اس جنگ سے امریکہ اور امارات سمیت دوسرے خلیجی ممالک نے کیا کھویا اور کیا پایا یہ جلد ہی سب کے سامنے آنے والا ہے لیکن دوسری جانب یہ سوال بھی سامنے ہے کہ اس جنگ سے ایران، چین، روس اور پاکستان نے کیا پایا اور کیاکھویا؟۔ اگر یہ کہوں کہ ایران کی امریکہ ، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ کے انتہائی ناقابل یقین نتائج ہو سکتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ بات سمجھ میں نہ آئے۔ سٹریٹیجک صوت حال کے ایک عام طالب علم کی حیثیت سے اندازہ لگا سکتا ہوں کہ اس جنگ میں تین قوتیں اپنی دیرینہ خواہشات پوری کر سکتی ہیں ۔ پاکستان اس جنگ میں کیا حاصل کرنے جا رہا ہے اس کی تفصیل اپنے اس مضمون کے آخر میں بیان کروں گا ۔ وہ قوتیں جو امریکہ کی شکست تو نہیں بلکہ پسپائی سے فائدہ اٹھانے جا رہی ہیں ان میں ایک قوت چین ہے جس کا رخ اور مشن اب تائیوان کی طرف ہو گا اور امریکہ اب اس کی راہ میں وہ رکاوٹیں اور مشکلات حائل نہیں کر سکے گا جو وہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پیدا کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے بعد بات ہو گی روس کی اور جلد ہی آپ دیکھیں گے صدر پیوٹن مشرقی یوکرین میں اپنے قدم مستقل طور پر جمانے کی کوشش کریں گے اور یقیناًََ اس میں انہیں کامیابی حاصل ہو گی ان ممکنہ مثالوں سے یہ سمجھ لیجئے کہ روس اور چین کے وہ حصے جو امریکہ اور نیٹو سمیت اس کے اتحادیوں نے ان دو ممالک سے زبردستی الگ کر رکھے تھے۔ اب ان کی جھولیوں میں اس طرح ڈال دیئے جائیں گے کہ ظاہری طو رپر سخت شور شرابا کیا جائے گا اور ایسے لگے گا کہ امریکہ یہ کبھی بھی برداشت نہیں کرے گا لیکن یہ سب ایک ایسے سکرپٹ کا حصہ ہو گا جسے دکھانا لازمی ہے۔ اب بات کی جائے گی ایران کی کہ اسے جنگ میں اتنی بڑی قربانیاں دینے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے ا س کیلئے یہ سمجھ لیجئے کہ ایران نے دنیا بھر میں اپنی ہمت شجاعت اور استقامت کا لوہا منو ا لیا ہے۔ اسی طرح جیسے بھارت کے ساتھ مئی کی چار روزہ جنگ کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کو ایسے دیکھا جانے لگا تھا جیسے دولہا دیکھنے کیلئے لوگ امڈ آتے ہیں ۔ پاکستان کی عزت اور تکریم بھی دولہا کی طرح ہی کی جا نے لگی تھی۔ تائیوان چین کا حصہ تھا اور مشرقی یوکرین روس کا تو اگر کل کو ایران یہ کہے کہ بحرین تو ازل سے ہی ایران کا حصہ تھا اور وہ بحرین کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھتے ہوئے اگر بحرین پر قبضہ کر نے کی کوشش کرتا ہے تو کیا امریکہ پھر سے اس کی راہ میں آئے گا ؟ پہلے کی طرح روس چین اور شمالی کوریا ایران کی ہر طرح کی مدد کرنے کیلئے ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے کیونکہ آخر انہوں نے بھی تو یوکرین اور تائیوان کا پھل کھایا ہو گا۔ اب اگر ایران بحرین کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے اپنی فوجیں روانہ کرتا ہے تواس کی راہ میں سب سے پہلے کھڑا ہونے والا ملک سعودی عرب ہو گا اور ایسے میں جو ملک سعودی عرب کی مدد کیلئے سب سے پہلے آگے بڑھے گا وہ مصر ہو گا۔ بحرین اور ایران کا یہ ممکنہ یدھ اگرشروع ہوتا ہے تو دیکھ لیجئے گا کہ بحرین کی ساٹھ فیصد سے زیا دہ آبادی وہی کردار اد ا کرے گی جو1971 میں بنگالیوں نے مشرقی پاکستان میں کیا تھا۔ایران اگر بحرین کو اپنے قبضے میں لینے کیلئے اپنی فوجیں بھیجتا ہے تو یہ وہ مرحلہ ہو گا جب کسی بہت بڑی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے اور یہ وہ نازک موقع ہو گا۔ اس منظر نامے میں اگر پاکستان نے ایران کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو چین اور روس کی ناراضگی بہت سے معاملات بگاڑ سکتی ہے اور بات پھر وہیں پر آجائے گی جب ایران آبنائے ہرمز کو پہلے سے بھی زیا دہ شدت اور تکنیک سے بند کرے گا اور ایسے میں پاکستان کو وہ سہولت جو اسے اس حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں ملتی رہی ہے اس سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور یہ صورت حال پاکستان کی معیشت کیلئے انتہائی خطرناک ہو گی ۔ بات چل نکلتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ کل تک کویت عراق کا حصہ تھا ممکن ہے کہ عراق بھی اپنا کھویا ہوا وجود ہتھیانے کی کوشش کرے؟۔ ایران اور اسرائیل کی اس جنگ میں جس دوست ملک کا سب سے زیا دہ نقصان ہوا وہ متحدہ عرب امارات ہے جہاں پاکستانیوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن جیسے کہ ہمارے ہاں مثال ہے کہ کسی بہت ہی نا اہل اور کرپٹ رشوت خور افسر کو بالکل ہی کھڈے لائن لگانے کیلئے اس کی ٹرانسفر سمندر پر لگا دی گئی کہ تم نے اب کنارے کی جانب آنے والی سمندری لہروں کی گنتی کر نی ہے اوراس افسر نے اپنی تعیناتی کے اگلے ہی روزسمندر میں چلنے والے جہازوں اور کشتیوں کو یہ کہہ کر روکنا شروع کر دیا کہ اس سے کناروں کی جانب آنے والی لہریں متاثر ہوتی ہیں اور پھر اس نے ان جہازوں کو گذرنے کی اجا زت دینے کیلئے پہلے سے بھی زیا دہ مال بٹورنا شروع کر دیتا ہے اور سننے میں آ رہا ہے کہ کچھ اسی قسم کا کام پاکستان کرنے جا رہا ہے کیونکہ جو بیرون ملک سے جو خبریں مل رہی ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے پاکستان کی فارم 47 کی انتہائی گھاگ اور تیز حکومت نے امارات میں کام کرنے والے ہر پاکستانی کو سوالنامے پر مشتمل ایک فارم مہیا کرنا شروع کر دیا ہے جس کو مکمل کرنے کے بعد دس ہزار روپے کا ایک ڈرافٹ یا نقد رقم OPF کے نام جمع کرانا ہو گی اب اندازہ کیجئے کہ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطا بق متحدہ عرب ا مارات میں اٹھارہ لاکھ اسی ہزار کے قریب اور سیز پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ آپ 18 لاکھ ہی سمجھ لیجئے اس طرح امارات میں اور سیز پاکستانیوں سے ڈیڑھ ارب کے قریب روپیہ اکٹھا ہو جائے اور پھر یہ سلسلہ کویت، سعودیہ، مسقط، عمان، بحرین اور دوسرے عرب ممالک کی طرف بڑحایا جا سکتا ہے اور پھر اندازہ کر لیجئے کہ پاکستان میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سب سے لاڈلی موجودہ حکومت کواس جنگ کے نتیجے میں گھر بیٹھے ہی کتنے کھرب روپے اکٹھے ہو سکتے ہیں؟۔۔!!
92