70

نکیل

کچھ جانور اپنے مالک کی عادات اور لمس سے اس قدر مانوس ہوجاتے ہیں کہ بغیر کسی لگام یا نکیل کے اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں اگر وہ بیٹھنے کو کہے تو بیٹھ جاتے ہیں اور اگر وہ چل پڑے تو اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتے ہیں لیکن کچھ جانور اپنے نئے مالک سے چونکہ مانوس نہیں ہوتے اس لئے ان کو نکیل ڈال دی جاتی ہے تاکہ وہ جس طرف نکیل کو کھینچے اسی طرف کو چل پڑتے ہیں۔ سمجھ لیجئے کہ طالبان اب ایک ایسے اونٹ کی مانند ہیں جن کی ملکیت اب بھارت کے ہاتھ میں جا چکی ہے لیکن طالبان چونکہ ان سے مانونس نہیں تھے ا سلئے اونٹ کی طرح انہوں نے اپنی نکیل بھارت کے ہاتھ میں دے دی ہے اور اپنی نکیل دوسرے کے ہاتھ میں پکڑانے کے بعد اب طالبان کی اپنی مرضی نہیں رہی اس لئے اب ان کی اپنی منزل بھی نہیں رہی وہ بھارت کی جھولی میں گرنے کے بعد ان کے اشارے سے اسی کی مرضی سے بولتے اور لڑتے جھگڑتے ہیں ۔ آر ایس ایس کا بھارت جس سمت انہیں جانے کو کہتا ہے اسی سمت چل پڑتے ہیں اس لئے یہ کہنا کہ طالبان سے ایک مرتبہ پھر دوہا قطر میں امن مذاکرات کر لئے جائیں وقت کے ضیاع کے علا وہ اور کچھ نہیں؟۔ پاکستان کا قطر میں طالبان قیا دت سے پھر سے مذاکرات شروع کرنے کی بات بے معنی ہے کیونکہ طالبان نے تو اب ہر بات اس بھارت سے پوچھ کر کرنی ہے جو پاکستان کا جانی دشمن ہے جسے پاکستان کی سالمیت اورعزت ایک آنکھ نہیں بھاتی اس سے تو اچھا ہے کہ کابل سے بہتر تعلقات بنانے کیلئے طالبان کی بجائے ان کے آقا بھارت سے براہ راست بات چیت کر لی جائے؟۔ اس سے پہلے بھی تو قطر اور ترکی کے تعاون سے دوحا میں طالبان اور پاکستان کے مذاکرات ہو چکے ہیں ان کا کیا فائدہ ہوا سب کے سامنے ہے ان مذاکرات کے بعد پر جھاڑ کر اٹھنے والی کابل کی عبوری حکومت نئی دہلی کے پیچھے دم ہلاتی ہوئی چل پڑی کیونکہ طالبان نے اپنی آزادی اور خود مختاری کی نکیل اب بھارت کے ہاتھوں میں تھما دی ہے۔ زلمے خلیل زاد کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کو طالبان کے ساتھ دوحا طرز کے مذاکرات پھر سے شروع کردینے چاہئیں ایک ایسے بے خبر شخص کی مثال کے مانند ہے جو کئی سال بعد نیند سے جاگا ہو جسے شائد اندازہ ہی نہیں کہ اب پاکستانی قوم، ریاست اور تمام متعلقہ ادارے دہشت گردوں کے خلاف بنیان المرصوص کی صورت ہم خیال ہو چکے ہیں ۔ پاکستان کا اس سے پہلے اچھے اور برے طالبان، مذہبی انتہا پسندی اور اپنے بیگانے والا جو بھی Stance رہا اس سے مکمل لا تعلقی اختیار کی جا چکی ہے اب ہر وہ دہشت گرد جو پاکستان کے خلاف ہو گا پاکستانی عوام اس کی املاک اور اس کی فورسز کے خلاف حملے کرے گا پاکستان کی حدود کو کسی غیر ملکی یا بین القوامی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے نقصان پہنچائے گا اس کا مقابلہ ایک ملک دشمن کی حیثیت سے کیا جائے گا۔