46

جب ’’خبر دینا‘‘ ہی ’’جرم‘‘ ٹھہرے!

جب ’’خبر‘‘ دینا ہی ’’جرم‘‘ ٹھہرے اور خبر دینے والا ’’ملزم‘‘ ٹھہرایا جائے تو کیسی صحافت اور کیسا آزادی اظہار، یہاں تو کبھی کسی صحافی کی ہاتھ بندھی لاش مل جاتی ہے، تو کبھی کسی سمندر کنارے اسے مار کر پھینک دیا جاتا ہے۔ یہاںصحافی خبر کیا دے، اسے خود ہی خبر بنادیا جاتا ہے اور اگر مارنا مقصود ہو تو اس کا پیچھا بیرون ملک تک کیا جاتا ہے۔ بعض معاملات میں اس کی خبر اس طرح لی جاتی ہے کہ صرف اس کو ہی نہیں اس کے اہل خانہ کو بھی نہیں بخشا جاتا، کبھی اس کی بیوہ نشانہ بنتی ہے، تو کبھی اس کیس سے جڑے کردار، جو لوگ یہاں کی صحافت کی تاریخ سے واقف ہیں انہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ کون سے صحافی تھے، بس اتنا ہی کافی ہے کہ یہ سب ’’خبر کی لگن‘‘ کے مسافر تھے جو ’’تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘ تاہم یہ لگن ختم نہیں ہوئی، کالے میڈیا قوانین بھی لائے گئے۔ ’’ریگولیشن‘‘ کے نام پر کبھی پریس آرڈیننس کی شکل میں، کبھی پیمرا کی شکل میں تو کبھی پیکا کی شکل میں اور اب ایک نئی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جارہی ہے۔ بات بہت سادہ سی ہے جب جب بھی سرکار انفارمیشن کو آزادانہ طریقہ سے میڈیا میں نہیں آنے دے گی تو وہ دراصل راستہ کھولتی ہے ’’ڈس انفارمیشن‘‘ اور ’’فیک نیوز‘‘ کا۔

اپنے زمانے کے ایک نامور مدیر جناب اے ٹی چوہدری نے کہا تھا۔ ’’صحافت کا مقصد ہر پرفیکٹ حکومت کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ آپ پرفیکٹ نہیں ہیں۔‘‘ خبر تو ہوتی ہی وہ ہے جو حکومت کو پسند نہیں آتی، باقی تو اشتہار ہوتا ہے، پبلسٹی ہوتی ہے۔ اب جو کام مدیر اور نیوز روم کا ہوتا ہے وہ ’’سرکار‘‘ اور اس کے ماتحتوں نے سنبھال لیا ہے، پہلے ’’پریس ایڈوائس‘‘ ہوتی تھی، اب ’’ہدایت‘‘ آتی ہے، یعنی ایک طرح کا ’’آرڈر آف دی ڈے‘‘ کبھی خبروں کو رکوانے کیلئےقوانین کا سہارا لیا جاتا ہے تو کبھی ہراساں کرنے کیلئے مقدمات قائم کردیے جاتے ہیں۔ ویسے تو مجموعی طور پر ہماری صحافت ’’بیانات‘‘ پر مبنی ہوتی ہے، مگر اس میں بھی ’’ہدایت‘‘ یہ ہوتی ہے کہ کس کا بیان جاسکتا ہے، کس کا نہیں، کس بیان کو کس طرح پیش کیا جاسکتا ہے۔

