مظہر لاشاری پاکستان بنانے میں یقینامسلم لیگ کا مرکز ی کردار شامل تھا۔ قائد اعظم نے کانگریس کو خیر باد کہنے کے بعد علامہ اقبال کے مشورہ پر جب؎ مسلم لیگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تو مسلم لیگ صحیح معنوں میں مسلمانوں کی نمائندہ بن گئی۔ نواب وقار الملک، نواب بہادر یار جنگ، خلیق الزمان، نواب محسن المالک، نواب افتخار ممدوٹ،میاں بشیر احمد جیسے نا بالغہ روزگار شخصیات نے مسلم لیگ ہی کے پلٹ فارم سے مسلمانوں کا مقدمہ بڑی ذہانت کے ساتھ لڑا اور آخر کار گاندھی اور پنڈت نہرو جیسے سیاست کے بڑے شہہ سواروں کو شکست دے کر ایک علیٰحدہ مملکت خداداد پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن افسوس کہ پاکستان کی خالق جماعت پاکستان بن جانے کے بعد زیادہ دیر تک اپنی افادایت قائم نہ رکھ سکی۔ یہ بھی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ سر زمین ڈیرہ غازی خان جو شروع سے بلوچ سرداروں اور تمن داروں کے نرغے میں رہی جبکہ 1849ء میں جب انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر پنجاب پر بھی قبضہ کر لیا تو ڈیرا جات کے بھی تمام علاقے جو کوہ سلیمان سے شروع ہو کر دریائے سندھ قدیم ڈیرہ غازی خان تک چلے جاتے تھے اْن پر بھی قبضہ کرنا شروع کر دیا انگریزوں کے شاطر دماغ نے اْس وقت بلوچوں کے بڑے سرداروں کو اکٹھا کیا جن میں مزاری، لغاری، کھوسہ، دریشک، گورچانی، قیصرانی، بزدار اور لْنڈ وغیرہ شامل تھے اِن کو بھاری جاگیریں اور تمن داریاں دے کر ڈیرا جات پر قبضہ کر لیا سنڈے مین ڈیر ہ غازی خان کے پہلے ڈپٹی کمشنر بنائے گئے جس نے بلوچوں کی پسماندگی کو ختم کر نے کے لیے بہت کام کیا۔ انگریز برصغیر پر قابض رہا لیکن آخر کار اگست 1947ء میں اْسے یہاں سے جانا پڑا ڈیرہ غازی خان غیور بلوچوں کی دھرتی ہے انہی بلوچوں کے ایک بڑے تمن قیصرانی میں سے ایک ایسی شخصیت میدان سیاست میں آئی جسے ڈاکٹر احمد یار خان قیصرانی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا تونسہ کی سر زمین سے تعلق تھا تونسہ شریف جو حضرت خواجہ پیر پٹھان کے روحانی فیض کا مرکز ہے۔ وہیں سے 1944ء میں اپنی سیاسی سر گرمیوں کا آغاز کیا پہلے پہل حضرت امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری، مولانا ابوا لکلام آزاد حضرت حسین احمد مدنی سے متاثر تھے اور انہی دنوں تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بعد ازاں سر سید احمد خان، علامہ اقبال اور قائد اعظم کے نظریات سے متاثر ہونے کے بعد مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور پھر اْن کو ضلع ڈیرہ غازی خان میں مسلم لیگ کا پہلا ضلعی صدر بنایا گیا۔ انہی ایام سے لے کر اگست 1947ء تک ڈاکٹر احمد یار خان نے تحریک پاکستان کی کامیابی کے لیے دن رات کام کیا اور پھر بعد میں ڈیرہ غازی خان شفٹ ہو گئے اور ڈیرہ غازی خان شہر میں پاکستان کی کامیابی کے لیے جلسے جلوس شروع کر دیئے۔ مسلم لیگ کی کامیابی اور مسلمانوں کا جذبہ دیکھ کر نواب سردار جمال خان لغاری نے یونسیٹ پارٹی کو چھوڑ کر قائد اعظم سے ملاقات کر کے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی جبکہ جمال خان لغاری سے قبل عطاء محمد خان بزدار نے 1946ء کے الیکشن میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کر کے پنجاب اسمبلی کی نشست حاصل کی تھی عطاء محمد بزدار کی کامیابی میں ڈاکٹر احمد یار خان کی زبردست محنت شامل تھی۔ تحریک پاکستان اب اپنے عروج پر تھی ہر روز پورے ملک کی طرح ڈیرہ غازی خان میں بھی جلسے جلوس نکالے جایا کرتے تھے۔ اِن جلوسوں کی قیادت زیادہ تر ڈاکٹر احمد یار خان ہی کیا کرتے تھے جبکہ اْن کے ساتھ ماما غلام حیدر پہلوان پاکستان کا جھنڈا اْٹھائے ہوا کرتے تھے غلام حیدر ایک غریب حلوائی اور پہلوان تھے لیکن احمد یار خان نے اْن کے اندر جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا ایک مرتبہ جب ایک تاریخی جلوس جو پاکستانی چوک سے نکالا گیا جس میں نواب جمال خان لغاری کے بڑے صاحبزادے نواب محمد خان لغاری اور دوسرے مسلم لیگی روسا بھی موجود تھے جب یہ جلوس ڈی سی ہاؤس پہنچا تو انگریز ڈپٹی کمشنر نے بد حواس ہو کر انگریز ایس پی کو جلوس پر لاٹھی چارج کرنے کا حکم دیا۔ تو پولیس نے شرکاء جلوس پر انتہائی بے دردی کے ساتھ لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس چھوڑ دیا لوگ بھاگنے لگے لیکن غلام حیدر نے جھنڈا بلند کیے رکھا یہاں تک پولیس نے انتہالاٹھی چارج سے بے ہوش ہو گئے لیکن بعد میں پاکستان کا جھنڈا پھر سے اْٹھا کر بلند کر دیا جس پر اْسے غلام حیدر پتھر کا لقب دیا گیا اسی جلوس میں مسلم لیگ کے سچے سپاہی ڈاکٹر احمد یار خان پر بھی بے انتہا لاٹھی چارج کیا گیا جس سے وہ بے ہو ش ہو کر گر پڑے ڈاکٹر احمد یار خان ایک سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ادبی شخصیت بھی تھے اْن کے کلینک واقع بلاک نمبر ایکس میں اْن کی ایک علیٰحدہ ادبی بیٹھک ہوا کرتی تھی جہاں پر شام ہوتے ہی اْسی زمانے کے شعراء ، صحافی، ادیب اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب خود ایک اچھے شاعر اور لکھاری بھی تھے افسوس کہ 22 اپریل 1985ء کو وہ پل غازی گھاٹ کے ساتھ ایک کار حادثے میں وفات پا گئے اْن کے وفات پر ڈیرہ غازی خان ایک انتہائی مخلص اور وفا دار شخصیت سے محروم ہو گیا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اْن کی بے حساب بخشش فرمائے۔
اشتہار
مقبول خبریں
قوانین کی اسلامی تعبیر: تین غلط فہمیاں
مہمان کالم
مہمان کالم
قصیدہ گوئی اور مسخرے
مہمان کالم
مہمان کالم
ٹینشن اور ڈپریشن کا علاج
مہمان کالم
مہمان کالم
گلوبل وارمنگ
مہمان کالم
مہمان کالم
سندھ کے خلاف سازش؟
مہمان کالم
مہمان کالم
پرل ہاربر سے خلیج فارس تک
مہمان کالم
مہمان کالم
سبز پرچم، پاسپورٹ اور عوام
مہمان کالم
مہمان کالم
بدلتا عالمی منظر نامہ
مہمان کالم
مہمان کالم
