235

تحریک انصاف کو 9مئی کا بوجھ اتارنا ہو گا

تازہ خبر یہ ہے کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے پشاور میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق ویڈیو فوٹیج کی تصدیقی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم ویڈیوز میں موجود افراد میں شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کیا تحریک انصاف رک کر غور کرے گی کہ اس کی اب تک کی حکمت عملی نے اسے کیا دیا؟تحریک انصاف کو 9 مئی کے گرداب سے نکلنا ہو گا ۔ اس بوجھ سے نجات کے بغیر بات آگے بڑھتی نظر نہیںآ رہی۔ یہ بات پہلے دن سے عیاں ہے کہ 9 مئی کو جو ہوا ، یہ سیاست نہیں تھی۔ یہ معاملہ سنگین تھا۔ تحریک انصاف کی قیادت کو اگلے ہی دن سپریم کورٹ میں چیف جسٹس نے خود موقع دیا کہ وہ اس کی مذمت کر دے ۔ عمران خان یہ کام وہیں کر دیتے تو شاید الجھی ڈور مزید نہ الجھتی۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ حیلہ سازی کی گئی اور پوسٹ ٹروتھ کی روایتی قوت کا سہارا لیا گیا کہ ہم تو تھے ہی نہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ معاملہ اتنا آسان نہ تھا کہ یوں نبٹ جاتا۔ یہ بات تحریک انصاف کی قیادت نہیں سمجھ سکی۔ اس نے یہ بوجھ ابھی تک کمر پر لادا ہوا ہے ۔ نتیجہ یہ کہ قومی سیاست گرداب میں پھنسی پڑی ہے۔ کوئی بھی وقوعہ اچانک نہیں ہوتا۔ اس کی ایک چین ہوتی ہے، ایک تسلسل ہوتا ہے۔کڑی سے کڑی جڑی ہوتی ہے۔ نو مئی میں بھی ایساہی ہوا۔ کچھ وہ تھے جو باقاعدہ ڈنڈے اٹھا کرشہداء کی یادگاروں کو توڑتے اور جلاتے رہے اور کچھ وہ تھے جو اس سب کے منصوبہ ساز تھے۔ مختلف شہروں میں اس احتجاج نما بلوے کی نوعیت کاا یک جیسا ہونا قابل غور ہے۔ یہ اضطراری رد عمل نہیں تھا۔ یہ طے شدہ منصوبہ تھا، جس کا آخری مرحلہ نو مئی کو ظہور پذیر ہوا۔ اس سے پہلے نفرت آمیز بیانیہ کھڑا کیا گیا۔ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کو اس سطح پر لے جایا گیا جس کے نتیجے میں ایسے واقعات کا ہونا ایک فطری بات ہوتی ہے۔ اس سارے واقعے میں سب کا کردار ہے۔ کچھ نے زہریلا بیانیہ دیا۔ کچھ نے مظاہرین کی قیادت کی۔ کچھ نے مظاہرین کو خاص مقام تک لے جانے میںسہولت کاری کی۔ کچھ سوشل میڈیا پر آگ لگاتے رہے، کچھ بڑی بڑی گاڑیوں میں قیادت کا فریضہ انجام دیتے اور وکٹری کے نشانات بناتے رہے۔ اس سے بری الذمہ ہونا ممکن نہیں ۔ اس روز جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔ جلسوں جلوسوں کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔ انہیں اشتعال دلانا آسان کام ہوتاہے۔ یہاں عقل کی نہیں جذبات کی حکمرانی ہوتی ہے۔ پھر یہ بھی لازم نہیں ہوتا کہ جلوس میں شامل ہر ایک شخص کی نیت ایک جیسی مجرمانہ ہو اور سب اس نیت سے واقف ہوں کہ ہم کرنے کیا جا رہے ہیں۔ ایسے میں زیادہ اور حقیقی ذمہ داری اس کی ہوتی ہے جو فیصلہ ساز ہو۔ یہاں فیصلہ سازوں نے آگ لگائی ، کچھ ساتھ تھے ، کچھ رواں تبصرے فرما رہے تھے۔ یہ فتنہ اور فساد تھا جو اس روز ہم نے دیکھا۔ یہ سیاست نہیںتھی۔ شہدا کی یادگاروں کی توہین کی گئی ، کیا کچھ نہیں کیا گیا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر کسی کا خیال تھا کہ قانون مسکرائے گا اور گڈ ٹو سی یو کہہ کر لپٹ جائے گا تو یہ خام خیالی تھی۔ اس کی واضح مذمت اور معافی ضروری تھی۔ میں نے 6 ستمبر کو بھی یہ لکھا کہ موقع بھی ہے ، رسم دنیا بھی ہے اور دستور بھی ، تحریک انصاف اس سب پر معافی مانگے اور شہدا کی یادگاروں پر پھول رکھ آئے۔ معذرت کر لے۔ معافی مانگ لے۔ اس سے قد کم نہیں ہو گا ، بڑا ہو گا۔ حکومت سے ناراضی ہو سکتی ہے ، اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے بھی گلہ ہو سکتا ہے لیکن شہدا تو سب کے سانجھے تھے۔ تحریک انصاف یہ کام اب تک نہیں کر سکی۔ اس کا خیال تھا عدلیہ میں فیلڈنگ سیٹ ہو چکی ہے ، کئی سالوں تک انصاف کے جھرنوں میں شہد جیسسی مٹھاس بہتی رہے گی اور اس کے وکیل رہنما اسے بچا کر لے جائیں گے۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ وکیل رہنما تو پارٹی کا سہارا لے کر پارلیمان میں جا پہنچے ہیںلیکن پارٹی وہیں کی وہیں کھڑی ہے ۔ اب تازہ فرانزک رپورٹ کے مطابق پشاور پولیس کی درخواست پر لیبارٹری نے ویڈیوز کا تفصیلی آڈیو اور ویڈیو تجزیہ کیا اور سہیل آفریدی صاحب پھنستے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ رپورٹ 16 ویڈیو کلپس پر مبنی ہے جو پشاور کے تھانہ شرقی کی جانب سے یو ایس بی کے ذریعے فراہم کی گئیں۔خبروں کے مطابق ـ: ’’لیبارٹری نے ویڈیوز کا فریم بہ فریم جائزہ لیا۔ کئی ویڈیوز میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے آثار نہیں ملے، تاہم بعض کلپس میں افراد اور تحریر شامل کیے جانے کے شواہد پائے گئے۔ دو ویڈیوز، جن میں سہیل آفریدی اور عرفان سلیم نظر آتے ہیں، میں کلپس کو جوڑنے کے ثبوت بھی ملے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سہیل آفریدی، عرفان سلیم، کامران بنگش اور تیمور جھگڑا کی پروفائل تصاویر کا ویڈیوز میں موجود افراد سے موازنہ کیا گیا۔ چاروں صورتوں میں تصدیق ہوئی کہ ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد وہی ہیں جن کی پروفائل تصاویر موجود ہیں۔یہ فرانزک جانچ 19 دسمبر سے 23 دسمبر 2025 کے درمیان کی گئی اور تجزیہ صرف ویڈیو مواد تک محدود رکھا گیا۔اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان پر حملے کے مقدمے میں پولیس کو فرانزک رپورٹ حاصل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ادھر پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ آنے کے بعد پشاور پولیس نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ملزم نامزد کرنے پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کے مطابق تفتیشی افسر اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے آئی جی خیبر پختونخوا کو بریفنگ دی ہے اور پولیس کی قانونی شاخ سے قانونی رائے بھی لی جا رہی ہے۔‘‘ خطے میں اضطراب ہے۔ ایران کی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے ہاں مگر سیاسی تنائو بڑھتا جا رہا ہے اور قومی سیاست ذات اور انا سے اوپر نہیں اٹھ رہی۔ تحریک انصاف کی ہر بات کی کوئی توجیح ہو سکتی ہے ، سیاسی امور میں اس کی کچھ شکایات جائز بھی ہو سکتی ہیں لیکن 9 مئی کو جو ہوا اس کی کوئی توجیح اور کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا ۔یہ سیاست نہیں تھی یہ فتنہ گری تھی۔

بشکریہ ڈان ںیوز