مگر صحافت تو ہوتی ہی خطرات سے کھیلنے اور لوگوں تک حقائق پہنچانے کا نام، اب اس پاداش میں کبھی آپ کو حیات اللہ بنا دیا جاتا ہے تو کبھی سلیم شہزاد یا ارشد شریف ۔جو کسی خبر کا کھوج لگانے اپنے گھر سے نکلے اور کبھی ریاست، کبھی غیر ریاستی عناصر کی بھینٹ چڑھ گئے۔ خبر کو روکا تو جاسکتا ہے، مگر خبر رکتی نہیں ہے۔ تمام تر سنسر شپ، پریس ایڈوائس اور کالے قوانین کے باوجود کیا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی 16 دسمبر 1971ء والی خبر روکی جاسکی، چاہے اس کو اخبارات کو مختصر ترین ہیڈ لائن تک ہی کیوں نا محدود کردیا گیا ہو۔ کیا بھٹو کی پھانسی کی خبر روکی جاسکی یا 17 اگست 1988ء کی جنرل ضیاء کے حادثہ کی یا بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد 10 اپریل 1986ء کی یا 12 اکتوبر 1999ءکی ، ہر اس خبر کو روکنے کیلئے مختلف حربے استعمال ہوئے، لفافے سے لے کر اشتہارات کے روکے جانے تک، مگر خبر کو نہ روک سکے۔ سرکار کے حربے قانونی بھی ہوتے ہیں اور غیر قانونی بھی، البتہ اگر ’’خبر‘‘ کسی دہشت گرد گروپ کے حوالے سے ہو تو وہاں ہدایت نامہ، دھمکی اور پھر گولی کی صورت میں ہی آتا ہے، کبھی سرکار صحافی کو لاپتہ کردیتی ہے تو کبھی کوئی دہشت گرد گروپ۔کے پی سے کراچی تک اور پنجاب سے بلوچستان تک ایسے واقعات بھرے پڑے ہیں، مگر پچھلے چند سال میں دیہی سندھ میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے آمرانہ دور اور سویلین ادوار میں زیادہ فرق نظر نہیں آتا، البتہ یہ ضرور ہے کہ سب سے زیادہ صحافی 9/11 کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دور میں مارے گئے، مگر جو صورتحال پاکستانی میڈیا کو 2016ء کے بعد ریگولیشن کے نام پر کبھی پیکا۔ 2016ء میڈیا اتھارٹی، 2018ء اور اب میڈیا پر دبائو بڑھانے کی خاطر پیکا میں مزید ترامیم کرکے اور صحافیوں کے خلاف کرمنل کیس کا سلسلہ جو شروع کیا گیا ہے۔ اس سے آپ نے صرف انفارمیشن کو ہی ختم کیا ہے، جس سے فائدہ سوشل میڈیا کا ہواکہ ڈس انفارمیشن کا طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے جب صحافت سے واقفیت ہی نہ ہو اور آپ کو وہ فرائض انجام دینے پڑ جائیں کہ صرف حکومت مخالف مواد روکنا مقصد ٹھہرے تو وہی ہوتا ہے جو اس وقت میڈیا میں ہورہا ہے، بعض معاملات میں ’’خبر‘‘ آپ کو ’’قبر‘‘ تک لے جاتی ہے، مگر ’’خبر‘‘ کی لگن پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ہزاروں صحافی مارے گئے، عراق سے لے کر غزہ، کوئی گولی کا تو کوئی گولے کا یا کوئی میزائل کا نشانہ بنا، دنیا میں سوشل میڈیا جہاں بے انتہا انفارمیشن دینے کا ذریعہ بنا وہیں ڈس انفارمیشن، فیک نیوز کا طوفان بھی کھڑا ہوگیا۔ آج جہاں موبائل فون اور ٹک ٹاک والی صحافت فروغ پا رہی ہو وہاں اس نے آپ کو اور آپ کی نقل و حرکت کو زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ آپ کو ٹریس بھی آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور لاپتہ بھی، 2016ء میں پیکا کے تحت کئی صحافیوں پر مقدمات بنے، پہلے معاملہ FIA دیکھتی تھی اور اب قومی سطح پر ایک نئی ایجنسی نیشنل سائبر کرائسز انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) بنادی گئی ہے۔ اب صحافی ’’خبر‘‘ کی تلاش کرے یا خود خبر بن جائے۔ ماضی میں ٹی وی چینل کے حوالے سے پیمرا بات کو نوٹس تک رکھنا چاہتا تھا۔ ایک بات طے ہے کہ وہ صحافی جو اپنا کام پروفیشنل انداز میں کرتے رہے ہیں وہ تمام تر دبائو اورہراساں کرنے کی پالیسی کے باوجود اس لگن کو جاری رکھتے ہیں۔ اب خبر ہے کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک نئی باڈی تشکیل دی گئی ہے، اس کا مقصد بھی بادی النظر میں سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی رکھا گیا ہے۔ سرکاری افسر، وزیر یا مشیر کو پیکا کے تحت شاید ہی کبھی ’’نوٹس‘‘ ملا ہو، حالانکہ حال ہی میں پنجاب کی ایک وزیر کی خبر کا بڑا تنازع کھڑا ہوا۔

’’خبر‘‘ ہی اگر میڈیا سے غائب کردی جائے تو باقی مواد تو اشتہار ہی لگتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب نہ ویسے مدیر رہے اور نہ ویسے صحافی، مگر آج بھی ’’خبر‘‘ وہی ہوتی ہے جس کو حکومت اور سرکار نہیں چاہتی۔ آج قلم کو ہتھکڑی لگادی گئی ہے، زباں پر پہرے ہیں، کبھی مائیک میوٹ کرکے آواز بند کردی جاتی ہے تو کبھی صحافی کوبند کردیا جاتا ہے۔ کبھی اڈیالہ جیل سے یہ ’’خبر‘‘ نکالنا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو کس حال میں رکھا ہے، مشکل کردیا گیا تھا تو آج بھی ’’خبر‘‘ اڈیالہ جیل سے باہر نہیں آنے دی جاتی، ’’خبر‘‘ کی آنکھ عمران خان کی آنکھ کا پتہ چلا نہیں پا رہی کہ ’’خبر‘‘ کیا ہے۔

بشکریہ اردو کالمز