71

ایران جنگ کے پاکستان پر اثرات

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر جاری حملوں کے اثرات سے پاکستان کس حد تک متاثر ہوسکتا ہے اور افغانستان کی طرف سے دہشت گردی، جوابی حملوں کے بعد پاکستان کو لاحق خطرات کم کرنے کیلئے پاکستان کیا حکمت عملی اختیار کرے؟ یہ دو سوالات اس وقت بہت اہم ہیں۔ تازہ صورت حال کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جو مارچ کے آخر میں شدت اختیار کرچکا ہے جبکہ ایران نے جوابی حملے کیے ہیں جن میں خلیجی ممالک اور اسرائیل شامل ہیں۔ یہ تنازع ایک علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

پاکستان براہ راست اس جنگ میں شامل نہیں لیکن معاشی، حفاظتی اور سفارتی سطح پر کافی حد تک متاثر ہو رہا ہے۔ یہ اثر ’’دور کی جنگ قریبی دھچکا‘‘ کی صورت میں ہے۔ اس جنگ سے پاکستان فوری طور پہ براہ راست معاشی دبائو کی صورت میں متاثر ہوا ہے اور پٹرول اورڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ اب تیل کی قیمتیں آسمان کوچھو رہی ہیں کیونکہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور پاکستان کا تقریباً اسی فیصد تیل یہیں سے درآمد ہوتا ہے۔ اس سے مہنگائی مزید بڑھے گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی مسلسل مزید بڑھیں گی جس کے نتیجے میں توانائی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ جنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا تو عرب ممالک سےپاکستانیوںکی بھیجی جانے والی رقوم متاثر ہوسکتی ہیں ۔ اگر جنگ مزید پھیلی تو اس سے سی پیک، چین اور ایران تعاون بھی متاثر ہوسکتا ہے۔پاکستان اس صورتحال میں غیر جانبدارہے اور تنازع کے سفارتی حل کی کوششیں کررہا ہے۔ دوسری جانب اگرچہ اسرائیل اور بھارت ایک ساتھ کھڑے ہیں لیکن ایران نے اپنے دوست ملک بھارت کو آبنائے ہرمز سے تیل کی فراہمی کی جو سہولت دے رکھی تھی وہ بھی بند کرکے مشروط کردی ہے، پاکستان کے ایک جہاز کو اجازت دی گئی وہ بھی اس وجہ سے کہ اس نے یوآن میں ادائی کی تھی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان براہ راست فوجی خطرے سے محفوظ ہے کیونکہ جنگ مشرق وسطیٰ تک محدود ہے لیکن معاشی دھچکا شدید ہوسکتا ہے۔ چند ہفتوں میں تیل کی قیمت مزید تیس سے چالیس فیصد بڑھ سکتی ہے اگر جنگ لمبی جاری رہی تو جی ڈی پی پر منفی دو فیصد اثر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان ابھی ’’واک ان ایگ شیل‘‘ (انڈوں پر چلنے والی) محتاط پالیسی اپنا رہا ہے۔

افغانستان کی طرف سے دہشت گردی اور جوابی حملوں کے بعد خطرات کم کرنے کی حکمت عملی پر بھی نظر ثانی ضروری ہے۔ فروری 2026کے آخر سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھلی جنگ کا اعلان ہوچکا ہے۔ پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ننگر ہار، خوست، پکتیکا پناہ گاہوں پر اور یہاں تک کہ کابل اور قندھار پر بھی فضائی حملے کیے ہیں جنکے نتیجے میں رسول پنڈی میں اہم مقامات کو درجنوں ڈرونز سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ طالبان نے جوابی کارروائیاں کی ہیں لیکن اب تک یہ سرحدی جھڑپیں اور فضائی حملوں تک محدود ہیں۔ ٹی ٹی پی نے نئی ساخت، نئے زونز ’’ایئر فورس‘‘ یونٹ کا اعلان کیا ہے جو خطرات بڑھا رہا ہے۔

پاکستان کی اب تک کی موجودہ حکمت عملی جوابی اور دفاعی رہی ہے۔فوجی طور پر سخت جواب، فضائی حملے، سرحد پر فوجی آپریشنز، ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو ٹارگٹ کرنے جیسی یہ حکمت عملی مؤثر ہے لیکن مکمل حل نہیں کیونکہ افغانستان میں دہشت گردوں کی آمدورفت کو طالبان روک نہیں رہے۔ ان خطرات کو کم کرنے کیلئے پاکستان کو سہ جہتی (فوجی، سفارتی اور اندرونی) حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ مکمل جنگ سے بچا جاسکے اور دہشت گردی کم ہو۔ جہاں تک عربوں کا معاملہ ہے تو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض جملے میزائلوں سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک مختصر سا اعتراف بھی دہائیوں کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے۔ حالیہ دنوں فیصل بن فرحان آل سعود کے اس بیان نے عرب دنیا کے سیاسی ایوانوں میں ایسی ہی ہلچل پیدا کرکے رکھ دی ہے۔ یہ محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس تاریخ کا آئینہ ہے جس میں دیکھ کر عرب حکمرانوں نے اپنی سلامتی کی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈال کر خود کو مطمئن رکھنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

عرب دنیا کی جدید سیاسی تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے طاقت کے حقیقی منبع کو سمجھنے میں ہمیشہ دیر کی۔ کبھی برطانوی چھتری کے نیچے اطمینان تلاش کیا اور جب وہ چھتری ہٹ گئی تو امیدوں کا مرکز ریاست ہائے متحدہ امریکہ بن گیا۔ عرب حکمرانوں کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ امریکی فوجی چھتری ان کی سر زمین کی محافظ ہوگی ۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں کبھی کسی کی مستقل محافظ نہیں ہوتیں، وہ صرف اپنے مفادات کی محافظ ہوتی ہیں اور اسی طرح امریکہ نے اپنے مفادات کے پیش نظر عرب دنیا کو بری طرح سے استعمال کیا اور اب جب جان پر بن آئی تو خلیجی ریاستوں سے اپنے فوجی اڈے خالی کرکے اپنی فوج واپس بلالی اور عرب دنیا کو تنہا چھوڑ دیا ، اب دیکھنایہ ہے کہ آگے چل کر یہ جنگ کیا رخ اختیار کرتی ہے اور اس میں پاکستان کہاں کھڑا نظر آرہا ہوگا ۔دعاہے کہ پاکستان کی تنازع کے حل کیلئے کی جانے والی سفارتی کوششیں کامیاب ہوجائیںاور رب کریم اپنے خاص فضل سے وطن عزیز کی حفاظت فرمائیں آمین۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز