امریکہ اسرائیل کا عزم بالجزم ہے۔ گریٹر اسرائیل ۔دریائے نیل سے دریائے فرات تک اور یہ دونوں اس ہدف کے حصول کیلئے تن من دھن کی بازی لگا رہے ہیں ۔میں اسے اکھنڈ اسرائیل کہنا چاہوں گا کیونکہ انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا بھی بنیادی نعرہ اکھنڈ بھارت ہے۔ اسرائیل اور انڈیامسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ ان سے ووٹ کا حق چھیننا چاہتے ہیں۔ دونوں اپنے اپنے مذہب کے حوالے سے اس تو سیع پسندی کو اپنا دھرم سمجھتے ہیں ۔اسی تناظر میں اسرائیلی فوج لبنان کے علاقوں پر قبضہ کرتی جا رہی ہے۔ عالمی میڈیا اس پر کوئی شور نہیں مچارہا ۔ اگر غور کیا جائے تو ایران کے ایٹمی پروگرام کا بہانہ بنا کر امریکہ اور اسرائیل ایران پر بلا جواز جو قیامت ڈھا رہے ہیں وہ بھی اسی لیے کہ اکھنڈ اسرائیل کے قیام میں ایران ہی سب سےمستحکم رکاوٹ ہے۔ ایران کے خلاف جن ذیلی جہادی تنظیموں کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ۔چاہے وہ شام میں ہوں، عراق میں یا لبنان میں۔ انکے ذریعے بھی ایران نے اسرائیل کی توسیع پسندی میں مزاحمت کی ہوئی ہے۔ اسرائیل کے اکثر حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ ان کی الہامی کتابوں تورات اور انجیل میں بھی اسرائیل کا رقبہ مصر سے لے کر عراق میں دریائے فرات تک ہے۔ اس لیے اسرائیل ویسٹ بینک خان یونس مشرقی یروشلم غزہ پر اپنا غلبہ چاہتا ہے، لبنان میں بھی نہرللیطانیLitany riverتک اسکا دعویٰ ہے جسے قاسمیہ دریا بھی کہا جاتا ہے۔ ادھر شام میں گولان کی پہاڑیوں پر وہ قبضہ کر ہی چکا ہے ۔1948 سے اب تک اسرائیل نے عرب ملکوں کے ساتھ جو جنگیں چھیڑی ہیں ان کا سبب بھی وسیع تر اکھنڈ اسرائیل کا قیام رہا ہے۔ اردن بھی اسکےنقشے میں شامل ہے۔ ہر چند کہ شاہ عبداللہ کہتے رہیں... اردن اردن ہے۔مصر میں وادی سینا پر بھی اسرائیل کا مذہبی دعویٰ ہے ۔نیتن یاہو اس مشن کو اپنی زندگی اور حکمرانی میں ہی مکمل کرنا چاہتے ہیں ۔میری آپ سے درخواست ہوگی کہ آپ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور عسکری صورتحال کو اکھنڈ اسرائیل کے تناظر میں ہی دیکھیں ۔ 1948 میں اسکے قیام اور اس سے پیشتر 1923 سے لے کر 1947 تک کی یہودو نصاریٰ کی منصوبہ بندی کو بھی ملاحظہ کریں۔ خلافت عثمانیہ میں اس خطے کا نقشہ کیا تھا۔ برطانوی سلطنت نے عثمانیہ حکومت کو شکست دے کر ملکوں کی نئی حد بندی بھی اسی مشن کے تحت کی۔ فلسطینی جاگیرداروں سے بڑے چھوٹے رقبے 1923 سے 1928 کے درمیان یہودیوں نے خریدے، تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں عرب 68 فیصد تھے اور یہودی 31 فیصد۔ کس طرح سے یہ نسلی اکثریت تبدیل کی گئی۔ بالکل اسی طرح کشمیر میں بھی ہو رہا ہے یورپ جو اب جمہوریت،انسانی حقوق کا علمبردار ہے اور اب بوجوہ امریکہ کی ہاں میںہاں ملانے کو تیار نہیں۔اس کا طرز حکمرانی بھی دیکھیے زَر اگلنے والے ملکوں پر سپین نے فوج کشی کی۔ پرتگال کاالگ طریقہ تھا۔ برطانیہ پہلے تجارت کرتا تھا پھر قبضہ ۔جرمنی، ہالینڈقزاقی کرتے تھے۔ فرانس نے افریقی ملکوں بالخصوص مسلمان ریاستوں میں بہت قتل عام کیا اور اب وہ افریقی ممالک کے حقوق کیلئےسربراہی اجلاس کروا رہا ہے ۔اس سارے منظر نامے میں مسلمان ملک آزاد اور خود مختار ہونے کے باوجود انیسویں بیسویں صدی کی طرح ہی محکومی پر آمادہ نظرآتے ہیں۔ غیر مسلم تو مسلمانوں کو اجتماعی طور پر کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ اپنی بیکراں دولت ،معدنی ،افرادی وسائل کے ہوتے ہوئے متحد نہیں ۔ کہیں قبائلی برتری ہے اور کہیں لسانی۔ اسرائیل کا قیام تو یورپ بالخصوص برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا رسوخ برقرار رکھنے کیلئےکیا تھا مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ دنیا کا سورما بن گیا ۔ اب فیصلے وہ کرتا ہے اور اسکی ترجیح یہ ہے کہ اپنی سرزمین کو گولا بارود سے ، جنگوں سے محفوظ رکھے ۔اس لیے اس نے دنیا بھر کے حساس مقامات پر ،سمندروں میں اپنے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں انکے ذریعے وہ آس پاس کے علاقوں کو اپنا تابعدار رکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھی اسکی مداخلت 1944 کے بعد سے بڑھ گئی ہے ۔اسکے سفارتخانے ہر ملک میں اپنے غلام اور ایجنٹ تلاش کرتے ہیں ۔1948کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ دیکھ لیں کہ واشنگٹن نے ہزاروں میل دور آ کر سیٹو، سینٹو اور نیٹو جیسے کتنے ادارے بنائے۔ پورا یورپ اس کا تابعدار ہو کر رہ گیا ۔سرزمینِ فلسطین،فلسطینیوں کی تھی۔ کس طرح باقاعدہ منظم منصوبہ بندی سے عربوں کو بے دخل کیا گیا۔ فلسطینی عربوں میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے ذہین اور تحقیق کے عادی ہیں۔ امریکہ یورپ کی یونیورسٹیوں میں جدید سائنسی علوم پڑھا رہے ہیں۔ دولت مندعرب فلسطینیوں سے اسی طرح خوفزدہ رہتے ہیں۔ جیسے سندھ کے وڈیرے ،پنجاب کے چوہدری، کے پی کے کے خان، بلوچستان کے سردار اپنے اپنے پڑھے لکھے نوجوانوں سے سہمے رہتے ہیں۔ اسرائیل نے اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل کیلئے ویسٹ بینک میں ،غزہ میں یہودیوں کو آباد کیا ۔یہ آباد کار غزہ میں ویسٹ بینک میں غریب مظلوم فلسطینیوں کو ہلاک کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیلی سیاستدان ڈینیلا ویزز برملا کہتے ہیں۔ انجیل کے مطابق گریٹر اسرائیل کی سرحدیں فرات سے نیل تک ہیں۔ امریکی سفیر مائیک ہوکابی نے فروری 2026 میں کہا Fine If they took it all بہت اچھا ہو اگر یہ ان سب پر قبضہ کر لے۔امریکہ نے مشرقی یروشلم میںاپنا سفارتخانہ قائم کرکے اس شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے میں مدد کی۔ غزہ میں گزشتہ دو سال میں 72 ہزار فلسطینیوں کی نسل کشی کی گئی اور ادھر ویسٹ بینک اور مشرقی یروشلم میں اتنے ہی 70 ہزار آباد کار بسائے گئے ۔امریکہ نے اسرائیل کی مدد کرنے کیلئے اس کے آس پاس کے مسلمان ملکوں کو ابراہیم ایکارڈ کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا ۔متحدہ عرب امارات، بحرین ،مراکش،سوڈان نے حکم کی تعمیل کی۔ امریکہ کی طرف سے سعودی عرب پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ اس سے پہلے مصر کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد اسرائیل کو تسلیم کر چکا تھا۔ اوآئی سی نے گریٹر اسرائیل کی بیانات میں تومذمت کی لیکن باقاعدہ کوئی منظم مہم نہ چلائی۔ اقوام متحدہ گریٹر اسرائیل کا نام لے کر تو مخالفت نہیں کرتی لیکن اسرائیل کی توسیع پسندی اور غیر قانونی قبضوں پر تنقید کرتی رہی ہے۔ مگر اسرائیل پر کوئی پابندیاں نہیں لگائیں۔ لبنان میں بھی آج کل اقوام متحدہ کی ایمبولینسیںزخمیوں اور لاشوں کو تو اٹھا رہی ہیں۔ مگر کہیں امن فورس اسرائیلی فوج کی مزاحمت نہیں کر رہی۔اکھنڈ بھارت کا دعویدار بھارت اسرائیل سے سب سے زیادہ ہتھیاروں کے معاہدے کرتا ہے۔ بھارت نے پاکستان پر حملے میں گزشتہ سال اسرائیلی ڈرون استعمال کیے تھے۔ حاصل کالم یہ ہے کہ ہمیں اکھنڈ بھارت اور اکھنڈ اسرائیل دونوں کی کھل کر مزاحمت کرنی چاہیے اور مسلمان ملکوں کو اس کیلئے متحد کرنا چاہئے۔ فلسطینی روزانہ قتل ہو رہے ہیں لبنان میں ہر روز مزید رقبے پر اسرائیل کا قبضہ ہو رہا ہے مگر اوآئی سی حرکت میں نہیں آرہی!
9