ہم پہلے بھی یہ بات کہتے اورلکھتے رہے ہیں اوراب بھی کہہ رہے ہیں کہ کوئی انسان،پارٹی اور گروہ ریاست سے زیادہ طاقت ورنہیں۔ریاست اگرڈنڈاسیدھااورآنکھیں سرخ کرلے توکچے والے کیا۔؟پھرپکے والے بھی ریاست کے سامنے کچھ نہیں۔مونچھوں کوتاؤدے کرقوم اورریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والے کچے کے ڈاکوکہیں یہ سمجھ رہے ہیں کہ ریاست سے یہ زیادہ طاقت ور اورپہلوان ہیں لیکن انہیں یہ نہیں پتہ کہ ریاست جب اپنی کرنے پر پرآئے توپھرکچے والے کیا۔؟ان کے باپ اوردادابھی ایک منٹ کے لئے ریاست کے سامنے ٹھہرنہیں سکتے۔شمالی وزیرستان سے لیکر بلوچستان تک وہ جوملک وقوم کے خلاف اسلحہ اٹھاکر خودکوریاست سے بالااورطاقت ورسمجھتے تھے آپ کوپتہ ہے ریاست نے جب ڈنڈاان کی طرف سیدھاکیاتوپھریہی وزیرستان اوربلوچستان ان کے قبرستان بنے۔مٹھی بھرعناصرکے خلاف کوئی بھی ملک کمزورنہیں ہوتابلکہ ہرحکومت کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے کچے جیسے ڈاکوؤں کومونچھوں کوتاؤدینے کاتھوڑاساٹائم کیاملتاہے کہ وہ خودکوپھنے خان سمجھنے لگتے ہیں۔اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ریاست کی مجبوری کوکبھی کمزوری نہ سمجھاجائے۔کچے والوں نے ریاست کی خاموشی کوبھی کمزوری کادرجہ دے دیاتھا۔ملک کاوہ کونساصوبہ،کونساشہراورکونساعلاقہ ہے جہاں کے غریب اورمجبورشہریوں اورباسیوں کوکچے والوں نے اغواء کرکے زنجیروں میں نہیں جکڑا۔؟کچے میں بندوق کی نوک اورموت کے سائے تلے دہائیاں دے کرزندگی کی بھیک مانگنے والے غریبوں کی چیخ وپکاراورآنکھوں سے گرنے والے بڑے بڑے آنسوؤں کودیکھ کرایک ہی بات سمجھ آتی کہ ظلم کی رات چاہے کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہوآخرایک دن سحرہوناہی ہے۔آج ہویاکل کچے سے آخراس گندکاصفایاہوناہے۔آج اوراب اگرہوجائے تواس سے بڑاکارنامہ اورکوئی نہیں کیونکہ کچے والوں نے نہ صرف کراچی،سندھ اورپنجاب بلکہ پوری قوم کی ناک میں دم کررکھاہے۔ملک کاکوئی بھی غریب اورمجبورشخص ان ظالموں سے محفوظ نہیں۔ان کے اعمال سیاہ کی فہرست بہت لمبی ہے۔اب تک انہوں نے درجنوں وسینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں غریبوں کوجی بھرکرلوٹاہوگا۔کچے کے علاقے کوانہوں نے علاقہ غیربناکراپنی حکمرانی اوربدمعاشی قائم کی ہوئی ہے۔جوبھی کوئی غریب اورمجبوران کے ہاتھ لگتاہے تویہ اس کوزنجیروں میں جکڑکرنہ صرف اس کابلکہ اس کے پورے خاندان کاجیناحرام کردیتے ہیں۔ان کی ڈیمانڈکروڑوں سے کم نہیں ہوتی۔وہ لوگ جودووقت کی روٹی کے لئے ترستے اورتڑپتے ہیں ان ظالموں نے ان سے بھی کروڑوں کاتاوان وصول کیاہے۔کہاں کچے کاعلاقہ اورایریااورکہاں ہماراآبائی ضلع بٹگرام۔کچے کے ان بدمعاشوں سے ہمارے بٹگرام کے لوگ بھی محفوظ نہیں رہے۔