جامعہ کراچی سے ایک نوجوان ایم اے انگلش کر کے نکلا اور بجائے کہیں لیکچرار لگنے کے وہ نام کمانے کے لیے ایک نئی دنیا میں داخل ہو گیا ،جہاں اس قدر مشہور ہو گیا کہ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ جب دوران سفر اس کی وائٹ کار ٹریفک سگنل پر رکھی تو قریب ہی کھڑی کالج کی لڑکیوں نے اسے پہچان لیا اور اس کی کار کو چومنا شروع کر دیا، دیکھتے ہی دیکھتے کالج کی اور لڑکیاں بھی آ گئیں اور ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا، جب ہجوم ایک طرف ہوا تو اس کی کار لڑکیوں کی سرخی کے کلر سے رنگین ہو چکی تھی۔ یہ پاکستان کی ایک ایسی نامور شخصیت تھی کہ جس کے ہیئر اسٹائل کو پاکستان کے نوجوان کاپی کرتے تھے، جی ہاں، ان کا نام وحید مراد تھا اور یہ پاکستانی فلمی دنیا کے چاکلیٹی ہیرو کہلاتے تھے۔انھوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھتے ہی شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا تھا مگر ایک وقت ایسا آیا کہ فلم انڈسٹری میں ان کے اختلافات ہو گئے اور پھر رفتہ رفتہ ان کے لیے فلم انڈسٹری میں کام کرنا مشکل ہو گیا، یوں وہ سخت ڈپریشن کا شکار ہوئے اور مینٹلی ڈس آرڈر کا شکار ہوگئے اور اسی حالت میں ایک دن صبح اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کی موت طبعی تھی یا کچھ اور معاملہ تھا۔ فلم انڈسٹری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں جس قدر شہرت ملی تھی جب وہ اس مقام سے نیچے آئے تو یہ صورتحال برداشت نہ کر سکے ،یوں ان کی زندگی کا خاتمہ ایک دردناک انداز میں ہوا۔بات یہ ہے کہ انسان جب مینٹلی ڈس آرڈر کا شکار ہو جائے تو پھر کچھ ایسے ہی صورتحال ہوتی ہے اور انسان اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے اور خودکشی کی کوشش تک بھی پہنچ جاتا ہے۔مینٹلی ڈس آرڈر کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں لیکن ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی فرد اپنی زندگی کا کوئی ایسا ’’گول‘‘ یعنی مقصد طے کر لے کہ جس کے آگے دیگر مقاصدکچھ باقی نہ رہیں اور اس گول کے حصول میں ناکامی ہو جائے۔یوں مینٹلی ڈس آرڈر کا اس قدر شدت سے شکار ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے تمام دیگر مقاصد یا ’’گولز‘‘ کو بیکار سمجھتا ہے اور اپنے اس واحد ’’گول‘‘ کے نہ ملنے پر شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی مایوسی اسے بعض اوقات خودکشی تک بھی لے جاتی ہے۔ انسان جب اپنی زندگی گزارتا ہے تو اس کے سامنے ایک دو نہیں بہت سارے مقاصد ہوتے ہیں جن کی وہ ایک ترتیب قائم کرتا ہے اگر انسان صرف ایک مقصد کو ہی تمام مقاصد پر حاوی کر لے تو یہ صورتحال خطرناک ہوتی ہے اور یہی صورتحال اسے مینٹلی ڈس آرڈر تک لے جاتی ہے لیکن جو لوگ اپنے مختلف مقاصد یعنی ’’گول‘‘ کی ترتیب اس طرح سے رکھتے ہیں کہ سب سے اول مقصد نہ بھی حاصل ہو تو دوسر،ا تیسرا یا کوئی اور مقصد حاصل ہو جائے تو بھی قابل قبول ہو، ایسے ہی لوگ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں اور مینٹلی ڈس آرڈر کا شکار نہیں ہوتے۔ مذکورہ مسئلہ آج کے معاشرے کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ عام طور پر لوگ اپنا کوئی ایک مقصد ایسا طے کر لیتے ہیں اور اس کو موت اور زندگی کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، گویا اگر وہ مقصد پورا نہ ہوا تو زندگی کا مقصد ہی بیکار ہے۔ ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو ایسے بہت سارے لوگ نظر آئیں گے جو اسی قسم کے مقصد اپنی زندگی میں لیے بیٹھے ہیں اور یہ عام بات ہے۔ مثلاً تعلیم کی سطح پر دیکھیں تو بیشتر طالب علم اور ان کے گھرانے ایسے ملیں گے جو صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اچھے نمبروں سے پاس کریں اور کوئی اچھا مستقبل حاصل کریں، مثلاً ڈاکٹر بنے۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر بننا اور اچھے نمبر لانا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے لیکن داخلہ ہر ایک کو نہیں مل سکتا جس کی بہت ساری وجوہات ہیں ایسے میں اگر اچھے نمبر نہ آئیں یا داخلہ نہ ملے تو ہمارے ہاں بہت سارے طالب علم نہ صرف مینٹلی ڈس آرڈر میں چلے جاتے ہیں بلکہ ان کے گھر والے بھی طالب علم پر سخت دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ کیوں اچھے نمبر نہیں لایا؟کیوں اس کا داخلہ نہیں ہوا؟ بہت سے گھرانے اپنے بچوں کے دماغ میں بٹھا دیتے ہیں کہ امتحان میں لازمی اچھے لانا ہے اور یہی سب سے اہم مسئلہ اور کامیابی ہے چنانچہ اگر بچہ اس میں ناکام ہو جائے تو بعض اوقات خودکشی کی طرف بھی چلا جاتا ہے۔ غور کریں تو ہمارے ہاں لوگوں میں ایک یہ ٹرینڈ چل نکلا ہے کہ وہ کوئی ایک گول طے کرتے ہیں اور پھر اس کے پیچھے اپنی جان کی بازی لگا دیتے ہیں ۔کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، کوئی مشہور ماڈل بننا چاہتا ہے تو کوئی ملک سے باہر جا کر پڑھنا یا کمانا چاہتا ہے۔ اب ایسے میں اگر ناکامی ہو تو سخت مایوسی پھیلتی ہے اور اس کے نتیجے میں زندگی کے تمام معاملات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف نئی نسل بلکہ ان کے والدین بھی تعلیم سے لے کر عملی زندگی تک کے مختلف مقاصد کے حصول کی صحیح ترتیب بنائیں اور اس میں متبادل بھی رکھیں تاکہ کوئی ایک چیز حاصل نہ بھی ہو تو متبادل راستہ مل سکے اور مایوسی سے بچا جا سکے،اگر ہم دینی لحاظ سے دیکھیں تو سب سے بہتر ترتیب یہ ہوگی کہ نمبر ون پر ہم اپنی زندگی کا مقصد یہ رکھیں کہ ہم نے اپنی آخرت سنوارنی ہے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ دیگر دنیاوی مقاصد ترتیب کے لحاظ سے اس کے بعد آئیں گے، چنانچہ دنیاوی مقاصد میں جہاں جہاں بھی ناکامی ہوگی یا مشکلات آئیں گی تو وہ نمبر ون مقصد سے نیچے ہوں گی، چونکہ نمبر ون مقصد آخرت کی کامیابی ہوگی تو ذہنی طور پہ توجہ آخرت کی کامیابی کے لیے ہوگی اور باقی ٹارگٹ اس کے آگے کم تر ہوں گے، چنانچہ جب ہم انھیں کمتر سمجھیں گے تو اگر اس میں ناکامی ہو بھی گئی تو ہم اس کو با آسانی سہہ لیں گے۔ نئی نسل کو چاہیے کہ اپنے ’’گول‘‘ یا ٹارگٹ میں سب سے پہلے آخرت کی کامیابی کا نمبر رکھیں اور اس کے بعد جتنے بھی ’’گول‘‘ اپنی زندگی کے لیے رکھیں، اس میں متبادل بھی ضرور رکھیں۔ مینٹل ڈس آرڈر کی کئی ساری وجوہات ہوتی ہیں جس میں سے اہم وجہ کی جانب یہاں بات کی گئی ہے اور اس اہم وجہ سے بے شمار وجوہات کا تعلق بنتا ہے۔واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں کروڑوں افراد اس مسئلے کا شکار ہیں جب کہ کراچی میں ہر تین سے چار افراد میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہو سکتا ہے، بعض رپورٹ میں کراچی میں ڈپریشن کی شرح 47 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، یوں دیکھا جائے تو یہ پاکستان اور کراچی جیسے شہر کا ایک اہم اور بڑا مسئلہ ہے لیکن ہمارا اس طرف دھیان نہیں۔ آئیے! سوچیں غور کریں۔
اشتہار
مقبول خبریں
پرل ہاربر سے خلیج فارس تک
مہمان کالم
مہمان کالم