ا سے اسی نظر سے دیکھا جائے گا جیسے کسی دشمن کو دیکھا جاتا ہے اب پاکستان چونکہ خود کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کی نہ تو سپورٹ کرتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے جہادیوں کی آبیاری کر رہا ہے اسی لئے سب دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اب کسی بھی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کاجواب اپنی پوری طاقت سے دے رہا ہے۔ پاکستان کی ڈکشنری میں دہشت گردوں کی مالی سپورٹ کرنے والوں ان کی لاجسٹک مدد کرنے والوں کسی قسم کا نرم گوشہ نہیں رہا ابھی حال ہی میں بلوچستان سے انتہائی اہم اور خطرناک دہشت گرد کی گرفتاری اور کراچی میں دہشت گردی کی ایک خوفناک کوشش کی سرکوبی اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کا اب اپنے ملک اور اس کی سالمیت کے سوا کوئی بھی فیورٹ نہیں ۔ طالبان کی خاطر پاکستان نے اپنے جسم پر وہ زخم کھائے ہیں جن کی شدت ابھی تک اسے تڑپا رہی ہے۔ طالبان قیادت پر مشتمل کابل کی عبوری حکومت کو شرم آنی چاہئے کہ وہ اس ہندوتوا کے ہاتھ میں اپنی نکیل دے چکے ہیں جو اپنی مساجد میں اللہ کے حضور سجدوں میں گرے ہوئے مسلمانوں کو ٹھڈے مار کرجشن مناتی ہے۔کابل کی عبوری حکومت اس قدر بے خبر ہو چکی ہے کہ اسے یہ بھی کوئی بتانے والا نہیں کہ جس بھارت کے ہاتھ میں تم نے اپنی نکیل تھمائی ہوئی ہے وہ تو دنیا بھر میں اپنی حرکات کی وجہ سے اکیلا ہوتا جا رہا ہے اس کے ارد گرد بنگلہ دیش، مالدیپ، بھوٹان، برما اور سری لنکا اس کی ایک نہیں سنتے۔ ترکی کے افغانستان کے ساتھ تاریخی اور نسلی تعلقات کا مضبوط رشتہ ہے اور نیٹو میں ترکی چونکہ واحدمسلم رکن ہے اس لئے9/11 کے بعد امریکہ نے جب ملا عمر کی افغان حکومت کے خلاف افغانستان میں امریکی فوج کے علا وہ نیٹو کی فوج بھی بھیجی تو نیٹو میں شامل ترک فوجی بھی افغانستان پہنچے لیکن ترک فوج نے اس لڑائی میں طالبان کے خلاف حصہ نہیں لیا اور سب جانتے ہیں کہ ترکی کے طالبان کے ساتھ انٹیلیجنس سطح کے رابطے بھی ہیں اور اس وقت کابل ہوئی اڈے کی حفاظت بھی نیٹو میں شامل ترک فوج کے حصے میں رہی لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ بھارتی خواہشات کی تکمیل میں کابل کی عبوری حکومت دوحا امن مذاکرات میں جنگ بندی سمیت دوسرے تمام ایشوز پر ضامن بننے والے ترکی کے تمام احسانات بھول کر پاکستان کے خلاف پہلے سے بھی زیا دہ شدت سے دہشت گردی کو پروان چڑھانا شروع ہو گئی۔ جنگ بندی معاہدے کی ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بلوچستان اور پاکستان کے قبائلی علا قوں سمیت بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان کرک میں طالبان کی کابل حکومت کے پارٹنر ٹی ٹی پی نے دہشت گردی کا طوفان کھڑا کر دیا طالبان کی اس بد عہدی کے نتیجے میں اپنی فوج کے بیٹوں پر مشتمل افسروں اور جوانوں کی لاشیں اٹھاتے دیکھ کر پاکستانی قوم نے فیصلہ دے دیا ہے کہ’’ اللہ اور اس کے رسو ل محمد مصطفیٰ کو گواہ بنا کر وعدہ کرکے دھوکہ دینے والوں پر اب مزید اعتمار نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ !!

بشکریہ ڈان ںیوز