محض چندسال میں انہوں نے بٹگرام کے کئی نوجوانوں کونہ صرف کئی مہینوں تک زنجیروں میں جکڑکے رکھابلکہ ان کے رشتہ داروں اورگھروالوں سے بھاری تاوان بھی وصول کی۔سندھ حکومت کی طرف سے کچے والوں کے خلاف آپریشن یہ ایک ایساتاریخی اقدام ہے جسے پوری قوم ہمیشہ یادرکھے گی۔ملک وقوم کے لئے شر،نقصان اورپریشانی کاباعث بننے والی ہرشئے کوجڑسے اکھاڑنانہ صرف لازم بلکہ یہ فرض بھی ہوجاتاہے۔عوام کے گردن کاٹنے والے دہشتگرداورانتہاء پسندہوں یاپھراسلحہ کی نوک پراغواء برائے تاوان کے ذریعے عوام کی جیبیں کاٹنے اورٹٹولنے والے کچے کے ڈاکو۔یہ سب ملک،قوم،انسانیت اورامن کے دشمن ہیں۔امن وانسانیت کے ایسے دشمنوں کوٹھکانے لگانایہ وقت کی اہم ترین ضرورت کے ساتھ ایک بڑاثواب بھی ہے۔اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ کچے کوگندسے پاک کرنے کے لئے جس جہادکاآغازکیاگیاہے اسے انجام تک پہنچاکراب دم لیناچاہئیے۔یہ ملک ہے کوئی بناناریپلک نہیں کہ یہاں جس کاجی چاہے وہ لمبی لمبی مونچھیں رکھ کراسلحہ کی نوک پربدمعاشی،غنڈہ گردی اوردہشتگردی کرتے پھریں۔کچے کے ان بدقماشوں اوربدمعاشوں کے ہاتھوں اب تک نہ صرف سینکڑوں وہزاروں شہریوں کااغواء اورٹارچرہواہے بلکہ ان کی بے رحم گولیوں اورراکٹ لانچروں سے قوم کے درجنوں محافظ بھی جام شہادت نوش کرگئے۔کچے کے یہ ڈاکوملک وقوم کاجانی ومالی لحاظ سے اب تک بھاری نقصان کرچکے ہیں۔یہ ریاست کے ماتھے پروہ بدنماداغ ہے جسے پوری ریاستی طاقت کے ذریعے روندنے،دھونے اورصفحہ ہستی سے مٹانے کے سواہمارے پاس دوسراکوئی راستہ اورچارہ نہیں۔ملک کواس گندسے صاف کرنے کے لئے سندھ حکومت کوسنجیدگی وثابت قدمی کامظاہرہ کرنے کے ساتھ پنجاب حکومت کوبھی اس جہاداورکارخیرمیں بھرپورکرداراداکرناچاہئیے کیونکہ کچے والوں کے کالے کرتوتوں سے پنجاب کاایک بڑاحصہ بھی کافی متاثرہے۔ان ظالموں کے ہاتھوں پنجاب پولیس کے کئی بہادرجوان شہیدہوچکے ہیں۔وزیرداخلہ سندھ اگراس تاریخی اقدام کاآغازاورملک کواس ناسورسے پاک کرنے کاارادہ کرچکے ہیں تواب اس نیک وعظیم مقصدکوانجام تک پہنچانے سے پہلے ہرگزنہیں روکناچاہئیے۔ملک کوایسے ظالموں کے ناپاک وجوداورسائے سے پاک کرنے کے ہرمشن میں پوری قوم پہلے بھی ریاست کے ساتھ تھی اورقوم اب بھی ریاست کے ساتھ ہے۔قوم چاہتی ہے کہ کچے والوں کااب کی بارپکے سے بھی پکاعلاج ہوتاکہ روزگاروکاروبارکے سلسلے میں کچے کی طرف سفرکرنے والے بھی آرام وسکون سے زندگی گزارسکیں۔اب کی باربھی اگرکچے کوان ظالموں سے پاک وصاف نہیں کیاگیاتوپھران کی بدمعاشی اورغنڈہ گردی پہلے سے بھی بڑھ جائے گی کیونکہ دم کٹاسانپ سالم سانپ سے زیادہ خطرناک ہوتاہے۔ان پراگراب ہاتھ ڈالاہی گیاہے توپھران کے سرکچل کرہی کچے کوان سے صاف کیاجائے تاکہ بدمعاشی اورغنڈہ گردی کایہ باب ہمیشہ کے لئے بندہو
162