حالات کاروناتوہم ہمیشہ روتے ہیں لیکن اس وقت جوحالات بنے ہوئے ہیں ان پرصرف رونانہیں بلکہ دھاڑیں مارکرچیخنااورچلانابھی بنتاہے۔ملک اس وقت جن سنگین معاشی مسائل سے دوچار ہے اس نے ہرخاص وعام کی نیندیں اڑاکررکھ دی ہیں۔ ملک میں مہنگائی، غربت اور بیروزگاری اس وقت عروج پرہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، روزگار کے مواقع کی کمی اور عوام کی قوت خرید میں نمایاں کمی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کے لئے اپنے گھروں کا خرچ چلانا، بچوں کی تعلیم کا انتظام کرنا اور بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔مہنگائی ایک ایسا معاشی مسئلہ ہے جو معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے لیکن اس کے سب سے زیادہ منفی اثرات غریب اور متوسط طبقے پر پڑتے ہیں۔جب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھتی ہیں تو لوگوں کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے اوران کے لئے روزمرہ زندگی گزارناپھر مشکل ہو جاتا ہے۔آٹا، چینی، گھی، سبزیاں، بجلی، گیس اور پیٹرول جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔اس ملک کاآج مزدور،محنت کش اور تنخواہ دار طبقہ اپنی محدود آمدنی میں بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے سے قاصر دکھائی دے رہاہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے لئے تو حالات اس سے بھی پریشان کن ہو چکے ہیں۔ہمارے مہربانوں کوتومہنگائی،غربت اوربیروزگاری جیسی آفتوں کاپتہ نہیں لیکن ان مصیبتوں کاان غریبوں سے پوچھیں جن کے گھروں کے چولہے بھی اب ان زمینی آفات کی وجہ سے نہیں جل رہے۔غربت میں اضافے نے بہت سے معاشرتی مسائل کو جنم دیا ہے۔ایک طرف اگر بہت سے خاندان اپنے بچوں کو بہتر تعلیم فراہم کرنے سے محروم ہیں تودوسری طرف بہت سے غریبوں کی طبی سہولیات تک رسائی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ غربت صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے یہاں یہ اس وقت ایک سماجی چیلنج بھی بن چکا ہے جو قوم کی مجموعی ترقی کی رفتار کوبہت برے طریقے سے متاثر کررہا ہے۔ ملک میں بڑھتی بیروزگاری نے نوجوان نسل کے مستقبل کوبھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔آج اس ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی مناسب ملازمتوں کے حصول کے لئے گلی گلی اور دربدر پھر رہے ہیں۔ملک میں بڑی صنعتوں کی بندش، سرمایہ کاری میں کمی اور معاشی عدم استحکام نے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے عمل کوجس برے طریقے سے متاثر کیاہے وہ ہم سب کے لئے پریشان کن ہے۔کیونکہ اس ملک میں لاکھوں نہیں توہزاروں خاندانوں کاروزگارانہی صنعتوں سے وابستہ تھا۔خودسوچئے ایک فیکٹری اورایک کارخانہ بندہونے سے کتنے خاندان بیروزگاراورکتنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔صنعتوں کی بندش سے ہی جب روزگارکے مواقع کم ہوگئے ہیں تونوجوان نسل میں مایوسی اورناامیدی پھیلنے لگی ہیں۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی نہ صرف انفرادی زندگیوں بلکہ قومی ترقی کے لئے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ اقوام کی ترقی اورخوشحالی میں نوجوان نسل کااہم کرداراورہاتھ ہوتاہے۔نوجوان اگرروزگارنہ ملنے کی وجہ سے مایوس ہوں گے توپھروہ ملک وقوم کی ترقی میں کیسے کرداراداکریں گے۔ایسے حالات میں جب نئے مالی سال کا بجٹ پیش ہونے والا ہے۔مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے سائے تلے شب وروزگزارنے والے غریب عوام امید بھری نگاہوں سے حکمرانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ غریبوں کی خواہش ہے کہ آنے والا بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہ ہو بلکہ حقیقی معنوں میں عوامی مشکلات کے حل کا ذریعہ ہو۔ عوام توقع رکھتے ہیں کہ حکومت بجٹ میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ ضروری اشیاء پر ٹیکسوں میں کمی لائے گی اور متوسط و غریب طبقے کو ریلیف فراہم کیاجائے گا۔خداکرے کی عوام کی یہ خواہش پوری ہو۔اس کے ساتھ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے صنعتوں، چھوٹے کاروباروں اور زراعت کے شعبے کو خصوصی مراعات دی جانی چاہئیں۔ نوجوانوں کے لئے ہنر مندی کے پروگرام، آسان قرضوں کی فراہمی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے بیروزگاری میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے سماجی تحفظ کے منصوبوں کو مزیدمؤثر اور شفاف بنایا جانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔حکومت کی کامیابی کا انحصار صرف بجٹ پیش کرنے پر نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ پر بھی ہے۔ اگر بجٹ میں عوامی فلاح کو ترجیح دی گئی۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ٹھوس پالیسیاں اختیار کی گئیں اور کمزور طبقات کو حقیقی ریلیف فراہم کیا گیا تو یہ نہ صرف عوام کے اعتماد میں اضافہ کرے گا بلکہ اس سے ملک کی معاشی ترقی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔آج پورا ملک اس امید کے ساتھ آنے والے بجٹ کا منتظر ہے کہ یہ بجٹ عوام کش نہیں ہوگانہ ہی اس میں ٹیکسوں کی بھرمارہوگی بلکہ یہ بجٹ عام آدمی کی مشکلات اضافہ لانے کی بجائے کمی لائے گا۔ مہنگائی کا بوجھ ہلکا کرے گا۔ روزگار کے نئے دروازے کھولے گا اور عوام کو ایک بہتر اور خوشحال مستقبل کی نوید دے گا۔آئی ایم ایف جیسوں کے اشاروں پربہت بارغریب عوام کاخون چوساجاچکاہے،اب عوام میں مزیدایسے تجربات برداشت کرنے کی ہمت اورسکت نہیں۔لوگ بھوک سے بلک نہیں بلکہ مررہے ہیں۔بجٹ میں اگرحکومت نے ایسی ویسی کوئی چیزشامل کرلی جس کابوجھ ڈائریکٹ عوام پرپڑے تویہ بھوک سے بلکنے والے عوام پرخودکش حملے سے کم نہیں ہوگا۔اس لئے خدارااس بجٹ کوخالص عوام دوست بنایاجائے۔عوام نے وزیراعظم شہبازشریف سے بہت سی امیدیں اورتوقعات وابستہ کی ہوئی ہیں۔میاں نوازشریف جب وزیراعظم ہوتے تھے تووہ ایسے مواقع پرہمیشہ نہ صرف غریب عوام کویادرکھتے بلکہ ان کادل سے خیال بھی رکھتے تھے۔یہ اب وزیراعظم شہبازشریف کاامتحان ہے کہ وہ بجٹ میں غریب عوام کوکہاں تک یادرکھتے ہیں۔ویسے وزیراعظم صاحب کوایک بات یادرکھنی چاہئیے کہ بجٹ میں ملنے والے مرہم بھی عوام یادرکھتے ہیں اورزخم بھی۔یہ تحفے عوام پھرکبھی بھولتے نہیں۔
8