر ایک نیا ملک بنا کر دکھادیا۔بھٹو نے پاکستان کا پہلا متفقہ آئین دیا، نواز شریف نے معاشی اور انفراسٹرکچر کے تصور کو موٹرویز اور معاشی لبر لزم کے تصور سےہمکنار کیا، بے نظیر بھٹو نے جمہوریت اور انسانی حقوق پر عمل پیرا ہونے کی مثالیں پیش کیں، آصف زرداری نے18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اختیارات دیکر صوبائی حقوق نہ ہونے کی شکایت سرے سےہی دور کر دی،شہباز شریف نےہائبرڈنظام کو کامیابی سے چلا یا ،عمران خان نے خواب دئیے اور یوتھ کو سیاست میں سرگرم کیا۔ گویا سیاستدانوں نے پاکستان کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اب یہ کام ایک غیرسیاستدان نے کیا ہے نئی سمت ، نئی منزل اور نئےراستے ، سب کچھ تو طے ہوتا لگتا ہے مگر سیاست جو پہلے ہی کمزور تھی اس بڑےطوفان کو برداشت نہیں کرپائیگی اسی لئے تو سیاست پانی میں بہہ گئی ہے اورہر طرف جھاڑو پھرتا ہوا نظر آرہا ہے۔

کون ہیرو ہوااور کون زیرو؟ زیرو ہیرو کیسے بنے اور ہیروزیرو کیوں ہورہے ہیں۔ اہل سیاست پر نظر ڈالیں تو کہیںسے حوصلہ مندی اور امید کی خبرنہیں آرہی ،سب گھات لگائے خاموش بیٹھے ہیں۔ نواز شریف صرف رہنمائی تک میسر ہیں وگرنہ وہ تو بہت کم لوگوں سے ملتے ہیں عملی سیاست سے کٹ چکے ہیں، آصف زرداری صدر پاکستان ضرور ہیں مگر سنٹر اسٹیج نہ انکے پاس ہے اور نہ ہی بلاول بھٹو کے پاس۔ شہباز شریف کامیاب ہیں مگر ریاست کی لیڈر شپ اور کمان تو مکمل طور پر ان کے پاس نہیں ہے ۔ اڈیالہ جیل میں بیٹھا ماضی کا ہیرو جوبھی سوچ رہا ہے حالات اس قدرتیزی سے بدلے ہیں کہ اسکی گرفتاری اور جیل ،اب ملک کا بڑا مسئلہ نہیں رہا ۔ گویا حکومت اور اپوزیشن سب ملاکرسیاست پر جھاڑو پھرا ہوا ہے ۔

سب کچھ بجا مگر ملک سیاسی، مسئلے سیاسی، عوام سیاسی اور ہیرو غیر سیاسی؟ ایسے میں کام کیسے چلے گا؟ ملک کے مقتدر حلقے، اہل سیاست اقتدار وحزب مخالف کامیابی کے اس نادر لمحے کو برقرار رکھنے اور اسکا مقام قائم رکھنے کیلئے ضد اور انا کوخیر باد کہہ دیں، تحریک انصاف کے یو ٹیوبرزریاست اور اسکے ہیروزکو جس طرح نشانہ بنارہے تھے حالات وواقعات نے انکے پراپیگنڈے اور الزامات کو کھوکھلا کردیاہے۔ قدرت کے معجزات کہہ لیں یا واقعات کا ہمارے حق میں ہونا روزبروز جھوٹوں کو عریاں کررہا ہے، صاف نظر آنے لگا ہے کہ ملک کا محافظ کون ہے اور مخالف کون؟ کون ہر وقت ریاست کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہے اور کون اسے استحکام دے رہا ہے ؟ کون سفارت کی دنیا میں ناکام ہوکر یک وتنہا ہوگیا تھا، کون خود ہی اپنی تعریفیں کرتا تھا اور کون ہے جسکی دنیا بھر میں تعریفیں ہورہی ہیں کس کے زمانے میں پاکستان کی قدروقیمت اورمرتبہ گرنا شروع ہوا۔ ڈیفالٹ کی باتیں ہوئیں اور کون ہے جس نے دنیا بھر میں پاکستان کو اعلیٰ ترین مقام دلایا۔ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے دشمن مگر دونوں پاکستان کے مداح۔ تہران میںجہاز کی سیڑھیاں اترنا بہت کچھ تبدیل کرگیا ہے سیاست بھی اور آئندہ کے اطوارِ سیاست بھی۔اگر ستاروں نے چال نہ بدلی تو پھر اقتدار، سیاست، حکومت اور قدرومنزلت سب اسی کے نام ہے۔

بشکریہ اردو کالمز